نئی دہلی: سپریم کورٹ نے 2008 میں احمد آباد میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں میں ملوث ہونے کے جرم میں سزا یافتہ انڈین مجاہدین کے ایک رکن محمد تنویر کی سزائے موت پر روک لگا دی ہے۔ ان دھماکوں میں 56 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس اپریش کمار سنگھ پر مشتمل بنچ نے مجرم محمد تنویر کی درخواست پر سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
تنویر نے گجرات ہائی کورٹ کے 7 جولائی کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے سلسلہ وار بم دھماکوں کے معاملے میں دہشت گرد تنظیم انڈین مجاہدین کے 38 ارکان کو سنائی گئی سزائے موت برقرار رکھی تھی۔ ہائی کورٹ نے سزائے موت برقرار رکھنے کی اہم وجوہات میں بڑی تعداد میں لوگوں کی ہلاکت، سازش کے وسیع دائرے اور بڑے پیمانے پر دہشت پھیلانے کے ارادے کا ذکر کیا تھا۔
احمد آباد کے مختلف علاقوں میں 26 جولائی 2008 کو صرف 70 منٹ کے اندر 21 بم دھماکے ہوئے تھے۔ ان میں 56 افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ سپریم کورٹ نے 9 اکتوبر کو اپنے حکم میں کہا تھا کہ درخواست گزار محمد تنویر کو سنائی گئی سزائے موت پر روک برقرار رہے گی۔ عدالت نے نچلی عدالت اور ہائی کورٹ سے مقدمے کا اصل ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے گجرات حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ آٹھ ہفتوں کے اندر تنویر سے متعلق تمام پروبیشن افسران کی رپورٹیں پیش کرے۔ عدالت نے متعلقہ جیل سپرنٹنڈنٹ کو بھی آٹھ ہفتوں کے اندر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے، جس میں جیل کے اندر تنویر کے کام کی نوعیت، اس کے طرزِ عمل اور برتاؤ کی تفصیلات شامل ہوں گی۔ اس معاملے میں اگلی سماعت 12 ہفتے بعد ہوگی۔