جے پور: راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت اور ریاستی کانگریس کے صدر گووند سنگھ ڈوتاسرا سمیت پارٹی کے کئی سینئر رہنماؤں کو پیر کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ کانگریس نے ایس آئی آر میں مبینہ ووٹ چوری اور بے ضابطگیوں کے خلاف ریاستی الیکشن کمیشن کے دفتر تک احتجاجی مارچ نکالا تھا۔ کانگریس کارکن پارٹی کے جھنڈے اور پوسٹر لے کر شہید اسمارک پر جمع ہوئے، جہاں پارٹی رہنماؤں نے انہیں خطاب کیا۔ پوسٹروں میں چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفے اور گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
شہید اسمارک پر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے اور ایم آئی روڈ پر ٹریفک کا رخ تبدیل کردیا گیا تھا۔ مارچ شروع ہونے کے فوراً بعد مظاہرین کو کئی مقامات پر لگائی گئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جب مظاہرین نے بیریکیڈ توڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا۔ احتجاج کے دوران کانگریس کارکنوں نے راجستھان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ٹیکا رام جولی اور سابق وزیر پرتاپ سنگھ کھاچریاواس کو کندھوں پر اٹھا لیا اور نعرے بازی کی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، اشوک گہلوت، گووند سنگھ ڈوتاسرا اور کانگریس کے راجستھان انچارج سکھجندر سنگھ رندھاوا کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔
تھانے میں کانگریس رہنماؤں نے سی ای سی گیانیش کمار اور وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما کے خلاف نعرے لگائے۔ مارچ سے پہلے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ڈوتاسرا نے سی ای سی پر سخت تنقید کی اور انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی، یعنی ایس آئی آر میں مبینہ بے ضابطگیوں کے لیے گیانیش کمار کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار نے ’’جمہوریت کو لوٹ لیا ہے۔‘
‘ ڈوتاسرا نے کہا کہ پیر کا احتجاج صرف شروعات ہے اور کانگریس کارکن اس معاملے کو ریاست کے ہر حصے میں عوام کے درمیان لے کر جائیں گے۔ اشوک گہلوت نے الزام لگایا کہ ملک میں ایک خطرناک کھیل کھیلا جا رہا ہے اور جمہوری اداروں کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’کانگریس کارکنوں کو چوکس رہنا ہوگا۔ یہ کرو یا مرو کی لڑائی ہے۔ کارکن عوام کے درمیان جائیں، ملک کی صورتحال کو سمجھیں اور دیکھیں کہ جمہوریت کو بچانے میں وہ کس طرح اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔‘
‘ ریاست میں حال ہی میں ہونے والے شہری بلدیاتی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ وارڈوں کی ’’من مانی اور غلط‘‘ حد بندی کی وجہ سے کانگریس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شہری بلدیاتی انتخابات میں حکومت نے غنڈہ گردی کی اور پولیس و انتظامیہ کا غلط استعمال کیا۔ رندھاوا نے الزام لگایا کہ بی جے پی جمہوریت ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ کانگریس اسے بچانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس احتجاج کو عوام کے درمیان لے جائے گی اور انہیں اس معاملے سے آگاہ کرے گی۔