چنڈی گڑھ: ہریانہ کانگریس نے بدھ کو کہا کہ ذات پات کی مردم شماری اسی صورت میں سماجی انصاف کے لیے ایک تاریخی ذریعہ بن سکتی ہے جب ہر ذات اور برادری کی درست، سائنسی اور یکساں انداز میں گنتی کی جائے۔ کانگریس نے کہا کہ مردم شماری کے طریقہ کار اور سوال نامے میں دیگر آئینی اور انتظامی طور پر اہم سماجی زمروں کے ساتھ دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے لیے بھی ایک مناسب اور واضح طور پر قابل شناخت زمرہ ہونا چاہیے۔
کانگریس کے وفد نے حکومت اور مردم شماری کے حکام سے اپیل کی کہ وہ تلنگانہ میں کیے گئے سماجی، معاشی، تعلیمی، روزگار اور سیاسی (سی ای ای پی) ذات پات سروے سے وابستہ ماہرین سے مشورہ کریں اور اس کے طریقہ کار اور تجربے کا تفصیلی مطالعہ کریں۔ تلنگانہ میں یہ سروے کانگریس حکومت کے دور میں کرایا گیا تھا۔ ہریانہ کانگریس کے وفد میں ریاستی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھوپیندر سنگھ ہڈا، ہریانہ کانگریس کے انچارج سنجے دت، ریاستی کانگریس صدر راؤ نریندر سنگھ اور پارٹی کے او بی سی شعبے کے ریاستی چیئرمین چندر پرکاش شامل تھے۔ وفد نے ہریانہ کے گورنر کو ایک یادداشت پیش کی۔
راج ببر، آفتاب احمد اور گیتا بھککل سمیت دیگر رہنما بھی وفد کا حصہ تھے۔ صدر جمہوریہ کے نام دی گئی یادداشت میں کہا گیا، ’’ہم نہایت احترام کے ساتھ یہ یادداشت پیش کرتے ہوئے آئندہ مردم شماری میں ذات پات کی گنتی کے طریقہ کار سے متعلق ایک انتہائی اہم قومی مسئلے کی جانب آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں۔‘‘ یادداشت میں کہا گیا کہ ذات پات کی مردم شماری اسی وقت سماجی انصاف کے لیے ایک تاریخی ذریعہ بن سکتی ہے جب ہر ذات اور برادری کی درست، سائنسی اور یکساں انداز میں گنتی کی جائے۔ کانگریس نے کہا، ’’محض کسی شہری سے اس کی ذات پوچھ لینا کافی نہیں ہے۔
طریقہ کار ایسا ہونا چاہیے کہ ایک ہی ذات یا برادری کے مختلف نام، مترادف نام، علاقائی نام اور ہجے کے فرق کو الگ الگ برادریوں کے طور پر شمار نہ کیا جائے۔‘‘ پارٹی کے مطابق درست گنتی سے درست اعداد و شمار حاصل ہوں گے اور درست اعداد و شمار بہتر سرکاری پالیسی، منصفانہ نمائندگی اور سماجی انصاف کی بنیاد بنیں گے۔ کانگریس نے کہا کہ پورے ہندوستان میں ایک ہی ذات یا برادری کو مختلف ناموں، ذیلی ناموں، پیشوں سے متعلق ناموں، علاقائی مترادفات اور تلفظ یا ہجے کے مختلف طریقوں سے جانا جاتا ہے۔ یادداشت میں کہا گیا، ’’اگر ذات کے نام صرف اسی طرح درج کیے گئے جس طرح شہری نے بتائے، اور اس کے ساتھ سائنسی بنیاد پر تیار کردہ معیاری درجہ بندی اور کوڈنگ کا نظام نہ ہو تو ایک ہی برادری کی آبادی کئی الگ الگ اندراجات میں تقسیم ہوسکتی ہے۔‘‘ کانگریس کے مطابق بعض اوقات معمولی ہجے یا لسانی فرق بھی ایک ہی برادری کے لیے الگ الگ اندراج کا سبب بن سکتے ہیں۔
مسئلہ ان برادریوں کے معاملے میں مزید پیچیدہ ہوجاتا ہے جن کے کئی تاریخی یا علاقائی نام رائج ہیں۔ پارٹی نے کہا کہ اس طرح کی تقسیم سے ذات پات کے اعداد و شمار کی قابل اعتماد حیثیت اور افادیت متاثر ہوسکتی ہے، خاص طور پر او بی سی، انتہائی پسماندہ طبقات، دست کار برادریوں، روایتی پیشہ ور گروہوں اور دیگر محروم طبقات کے معاملے میں۔ کانگریس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ذات پات کی گنتی شروع ہونے سے پہلے مردم شماری کے طریقہ کار اور سوال نامے میں او بی سی کے لیے ایک واضح زمرہ شامل کیا جائے، ساتھ ہی دیگر آئینی اور انتظامی طور پر اہم سماجی زمروں کو بھی مناسب جگہ دی جائے۔
پارٹی نے ہر تسلیم شدہ ذات یا برادری کے لیے اعداد و شمار کے مقصد سے ایک سائنسی طور پر تصدیق شدہ منفرد ذات یا برادری کوڈ مقرر کرنے کی تجویز دی۔ اس نظام کے ذریعے ماہرین کی تصدیق کے بعد ایک ہی برادری کے مترادف، متبادل، علاقائی نام اور ہجے کی مختلف شکلوں کو ایک ہی معیاری کوڈ سے جوڑا جاسکے۔ ساتھ ہی شہری کی جانب سے بتائی گئی ذات کی شناخت کو اصل جواب کے خانے میں محفوظ رکھنے کی تجویز بھی دی گئی، تاکہ شہری کی اپنی شناخت کا احترام برقرار رہے اور اعداد و شمار کو معیاری شکل بھی دی جاسکے۔
کانگریس نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی فہرستوں اور دیگر متعلقہ سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے سائنسی طریقے سے ذات پات کی جامع فہرستیں تیار کی جانی چاہئیں۔ یادداشت میں واضح کیا گیا کہ کسی مترادف یا متبادل نام کو خودکار طور پر کسی دوسری ذات کے ساتھ ضم نہیں کیا جانا چاہیے۔ ایسا صرف سرکاری ریکارڈ، تاریخی و بشریاتی شواہد اور ماہرین سے مشاورت کے بعد ہی کیا جائے۔ ڈیجیٹل مردم شماری کے لیے شمار کنندگان کو مناسب سرچ سہولت رکھنے والا ڈراپ ڈاؤن مینو یا معاون انتخابی نظام فراہم کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔ اس نظام میں عام ہجوں، مترادف ناموں اور علاقائی ناموں کو شناخت کرکے تصدیق شدہ جواب کو متعلقہ معیاری کوڈ سے جوڑنے کی سہولت ہونی چاہیے۔
کانگریس نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی ذات یا برادری کا نام جامع فہرست میں موجود نہ ہو تو اسے درج کرنے کا طریقہ کار ہونا چاہیے اور اس کے بعد ماہرین کے ذریعے اس کی تصدیق کی جانی چاہیے۔ یادداشت میں تجویز دی گئی کہ مردم شماری کا طریقہ کار حتمی شکل دینے سے پہلے ماہرین کا ایک کثیر شعبہ جاتی گروپ تشکیل دیا جائے۔ اس میں سماجیات اور سماجی بشریات کے ماہرین، آبادیاتی ماہرین اور شماریات دان، مردم شماری اور اعداد و شمار کے انتظام کے ماہرین، آئینی اور سماجی انصاف کے ماہرین، تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے ذریعے نامزد نمائندے اور سماجی و ذات برادری کی تنظیموں کے نمائندے شامل ہوسکتے ہیں۔ کانگریس نے کہا کہ ذات پات کی جامع فہرستوں اور کوڈز کو حتمی شکل دینے سے پہلے ریاست وار باقاعدہ مشاورتی عمل بھی شروع کیا جانا چاہیے۔