لکھنو: الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے لکھنؤ کے ضلع مجسٹریٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ تین ماہ کے اندر تیلی باغ علاقے میں واقع ’رام بھروسے میکو لال انٹر کالج‘ کی زمین سے تمام غیر قانونی قبضے ہٹوائیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ قبضہ کرنے والوں میں سے ایک شخص اتر پردیش کے وزیر خزانہ کا عوامی رابطہ افسر (پی آر او) ہے، لیکن اس بات کا ضلع مجسٹریٹ کے کام پر کوئی اثر نہیں پڑنا چاہیے۔ جسٹس پنکج بھاٹیا کی یک رکنی بنچ نے کالج کی انتظامی کمیٹی کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے یہ حکم دیا۔
عدالت نے ضلع مجسٹریٹ کو ہدایت دی کہ وہ حکم پر مکمل طور پر عمل کریں اور تین ماہ کے اندر اپنے دستخط کے ساتھ تعمیلی رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔ عدالت نے خبردار کیا کہ قبضہ ہٹانے کی کارروائی میں کالج کے سابق پرنسپل اور وزیر خزانہ کے پی آر او سکھ پال سنگھ کی جانب سے کسی بھی طرح کی مداخلت کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔ عدالت نے حکم کی ایک نقل وزیر خزانہ کو بھی بھیجنے کی ہدایت دی۔ انتظامی کمیٹی نے الزام لگایا کہ سکھ پال سنگھ نے 1988 سے 31 جنوری 2017 تک کالج کے پرنسپل کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے مکان کا کرایہ الاؤنس حاصل کیا تھا۔
کمیٹی نے اس رقم کی وصولی کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ الزام لگایا گیا کہ ریٹائر ہونے کے بعد بھی سنگھ پرنسپل کی سرکاری رہائش گاہ میں رہتے رہے۔ کمیٹی نے غیر قانونی قبضے کی مدت کے لیے موجودہ شرح کے مطابق کرایہ وصول کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ عدالت میں پیش کی گئی ریاستی حکومت کی رپورٹ کے مطابق، کالج کو منظوری ملنے کے وقت انتظامی کمیٹی نے گاتا نمبر 41 اور 44 کی زمین کو ادارے کی ملکیت کے طور پر درج کیا تھا۔ اس زمین میں اسکول کی عمارت، پرنسپل کا دفتر، اسکول کا دفتر، دیگر عمارتیں اور خالی زمین شامل تھی۔
رپورٹ سے معلوم ہوا کہ اس جائیداد کے مختلف حصوں پر الگ الگ لوگوں نے قبضہ کر رکھا تھا۔ عدالت نے ابتدائی طور پر پایا کہ متعدد افراد اس زمین پر قابض ہیں جسے کالج کی ملکیت کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ یہ بھی سامنے آیا کہ سکھ پال سنگھ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پرنسپل کی رہائش گاہ میں رہ رہے تھے۔ تاہم، سکھ پال سنگھ کے وکیل نے دلیل دی کہ متعلقہ جائیداد پر ان کے دادا کا قبضہ تھا اور وہ وراثت کی بنیاد پر وہاں رہ رہے ہیں۔ لیکن وہ اپنے دعوے کی حمایت میں کوئی دستاویز پیش نہیں کر سکے۔ عدالت نے ضلع مجسٹریٹ کو ہدایت دی کہ کالج کو منظوری ملنے کے وقت اس کی ملکیت کے طور پر درج زمین سے تمام غیر مجاز قبضے ہٹوائے جائیں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر سکھ پال سنگھ بھی ادارے کی زمین پر قابض پائے جاتے ہیں تو ان سے بھی قبضہ خالی کرایا جائے۔ عدالت نے حکم کی ایک نقل وزیر خزانہ کو بھی بھیجنے کی ہدایت دی۔