تریپورہ میں 72 گھنٹے کی شاہراہ ناکہ بندی کی کوشش ناکام، دو پولیس اہلکار زخمی

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 17-10-2026
تریپورہ میں 72 گھنٹے کی شاہراہ ناکہ بندی کی کوشش ناکام، دو پولیس اہلکار زخمی
تریپورہ میں 72 گھنٹے کی شاہراہ ناکہ بندی کی کوشش ناکام، دو پولیس اہلکار زخمی

 



اگرتلہ (تریپورہ): نیشنل لبریشن فرنٹ آف تریپورہ (این ایل ایف ٹی) اور آل تریپورہ ٹائیگر فورس (اے ٹی ٹی ایف) کے ہتھیار ڈال چکے انتہا پسند گروپوں کے کولاجوئے دھڑے کی جانب سے آسام-اگرتلہ قومی شاہراہ پر 72 گھنٹے کی ناکہ بندی کی کوشش کو ہفتے کے روز پولیس اور انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔

اس مجوزہ ناکہ بندی کے باعث بارامورا کے چندر سادھوپ پارا علاقے میں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی، تاہم فی الحال قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق، پہلے سے اعلان کردہ پروگرام کے تحت این ایل ایف ٹی اور اے ٹی ٹی ایف کے کولاجوئے دھڑے سے وابستہ ہتھیار ڈال چکے انتہا پسند گروپوں کے ارکان 72 گھنٹے کی شاہراہ ناکہ بندی میں حصہ لینے کے لیے مہاسپتمی کے دن بارامورا کے چندر سادھوپ پارا پہنچے تھے۔

اطلاع ملنے پر پولیس افسران کے ساتھ جیرانیا سب ڈویژن کے ڈپٹی کلکٹر اور مجسٹریٹ بھی موقع پر پہنچ گئے۔ حکام نے مظاہرین سے بات چیت کی اور ان سے ناکہ بندی واپس لینے کی اپیل کی، لیکن مظاہرین اپنے مطالبے پر قائم رہے اور انتظامیہ کی اپیل کے باوجود احتجاج ختم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد پولیس نے صورت حال کو قابو میں رکھنے کے لیے فوری کارروائی کی اور مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔

حراست میں لیے گئے افراد میں کولاجوئے تریپورہ بھی شامل تھا، جو مبینہ طور پر ناکہ بندی کی قیادت کر رہا تھا۔ اطلاعات کے مطابق، بعد میں انہیں اگرتلہ کے اے ڈی نگر لے جایا گیا۔ اس دوران یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ مظاہرین کو حراست میں لینے کے دوران دو پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا گیا۔ زخمی اہلکاروں کی شناخت پرسنجیت داس اور کاجل دیب برما کے طور پر ہوئی ہے۔

دونوں کو علاج کے لیے اسپتال لے جایا گیا۔ پولیس اور انتظامیہ کی فوری کارروائی کے بعد علاقے میں صورت حال قابو میں بتائی جا رہی ہے اور آسام-اگرتلہ قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔ تہواروں کے موسم میں اس مجوزہ ناکہ بندی کے سبب ٹریفک متاثر ہونے کا خدشہ تھا، تاہم انتظامیہ کی بروقت مداخلت کے باعث آمدورفت میں کوئی بڑی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی۔