خواتین کے بیضے نکال کر فروخت کرنے والے گروہ کے خلاف کاروائی

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 22-10-2026
خواتین کے بیضے نکال کر فروخت کرنے والے گروہ کے خلاف کاروائی
خواتین کے بیضے نکال کر فروخت کرنے والے گروہ کے خلاف کاروائی

 



نئی دہلی: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے جمعرات کو کہا کہ اس نے مہاراشٹر میں خواتین کے بیضے غیر قانونی طور پر نکال کر فروخت کرنے والے ایک گروہ سے متعلق منی لانڈرنگ کے معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں مختلف شہروں میں چھاپے مارنے کے بعد 29 لاکھ روپے نقد ضبط کیے ہیں۔

اس کے علاوہ کئی بینک لاکروں اور میوچوئل فنڈ میں کی گئی سرمایہ کاری سے لین دین پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ معاملہ ایک منظم نیٹ ورک سے متعلق ہے، جو معاشی طور پر کمزور خواتین کو بیضے عطیہ کرنے کے لیے تیار کرتا تھا۔ اس کے بعد مختلف کمپنیوں کے تحت کام کرنے والے ’ڈونر سپلائی ایجنٹ‘ ان خواتین کو آئی وی ایف مراکز اور معاون تولیدی ٹیکنالوجی (اے آر ٹی) کے بینکوں کو فراہم کرتے تھے۔

ای ڈی نے الزام لگایا کہ آئی وی ایف مراکز اور اے آر ٹی بینکوں کی جانب سے ایجنٹوں کے ذریعے دیے جانے والے مالی معاوضے کے بدلے خواتین کو بیضے عطیہ کرنے کے لیے آمادہ کیا جاتا تھا۔ ایجنٹوں کو بھی اس طرح کی سرگرمیوں کے عوض کمیشن ملتا تھا۔ مرکزی تحقیقاتی ایجنسی نے 16 اکتوبر کو مہاراشٹر کے تھانے، بارامتی اور ناسک اضلاع میں واقع بعض اسپتالوں اور آئی وی ایف مراکز پر چھاپے مارے تھے۔

ای ڈی نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت یہ معاملہ تھانے پولیس کی درج کردہ ایک ایف آئی آر کی بنیاد پر قائم کیا ہے۔ ایجنسی کو شبہ ہے کہ بیضے عطیہ کرنے والی خواتین کی شناخت چھپانے، ان سے بار بار بیضے عطیہ کرانے اور انہیں طبی اعتبار سے صحت مند ظاہر کرنے کے لیے جعلی دستاویزات استعمال کیے گئے۔ ان دستاویزات میں آدھار کارڈ، حلف نامے، رضامندی کے خطوط، پیدائش کے سرٹیفکیٹ، پین کارڈ، خون کی جانچ کی رپورٹیں اور بیمے سے متعلق کاغذات شامل تھے۔