عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت عرضیاں خارج

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 30-09-2026
عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت عرضیاں خارج
عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت عرضیاں خارج

 



نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے شمال مشرقی دہلی میں فروری 2020 میں ہوئے فسادات سے جڑی مبینہ ’’بڑی سازش‘‘ کے معاملے میں کارکن عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی عرضیاں بدھ کو خارج کر دیں۔ دونوں کے خلاف دہشت گردی مخالف قانون غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت مقدمہ درج ہے۔ جسٹس پرتیبھا ایم سنگھ اور جسٹس دنیش بھٹ کی بنچ نے اس معاملے میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت عرضیاں تیسری مرتبہ خارج کی ہیں۔

بنچ نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے 5 جنوری کے اس حکم میں تبدیلی نہیں کرسکتی، جس میں دونوں ملزمین سے کہا گیا تھا کہ محفوظ گواہوں کی گواہی مکمل ہونے یا حکم جاری ہونے کی تاریخ سے ایک سال کی مدت پوری ہونے، ان دونوں میں سے جو بھی پہلے ہو، اس کے بعد وہ ضمانت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ عدالت نے کہا، ’’اگر ہم ضمانت دیتے ہیں تو ہمیں سپریم کورٹ کے اس حکم میں تبدیلی کرنا ہوگی، جو ہم نہیں کرسکتے۔‘‘

عمر خالد اور شرجیل امام نے ماتحت عدالت کے 4 جولائی کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ ماتحت عدالت نے گرفتاری کے بعد تیسری مرتبہ ان کی ضمانت کی عرضیاں خارج کردی تھیں۔ ماتحت عدالت نے کہا تھا کہ اس کے پاس سپریم کورٹ کے 5 جنوری کے حکم پر عمل کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے، اس لیے وہ ضمانت کی درخواست پر غور یا کوئی راحت نہیں دے سکتی۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ جنوری میں دونوں کی ضمانت عرضیاں خارج کرتے وقت سپریم کورٹ نے ان کے کردار کو دیگر شریک ملزمین سے الگ قرار دیا تھا اور انہیں مبینہ سازش کا ’’نظریاتی سرغنہ‘‘ قرار دیا تھا۔

بنچ نے کہا، ’’مذکورہ بحث اور معاملے کے تمام حقائق، خاص طور پر اپیل کنندگان پر عائد شرائط کو دیکھتے ہوئے، اس عدالت کو ماتحت عدالت کے فیصلے میں کوئی خامی نظر نہیں آتی۔ لہٰذا اپیلیں خارج کی جاتی ہیں۔‘‘ عمر خالد کی جانب سے پیش سینئر وکیل نے دلیل دی کہ ان کا مؤکل چھ سال سے حراست میں ہے اور دیگر شریک ملزمین کو راحت دینے والے سپریم کورٹ کے حکم کو دیکھتے ہوئے اسے ضمانت پر رہا کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 5 جنوری کے حکم کو تقریباً 10 ماہ گزر چکے ہیں، لیکن ماتحت عدالت میں ابھی تک الزامات طے نہیں کیے گئے ہیں۔ شرجیل امام کے وکیل نے بھی کہا کہ ان کا مؤکل تقریباً چھ سال سے حراست میں ہے اور مقدمے کی کارروائی میں تاخیر کو دیکھتے ہوئے اسے ضمانت دی جانی چاہیے۔ دہلی پولیس کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے ضمانت کی عرضیوں کی مخالفت کی۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملزمین فسادات کی ’’بڑی سازش کے اہم سازشی‘‘ ہیں اور سپریم کورٹ پہلے ہی ان کی نئی ضمانت کی درخواستوں پر غور کے لیے وقت کی حد مقرر کرچکی ہے۔ سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے جنوری کے دوسرے ہفتے کے بعد ان معاملات کو غور کے لیے فہرست میں شامل کرنے کی تجویز بھی دی۔ تاہم ملزمین کے وکلا نے عدالت سے اسی مرحلے پر معاملے کا فیصلہ کرنے کی درخواست کی۔ عمر خالد اور شرجیل امام کے خلاف فروری 2020 میں ہوئے فسادات کی مبینہ بڑی سازش میں شامل ہونے کے الزام میں یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ان فسادات میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ شمال مشرقی دہلی میں شہریت ترمیمی قانون 2019 اور قومی شہری رجسٹر (این آر سی) کے خلاف مظاہروں کے دوران تشدد بھڑک اٹھا تھا۔ کارکن خالد سیفی اور عام آدمی پارٹی کے سابق کونسلر طاہر حسین سمیت کئی دیگر افراد پر بھی اس مبینہ بڑی سازش سے متعلق معاملے میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس معاملے کی تحقیقات دہلی پولیس کی اسپیشل برانچ نے کی تھی۔

شرجیل امام کو اس معاملے میں 25 اگست 2020 کو گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ عمر خالد کو 13 ستمبر 2020 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ دہلی ہائی کورٹ کی بنچ نے 2 ستمبر 2025 کو عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت عرضیاں خارج کردی تھیں۔ 5 جنوری کو سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو برقرار رکھا تھا، تاہم شریک ملزمین گل فشاں فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمٰن، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کو راحت دی تھی۔