نئی دہلی: آل انڈیا امام ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر امام عمر احمد الیاسی اور آل انڈیا مسلم جماعت کے صدر مولانا مفتی شہاب الدین رضوی بریلوی نے مسلم برادری، بالخصوص مساجد کے ائمہ اور نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 10 اکتوبر کو دہلی کے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج میں شامل نہ ہوں۔ دونوں رہنماؤں نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی دھرنے، مظاہرے یا اجتماع سے دور رہیں جس سے ملک میں کشیدگی، بدامنی یا سماجی ہم آہنگی متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔ ڈاکٹر امام عمر احمد الیاسی نے اپنے پیغام میں کہا کہ موجودہ حالات انتہائی حساس ہیں اور ایسے وقت میں جذبات میں آکر کوئی فیصلہ کرنا مناسب نہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بعض ملک مخالف طاقتیں لوگوں کو گمراہ کرکے ملک کے امن و سکون اور بھائی چارے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے مسلم برادری سے اپیل کی کہ وہ سیاسی جماعتوں کے بہکاوے میں نہ آئے اور کسی کے ہاتھوں استعمال ہونے سے بچے۔ انہوں نے کہا، ’’میں تمام مسلمانوں، خاص طور پر مساجد کے ائمہ سے اپیل اور گزارش کرتا ہوں کہ آپ ملک کے موجودہ حالات سے واقف ہیں۔ کچھ طاقتیں لوگوں کو بہکا کر ملک کے ماحول کو خراب کرنا چاہتی ہیں۔ احتجاج میں شامل ہونے کے لیے سیاسی جماعتوں کی جانب سے جو اپیل کی گئی ہے، اس معاملے میں مسلمانوں کو احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ ہم کسی کے ہاتھوں استعمال ہونے کی چیز نہیں ہیں۔‘‘
ڈاکٹر الیاسی نے گزشتہ احتجاجی مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے نوجوانوں کو خبردار کیا کہ پہلے بھی انہوں نے لوگوں سے مظاہروں میں شامل نہ ہونے کی اپیل کی تھی۔ ان کے مطابق، کچھ لوگوں نے ان کی بات مانی، جبکہ بعض افراد احتجاج میں شامل ہوئے اور بعد میں انہیں جیل جانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں متاثرہ خاندانوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ضمانت کا انتظام کرنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مسلم نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ محض احتجاج دیکھنے کے لیے بھی وہاں نہ جائیں، کیونکہ ایسے حالات میں انجانے میں بھی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے والدین سے بھی گزارش کی کہ وہ اپنے بچوں کو ایسے مظاہروں میں شرکت کے لیے نہ بھیجیں۔
ڈاکٹر الیاسی نے دہلی میں دفعہ 144 نافذ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کے دوران گرفتاری کی صورت میں لوگوں کو سنگین قانونی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق، کسی بھی مظاہرے میں شامل ہونے سے پہلے اس کے ممکنہ نتائج پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، کیونکہ اس کا اثر صرف متعلقہ شخص پر نہیں بلکہ اس کے پورے خاندان پر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے مساجد کے ائمہ سے خصوصی طور پر اپیل کی کہ وہ اپنی مساجد کے ذریعے لوگوں کو بیدار کریں، امن برقرار رکھنے کی تلقین کریں اور انہیں کشیدگی پیدا کرنے والی سرگرمیوں سے دور رہنے کا مشورہ دیں۔
سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے بھی ڈاکٹر الیاسی نے احتیاط برتنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے پیغامات آگے نہ بھیجے جائیں جن سے فساد بھڑکنے، باہمی کشیدگی بڑھنے یا ملک کے امن و ہم آہنگی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا اتحاد اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنا سب کی ذمہ داری ہے اور کسی کو بھی سیاسی فائدے کے لیے مسلم برادری کو گمراہ کرنے کا موقع نہیں دینا چاہیے۔ اپنے پیغام کے آخر میں انہوں نے خدا کا واسطہ دیتے ہوئے مسلمانوں سے دوبارہ اپیل کی کہ وہ مجوزہ احتجاج میں شامل نہ ہوں، اپنے بچوں کو بھی اس سے دور رکھیں اور ملک میں امن و سکون برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
دریں اثنا، آل انڈیا مسلم جماعت کے صدر مولانا مفتی شہاب الدین رضوی بریلوی نے بھی مسلم نوجوانوں کو دہلی کے جنتر منتر پر مجوزہ دھرنے سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ بریلی کے اس مذہبی رہنما نے کہا کہ پُرامن دھرنا اور مظاہرہ کرنا ہر شہری کا قانونی حق ہے، لیکن اگر کوئی احتجاج تشدد میں بدل جائے تو اس تشدد کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے دہلی اور اتر پردیش کے مختلف اضلاع میں رہنے والے مسلم نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے منعقد کیے جانے والے مجوزہ دھرنے میں کسی بھی صورت شریک نہ ہوں۔
اپنے بیان میں انہوں نے پارٹی کے حالیہ احتجاج کے دوران تشدد کے واقعات کا ذکر کیا اور کہا کہ پہلے کے مظاہروں میں شامل ہونے والے بعض مسلمانوں کو بعد میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مولانا بریلوی نے برادری کے لوگوں سے صبر و ضبط سے کام لینے اور ایسی سرگرمیوں سے دور رہنے کی اپیل کی جن سے امن و قانون کی صورت حال خراب ہونے کا خدشہ ہو۔ دونوں مذہبی رہنماؤں کی اپیلوں کا بنیادی پیغام امن، احتیاط اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنا ہے۔
انہوں نے مسلم نوجوانوں سے کہا ہے کہ وہ جذبات میں آکر فیصلے نہ کریں، سیاسی جماعتوں کے اثر میں آکر کسی کشیدگی والی سرگرمی کا حصہ نہ بنیں اور سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مواد پھیلانے سے گریز کریں۔ ساتھ ہی والدین اور مساجد کے ائمہ سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ نوجوانوں کی رہنمائی کریں اور ملک میں امن، بھائی چارے اور قانون کی بالادستی برقرار رکھنے میں تعاون دیں۔