نئی دہلی: سپریم کورٹ نے عام آدمی پارٹی (آپ) کے رکن اسمبلی چیتَر وساوا کو بیمار سوتیلے بھائی کی دیکھ بھال کے لیے 3 دن کی عبوری ضمانت دے دی ہے۔ گجرات کی ایک عدالت نے انہیں 2023 کے ایک فوجداری مقدمے میں 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس اپریش کمار سنگھ پر مشتمل بنچ نے طبی دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ عرضی گزار کی درخواست پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غور کیا جانا چاہیے۔ بنچ نے کہا، ’’عرضی گزار کے سوتیلے بھائی کی نازک حالت ایسی صورت حال ہے جس میں رعایت دی جانی چاہیے۔‘
‘ عدالت نے کہا کہ وساوا کو کچھ وقت کے لیے اپنے بیمار سوتیلے بھائی کی دیکھ بھال کرنے کی اجازت دینے سے کسی نقصان کا اندیشہ نہیں ہے، خاص طور پر جب سخت شرائط عائد کرکے ان کی آزادی کو مناسب طور پر محدود کیا جا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے منگل کو وساوا کی اس عرضی پر سماعت کے دوران یہ حکم دیا، جس میں انہوں نے گجرات ہائی کورٹ کے 16 اکتوبر کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے انہیں ایک دن کے لیے، صبح 7 بجے سے شام 7 بجے تک، عارضی ضمانت پر رہا کرنے کی اجازت دی تھی تاکہ وہ اپنے سوتیلے بھائی کی دیکھ بھال کر سکیں۔
بتایا گیا ہے کہ ان کے سوتیلے بھائی کی حالت تشویش ناک ہے اور وہ سورت کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ وساوا نے ہائی کورٹ سے 30 دن کی عبوری ضمانت طلب کی تھی۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں ذکر کیا کہ عرضی گزار کو ایک فوجداری مقدمے میں قصوروار قرار دیتے ہوئے 7 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ عدالت نے مزید بتایا کہ ہائی کورٹ نے 31 جولائی کو ان کی سزا کے خلاف اپیل سماعت کے لیے قبول کر لی تھی، لیکن سزا پر روک لگانے کی درخواست 24 اگست کو مسترد کر دی گئی تھی۔ وساوا کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکلا کپل سبل اور شادان فراست نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی ایک دن کی عبوری ضمانت ’’بالکل ناکافی‘‘ ہے۔
انہوں نے اس کی وجوہات میں وساوا کے سوتیلے بھائی کی تشویش ناک حالت، جیل اور اسپتال کے درمیان فاصلے اور ان کے مزید علاج کے انتظامات کرنے کی ضرورت کا حوالہ دیا۔ گجرات حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ عرضی گزار اور ان کے سوتیلے بھائی کے درمیان ’’بات چیت نہیں ہوتی ہے‘‘۔ بنچ نے کہا، ’’ریکارڈ پر موجود طبی دستاویزات اور معاملے کے مخصوص حقائق و حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہماری رائے ہے کہ عرضی گزار کی درخواست پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غور کیا جانا چاہیے۔‘
‘ ہائی کورٹ کے حکم میں ترمیم کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ وساوا کو ان کی رہائی کی اصل تاریخ سے 3 دن کے لیے عارضی ضمانت پر رہا کیا جائے۔ اس کے لیے انہیں متعلقہ جیل انتظامیہ کے اطمینان کے مطابق 25,000 روپے کا ذاتی مچلکہ جمع کرانا ہوگا۔ عدالت نے کہا کہ وساوا کو متعلقہ جیل سے سورت لے جانے اور وہاں سے واپس لانے کے لیے کم سے کم پولیس سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ پولیس سکیورٹی اور عارضی رہائی کے دوران آمد و رفت پر آنے والا پورا خرچ وساوا کو خود برداشت کرنا ہوگا۔
بنچ نے یہ بھی ہدایت دی کہ عبوری ضمانت کی مدت کے دوران وساوا کسی عوامی جلسے سے خطاب نہیں کریں گے، کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیں گے، میڈیا سے بات چیت نہیں کریں گے اور نہ ہی کوئی عوامی بیان جاری کریں گے۔ گجرات کی ایک ماتحت عدالت نے 23 جون کو جنگلات کے اہلکاروں پر حملے اور جبراً وصولی کے 2023 کے ایک مقدمے میں وساوا، ان کی اہلیہ اور 7 دیگر افراد کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔