نئی دہلی: دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے ہفتہ کو اوکھلا، غازی پور اور سنگھولا میں کچرے کے پہاڑوں والی جگہوں پر کچرا پروسیسنگ سہولیات کا سنگ بنیاد رکھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ ڈیڑھ سال میں شہر کے تین کچرے کے پہاڑوں والی جگہوں سے 100 ایکڑ زمین خالی کرائی ہے۔ ان سہولیات کا مقصد کچرے اور تعمیرات و انہدام سے نکلنے والے ملبے کو پروسیس کرنا اور شہر میں کچرے کے نئے پہاڑ بننے سے روکنا ہے۔
اوکھلا میں پروگرام کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ریکھا گپتا نے کہا کہ حکومت دو محاذوں پر کام کر رہی ہے۔ ایک طرف موجودہ کچرے کے پہاڑوں سے پرانا کچرا ہٹایا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف یہ یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ روزانہ پیدا ہونے والے کچرے کو جمع کرنے کے بجائے اسے مسلسل پروسیس کیا جائے۔
انہوں نے کہا، ’’آج اوکھلا میں ہم جنوری 2025 سے پہلے موجود تقریباً پورے پرانے کچرے کو پروسیس کر چکے ہیں۔‘‘ ریکھا گپتا نے بتایا کہ اس مقام پر روزانہ تقریباً 3,000 سے 4,000 میٹرک ٹن کچرا پہنچتا ہے اور نئی یونٹ کے ذریعے اس کچرے کو باقاعدگی سے پروسیس کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت موجودہ کچرے کے پہاڑوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کی سمت میں کام کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’لوگ دیکھ رہے ہیں کہ کچرے کے پہاڑ مسلسل چھوٹے ہو رہے ہیں اور جلد ہی ایسا وقت آئے گا جب یہ پوری طرح ختم ہو جائیں گے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ کچرا پروسیسنگ کی ان سہولیات سے بایو گیس، سبز توانائی اور کھاد بھی تیار کی جائے گی۔ ریکھا گپتا نے کہا، ’’کچرا صرف کچرا نہیں رہنا چاہیے، دہلی کو اسے دولت کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔‘
‘ انہوں نے بتایا کہ کچرے کو الگ کرنے اور اس کی پروسیسنگ کے لیے نئی ٹیکنالوجی اپنائی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شہر میں ٹیکنالوجی پر مبنی کچرا انتظام کا نظام تیار کرنے کی کوششوں کے تحت کچرے اور مویشیوں کے گوبر سے بایو گیس اور کھاد تیار کی جائے گی۔