علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے سال 2026 کے سر سید ایکسیلنس ایوارڈز کا اعلان کردیا ہے۔ یہ اعزازات اے ایم یو کے بانی سر سید احمد خاں کے یوم پیدائش کے موقع پر 17 اکتوبر کو منعقد ہونے والی یوم سر سید تقریب میں پیش کیے جائیں گے۔
سر سید اکیڈمی کے ڈائریکٹر اور ایوارڈ جیوری کے کنوینر پروفیسر شافع قدوائی نے بتایا کہ بین الاقوامی سر سید ایکسیلنس ایوارڈ معروف اسلامی فلسفی اور اسکالر پروفیسر حسین نصر کو دیا جائے گا۔ پروفیسر حسین نصر جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں اسلامیات کے پروفیسر ہیں اور عالمی سطح پر اسلامی فلسفہ اور مذہب کے ممتاز مفکرین میں شمار ہوتے ہیں۔
پروفیسر حسین نصر نے ایم آئی ٹی اور ہارورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے۔ انہوں نے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے فزکس میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد ہارورڈ یونیورسٹی سے جیولوجی اور جیو فزکس میں ایم اے اور سائنس کی تاریخ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
پروفیسر نصر نے اسلامی فلسفہ اور مذہب کے موضوعات پر متعدد اہم کتابیں تصنیف کی ہیں۔ ان کی معروف کتابوں میں ’سائنس اینڈ سویلائزیشن اِن اسلام‘ 1968۔ ’ریلیجن اینڈ دی آرڈر آف نیچر‘ 1996۔ ’دی ہارٹ آف اسلام‘ 2002 اور ’اسلام۔ ریلیجن۔ ہسٹری اینڈ سویلائزیشن‘ 2003 شامل ہیں۔ انہوں نے برطانیہ میں معروف جفّورڈ لیکچرز بھی دیے جنہیں بعد میں ’نالج اینڈ دی سیکرڈ‘ کے عنوان سے 1981 میں شائع کیا گیا۔
قومی سر سید ایکسیلنس ایوارڈ خواجہ بندہ نواز ایجوکیشنل سوسائٹی گلبرگہ کرناٹک کو دیا جائے گا۔ یہ ایک معروف اقلیتی تعلیمی ادارہ ہے جو گلبرگہ کے مشہور صوفی بزرگ خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کی درگاہ کے زیر انتظام چلایا جاتا ہے۔
1958 میں قائم ہونے والی خواجہ بندہ نواز ایجوکیشنل سوسائٹی اس وقت 15 سے زائد تعلیمی ادارے چلا رہی ہے۔ ان میں 2018 میں قائم کی گئی خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی بھی شامل ہے۔ سوسائٹی کے زیر انتظام تقریباً 20 کالج ہیں۔ اس کے علاوہ خواجہ بندہ نواز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز۔ بندہ نواز کالج آف انجینئرنگ۔ بندہ نواز اسکول آف نرسنگ اور متعدد اسکول بھی اس کے تعلیمی نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔
سر سید ایکسیلنس ایوارڈ کے تحت بین الاقوامی زمرے کے فاتح کو دو لاکھ روپے جبکہ قومی زمرے کے فاتح کو ایک لاکھ روپے کی رقم دی جاتی ہے۔ یہ اعزازات سر سید مطالعات۔ جنوبی ایشیائی مطالعات۔ اردو ادب۔ قرون وسطیٰ کی تاریخ۔ سماجی اصلاح۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی۔ صحافت۔ بین المذاہب مکالمے اور دیگر متعلقہ شعبوں میں غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں دیے جاتے ہیں۔
ایوارڈ حاصل کرنے والوں کا انتخاب ایک جیوری نے کیا جس کی توثیق اے ایم یو کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے کی۔ جیوری کے اجلاس کی صدارت پروفیسر آذرمی دخت صفوی نے کی۔
جیوری کے ارکان میں جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کی فیکلٹی آف آرٹس کے سابق ڈین پروفیسر انیس الرحمن۔ خلیق احمد نظامی مرکز برائے مطالعات قرآن اے ایم یو کے اعزازی ڈائریکٹر پروفیسر اے آر قدوائی۔ معروف مصنف اور البرکات ایجوکیشنل سوسائٹی علی گڑھ سے وابستہ سید محمد اشرف۔ فیکلٹی آف آرٹس اے ایم یو کے سابق ڈین پروفیسر امتیاز حسنین اور سر سید اکیڈمی کے ڈائریکٹر پروفیسر شافع قدوائی شامل تھے۔