لدھیانہ: مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے منگل کے روز پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے خلاف آواز اٹھانے والے کارکنوں کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے گرداسپور میں متوفی بکرم جیت سنگھ اور سنگرور میں گلزار سنگھ کے اہل خانہ سے تعزیت کی، جب کہ مانسا میں پرویندر سنگھ جھوٹا کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی۔ ان کارکنوں کی اموات کے بعد ریاست میں منشیات کے کاروبار اور امن و قانون کی صورت حال پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
امیت شاہ نے پنجاب کے دورے کے دوران گرداسپور میں بکرم جیت سنگھ کے گھر پہنچ کر سوگوار خاندان سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے گلزار سنگھ کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی، جن کے بارے میں بتایا گیا کہ انہوں نے علاقے میں چِٹّا (مصنوعی منشیات) فروخت کرنے والوں کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور اسی وجہ سے انہیں جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں امیت شاہ نے اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا، ’’آج گرداسپور میں مرحوم بکرم جیت سنگھ جی کے اہل خانہ سے ملاقات کی، جنہوں نے پنجاب میں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) حکومت کے تحت بے لگام منشیات کے کاروبار کے خلاف آواز اٹھانے کی وجہ سے اپنی جان گنوائی۔ میں نے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ خدا انہیں اس صدمے کو برداشت کرنے کی طاقت عطا کرے۔‘‘
دو مزید معاملات سی بی آئی کے حوالے کرنے کا مطالبہ
پرویندر سنگھ جھوٹا کے قتل کے معاملے کی تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے حوالے کیے جانے کے بعد امیت شاہ نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان سے مطالبہ کیا کہ منشیات کے خلاف سرگرم کارکنوں کی دو دیگر اموات کے معاملات بھی سی بی آئی کے سپرد کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی حکومت ان معاملات کو سنبھالنے کی اہل نہیں ہے۔
ریاست کے ایک روزہ دورے کے اختتام پر لدھیانہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ نے کہا کہ انہوں نے بکرم جیت سنگھ کے اہل خانہ سے گرداسپور، گلزار سنگھ کے اہل خانہ سے سنگرور اور پرویندر سنگھ جھوٹا کے اہل خانہ سے مانسا میں ملاقات کی۔ ان کے مطابق، ان تینوں افراد کو منشیات مافیا کے خلاف آواز اٹھانے کی وجہ سے مبینہ طور پر قتل کیا گیا یا خودکشی پر مجبور ہونا پڑا۔
جھوٹا کے قتل کی تحقیقات کے حوالے سے امیت شاہ نے یقین دہانی کرائی کہ سی بی آئی ملزموں کے اثر و رسوخ سے قطع نظر ان کے خلاف کارروائی کرے گی۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ بھگونت مان پر تنقید کرتے ہوئے کہا، ’’آج صبح اپنی سالگرہ منانے کے بعد واپس آکر بھگونت مان جی نے ایک اچھا کام کیا کہ ایک معاملے کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کردی۔ میں پنجاب کے لوگوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اس معاملے میں جو بھی قصوروار پایا جائے گا، خواہ وہ کتنا ہی طاقت ور یا بڑا شخص کیوں نہ ہو، ہم اسے زمین کی گہرائیوں سے بھی تلاش کرکے قانون کے حوالے کریں گے۔ ہم اسے عدالت کے سامنے پیش کریں گے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’آج میں وزیر اعلیٰ سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ ان معاملات کو سنبھال نہیں پائیں گے۔ باقی دو معاملات بھی سی بی آئی کے حوالے کردیں۔ متاثرہ خاندانوں کا مطالبہ بھی یہی ہے۔‘‘
منشیات کی صورت حال سرکاری رپورٹوں سے کہیں زیادہ سنگین: شاہ
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں اور مقامی لوگوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کی جو صورت حال بیان کی، وہ سرکاری فائلوں اور رپورٹوں میں درج معلومات سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔
امیت شاہ نے کہا، ’’ان تینوں خاندانوں سے ملاقات کے علاوہ میں نے ان مقامی لوگوں سے بھی بات کی جو چِٹّا (منشیات) کے کاروبار سے پریشان تھے اور ان کے گھروں پر جمع ہوئے تھے۔ پنجاب کی صورت حال کے بارے میں انہوں نے جو کچھ بتایا، وہ دہلی میں سرکاری کاغذات میں پڑھی جانے والی رپورٹوں سے کہیں زیادہ دل دہلا دینے والا اور تکلیف دہ تھا۔‘‘
انہوں نے پنجاب میں منشیات کے غیر قانونی کاروبار کو ختم کرنے کے لیے 31 دسمبر 2029 کی آخری تاریخ مقرر کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ مرکزی حکومت منشیات مخالف کارکنوں کے قتل میں ملوث افراد کی شناخت کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہے۔
امیت شاہ نے کہا، ’’وجے دشمی کے موقع پر انصاف اور منشیات سے پاک پنجاب کے لیے ہمارا عزم پختہ ہے۔ سی بی آئی کے تحقیقات سنبھالنے کے بعد ان قتل کے معاملات میں ملوث افراد خواہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں، انہیں تلاش کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ہمارا عزم واضح ہے کہ 31 دسمبر 2029 تک پنجاب کو منشیات کے کاروبار سے پاک کردیا جائے گا۔ ہم نشہ مکت پنجاب کی تعمیر کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘
مرکزی حکومت کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے شاہ نے کہا، ’’مودی حکومت کا ریکارڈ یہ ہے کہ ہم نے اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنا کر دکھایا ہے۔ آرٹیکل 370 ختم کیا گیا، دہشت گردی خاتمے کے قریب ہے اور نکسل ازم کا خاتمہ کیا گیا ہے۔ اب ہم منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے بعد ہی سکون سے بیٹھیں گے۔ ان تین بہادر افراد کو خراج عقیدت پیش کرنے کا اس سے بڑا طریقہ کوئی نہیں ہوسکتا جنہوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔‘‘
عوام سے منشیات کی اسمگلنگ کی اطلاع دینے کی اپیل
امیت شاہ نے پنجاب کے عوام سے اپیل کی کہ وہ منشیات کے غیر قانونی کاروبار سے متعلق معلومات براہ راست نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کو فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریاستی حکومت کارروائی نہیں کرتی تو مرکزی ایجنسیاں مداخلت کریں گی۔
انہوں نے کہا، ’’میں پنجاب کے لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ منشیات کے کاروبار سے متعلق کوئی بھی اطلاع نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی ہیلپ لائن پر دیں۔ اگر پنجاب حکومت کارروائی کرتی ہے تو اچھی بات ہے، لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتی تو ہم کارروائی کریں گے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اور مودی حکومت یہ کام کرے گی۔‘‘
انہوں نے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ وجے دشمی کے دن وہ اس ارادے کے ساتھ پنجاب سے جا رہے ہیں کہ 31 دسمبر 2029 تک پوری ریاست کو منشیات کے کاروبار سے آزاد کردیا جائے گا۔
بھگونت مان کا جوابی حملہ: انتخابات قریب آئے تو پنجاب کی فکر ستانے لگی
پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے امیت شاہ کے دورے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات قریب آنے کے بعد ہی انہیں پنجاب کی فکر لاحق ہوئی ہے۔
مان نے کہا، ’’2007 سے 2017 تک پنجاب میں اکالی دل کے ساتھ آپ کی حکومت تھی۔ اس دوران جب نشے کا استعمال بڑھا اور منشیات کی مقدار میں اضافہ ہوا، تب آپ کو پنجاب کو بچانے کی فکر کیوں نہیں ہوئی؟ آپ نے اس وقت کوئی کارروائی کیوں نہیں کی؟‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’میں نے آپ کے ساتھ کئی ملاقاتیں کی ہیں۔ اینٹی ڈرون نظام لائیے۔ پاکستان کے ساتھ ہماری 500 کلومیٹر طویل سرحد ہے، لیکن آپ ہمیں یہ نظام لانے نہیں دیتے۔‘‘بھگونت مان نے کہا کہ پنجاب کے عوام سب کچھ سمجھتے ہیں اور وہ بہت سمجھ دار ہیں۔
منیش سسودیا اور سوربھ بھاردواج نے بھی امیت شاہ کو نشانہ بنایا
عام آدمی پارٹی کے رہنما منیش سسودیا نے بھی امیت شاہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا، ’’امیت شاہ جی، سوگوار خاندان کے غم پر سیاست نہ کریں۔ پنجاب میں منشیات کا جال 2007 سے 2017 کے دوران اکالی دل اور بی جے پی کی حکومت کے وقت پھیلا تھا۔‘‘
دہلی میں عام آدمی پارٹی کے صدر سوربھ بھاردواج نے بھی مرکزی وزیر داخلہ پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں منشیات کی کاشت نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کی اجازت ہے، اس لیے ملک میں داخل ہونے والی منشیات سرحد پار سے آتی ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’سرحدوں کی حفاظت کس کی ذمہ داری ہے؟ یہ ذمہ داری بی جے پی، مرکزی حکومت اور خود وزیر داخلہ امیت شاہ کی ہے۔ منشیات کی اسمگلنگ روکنا کس کا کام ہے؟ یہ ذمہ داری بھی امیت شاہ کی ہے۔‘‘
امیت شاہ کا جواب: میں سوگوار خاندانوں کو تسلی دینے آیا تھا
اپنے دورے پر ہونے والی سیاسی تنقید کا جواب دیتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ ان کا دورہ خالصتاً انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھا اور اس کا کوئی سیاسی مقصد نہیں تھا۔
انہوں نے کہا، ’’آج میں صرف غم زدہ خاندانوں کو تسلی دینے آیا تھا۔ میرا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں تھا۔ اس کے باوجود میرے خلاف نام لے کر توہین آمیز زبان استعمال کی گئی۔ میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے گالیاں دینے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اگر ایسا کرنے سے آپ کو اطمینان ملتا ہے تو ضرور ایسا کریں، لیکن کم از کم منشیات کے کاروبار کو تو ختم کریں۔ چِٹّا کے کاروبار کو تو بند کریں۔‘‘
جھوٹا کے اہل خانہ کو سی بی آئی کی یقین دہانی
پنجاب بی جے پی کے صدر سنیل جاکھڑ نے پرویندر سنگھ جھوٹا کے اہل خانہ سے امیت شاہ کی ملاقات کے بارے میں بتایا کہ خاندان کو کارروائی کے وقت اور تحقیقات کی مدت سے متعلق تشویش تھی۔
انہوں نے کہا کہ اہل خانہ کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اگلے دن دوپہر 12 بجے تک سی بی آئی کے افسران ان سے ملاقات کریں گے، ان کے بیانات قلم بند کریں گے، خدشات اور تحفظات درج کریں گے اور اس بارے میں معلومات حاصل کریں گے کہ اس معاملے کے پیچھے کون ہوسکتا ہے۔
جاکھڑ کے مطابق، خاندان کو یقین دلایا گیا ہے کہ اس واقعے میں ملوث کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا اور تمام قصورواروں کو سزا دلانے کے لیے کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پرویندر کے والد نے اس موقع پر بڑی بردباری کا مظاہرہ کیا۔
امیت شاہ کا یہ دورہ پنجاب میں منشیات کے مسئلے پر جاری سیاسی بحث کے درمیان ہوا ہے۔ بی جے پی نے عام آدمی پارٹی کی حکومت پر منشیات کے بحران سے نمٹنے میں ناکامی کا الزام لگایا ہے۔ شاہ اس سے قبل الزام عائد کرچکے ہیں کہ پنجاب میں چِٹّا، جو عام طور پر ہیروئن کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے، کا کاروبار اے اے پی حکومت کی سرپرستی میں پھل پھول رہا ہے۔