نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو انیتا اڈوانی کی وہ اپیل مسترد کر دی، جو انہوں نے مرحوم اداکار راجیش کھنہ کے ساتھ اپنے مبینہ تعلق کو شادی کے طور پر تسلیم کرانے سے متعلق درخواست مسترد کیے جانے کے خلاف دائر کی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کو ’’غیر ضروری مقدمہ بازی‘‘ قرار دیا۔ اڈوانی نے ممبئی ہائی کورٹ کے یکم اپریل کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔ جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس پرسنّا بی ورالے پر مشتمل بنچ نے کہا کہ اس عرضی پر غور کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اسے ’’غیر ضروری مقدمہ بازی‘‘ قرار دیا۔
اڈوانی کے وکیل نے ان کی جانب سے دلیل دیتے ہوئے کہا، ’’میں (درخواست گزار) عزت و وقار کا مطالبہ کر رہی ہوں۔ بالآخر میرے دیوانی مقدمے میں میری جو استدعا ہے، یعنی اس تعلق کو تسلیم کرنے کا اعلان، وہ عزت و وقار کے احساس پر ہی مبنی ہے۔‘‘ جولائی 2012 میں بالی ووڈ اسٹار راجیش کھنہ کے انتقال کے بعد ریلیف حاصل کرنے کے لیے دائر کیا گیا دیوانی مقدمہ ممبئی کی ڈنڈوشی سیشن عدالت نے 2017 میں خارج کر دیا تھا۔ اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے اڈوانی کی جانب سے دائر اپیل کو ہائی کورٹ نے بھی مسترد کر دیا تھا۔ اڈوانی نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ کئی برس تک کھنہ کے ساتھ بغیر شادی کے ایک ساتھ رہنے والے تعلقات (لیو اِن ریلیشن شپ) میں رہی تھیں۔
ان کا الزام تھا کہ کھنہ سے الگ رہنے والی ان کی اہلیہ ڈمپل کپاڈیہ، بیٹی ٹوئنکل کھنہ اور داماد اکشے کمار نے 2012 میں انہیں ممبئی میں واقع بالی ووڈ سپر اسٹار کے بنگلے ’’آشیرواد‘‘ سے باہر نکال دیا تھا۔ اڈوانی نے 2013 میں خواتین کو گھریلو تشدد سے تحفظ فراہم کرنے کے قانون، 2005 کے تحت کپاڈیہ، ان کی بیٹیوں اور داماد کے خلاف مجسٹریٹ کی عدالت میں شکایت درج کرائی تھی۔ اڈوانی نے ہر ماہ نان و نفقہ اور ممبئی کے پوش علاقے باندرہ میں تین بیڈ روم والا فلیٹ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ وہ ’’سازش‘‘ اور ’’داسی‘‘ جیسی چند فلموں میں بھی نظر آئی تھیں۔
ہائی کورٹ نے 2015 میں اڈوانی کی شکایت مسترد کر دی تھی اور کپاڈیہ و ان کے اہل خانہ کی جانب سے کارروائی منسوخ کرانے کے لیے دائر درخواستیں منظور کر لی تھیں۔ کارروائی منسوخ کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ کھنہ کے ساتھ اڈوانی کا تعلق شادی جیسا نہیں تھا، اس لیے وہ خواتین کو گھریلو تشدد سے تحفظ فراہم کرنے والے قانون کے تحت ریلیف حاصل نہیں کر سکتی تھیں۔ ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ مرحوم فلمی اداکار کے خاندان کے تمام افراد کو قانونی کارروائی میں نہیں گھسیٹا جا سکتا، کیونکہ اڈوانی کبھی ان کے ساتھ نہیں رہی تھیں۔