نئی دہلی: گوہاٹی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ آسام انتظامیہ گوالپاڑہ ضلع میں نجی زمین پر بنے 21 رہائشی مکانات کو منہدم کرنے کے معاملے میں قانون کا ’’غلط استعمال‘‘ کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔
جسٹس دیواشیس بروا نے رواں ماہ کے اوائل میں نجی زمین پر بنے مکانات کو منہدم کیے جانے کے خلاف 21 افراد کی جانب سے دائر عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں ایسا لگتا ہے کہ نجی زمین پر بنے مکانات کو منہدم کرنے جیسی سخت کارروائی کو درست ثابت کرنے کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے۔
ہائی کورٹ نے 11 ستمبر کو جاری اپنے حکم میں کہا، ’’بلکہ بادی النظر میں یہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ، 2005 کے غلط استعمال کا معاملہ بھی معلوم ہوتا ہے۔‘‘ عدالت نے ضلع کمشنر اور سرکل افسر کو اس کارروائی سے متعلق تمام کارروائیوں کے بارے میں حلف نامہ داخل کرنے کا موقع دیا ہے۔