سمیر شیخ
مسلم نوجوانوں کو اپنے کردار و اخلاق کی اصلاح اور زندگی میں صحیح راستے کے انتخاب کے لیے کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اسلام ہی ان کے لیے بہترین رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ حافظ مولانا توفیق اشرفی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے مسلم نوجوانوں کو اچھے اخلاق اپنانے اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔’آواز دی وائس‘ کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے نوجوانوں کو اچھے کردار کی اہمیت حلال و حرام کی تمیز اور انٹرنیٹ کے بے جا استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات کے بارے میں اہم رہنمائی فراہم کی۔
اسلام اچھے اخلاق کا بہترین راستہ
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ بے شک آپ اخلاق کے بلند ترین مرتبے پر فائز ہیں۔مولانا توفیق اشرفی نے ’آواز دی وائس‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سچا مومن وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے کسی دوسرے انسان کو نقصان نہ پہنچے۔ اگر کوئی مسلمان نوجوان اس ایک اصول کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لے کہ اس کے قول و فعل سے کسی کو تکلیف نہیں پہنچے گی تو اس کے اندر خود بخود بہت سی خوبیاں پیدا ہو جائیں گی۔ان کے مطابق معاشرے کے لیے ایک اچھا اور مفید انسان بننے کا سب سے آسان راستہ یہی ہے کہ انسان اپنے اخلاق اور کردار کو بہتر بنائے اور دوسروں کے لیے تکلیف کا سبب نہ بنے۔
حلال اور حرام کی کمائی میں فرق سمجھنا ضروری
مولانا اشرفی نے کہا کہ موجودہ دور میں مسلم نوجوانوں کے لیے حلال اور حرام کے درمیان فرق کو سمجھنا اور اس کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ ایک اچھا مسلمان بننے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی زندگی میں حلال اور جائز طریقوں کو اختیار کرے۔اسلام میں شراب اور نشہ آور اشیا سمیت حرام چیزوں کے استعمال کی سخت ممانعت ہے۔ اسی طرح حلال روزی کمانے کے لیے کاروبار اور ملازمت میں دیانت داری اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ کسی کو دھوکہ دے کر یا جھوٹ بول کر پیسہ کمانا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔مولانا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص کاروبار کے دوران جھوٹ بولتا ہے تو محض کاروبار کا جائز ہونا کافی نہیں ہے۔ جھوٹ اور دھوکہ دہی کے ذریعے حاصل ہونے والی کمائی بھی ناجائز ہو جاتی ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ آج کے بہت سے نوجوان حلال و حرام کی ان باریکیوں کو اچھی طرح نہیں سمجھتے اور اسی وجہ سے غلط راستے پر چل پڑتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نوجوان ان اسلامی اصولوں کو سمجھ کر اپنی زندگی میں نافذ کریں تو اس کے مثبت اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوں گے۔
انٹرنیٹ سے اسلام سیکھنے میں احتیاط ضروری
موبائل فون اور انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال کے حوالے سے مولانا اشرفی نے نوجوانوں کو خاص طور پر محتاط رہنے کی تلقین کی۔انہوں نے کہا کہ آج کل بہت سے نوجوان اسلام کو سمجھنے کے لیے انٹرنیٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ وہاں بعض لوگ قرآن مجید کی آیات کا غلط مطلب بیان کرکے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اکثر انٹرنیٹ پر کسی آیت کا محض ترجمہ پیش کیا جاتا ہے جبکہ اس کے پس منظر اور سیاق و سباق کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ حالانکہ کسی بھی آیت کو درست طور پر سمجھنے کے لیے اس کے نزول کے حالات اور مکمل مفہوم کو جاننا ضروری ہے۔مولانا اشرفی نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے دین سیکھنے کے بجائے مساجد میں جائیں اور اپنے علاقے کے مستند علمائے کرام سے اسلامی تعلیمات کو سمجھیں۔ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی یاد انسان کے ذہن کو برائیوں سے دور رکھتی ہے۔ دین کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے مساجد میں جانا اور ائمہ و علمائے کرام سے رہنمائی حاصل کرنا زیادہ بہتر راستہ ہے۔
انٹرنیٹ کے فتنے اور قومی سلامتی کے خطرات
مولانا توفیق اشرفی نے موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے ہونے والی دھوکہ دہی کے ایک سنگین پہلو کی جانب بھی توجہ دلائی۔انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ پر کسی نامعلوم شخص یا تنظیم سے رابطہ کرتے وقت یہ جاننا آسان نہیں ہوتا کہ اس کا تعلق کس ملک یا ادارے سے ہے اور اس کے اصل مقاصد کیا ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ آج کل بعض نامعلوم افراد انٹرنیٹ کے ذریعے نوجوانوں سے مخصوص علاقوں کی تصاویر اور ویڈیوز طلب کرتے ہیں اور اس کے بدلے رقم دینے کا لالچ دیتے ہیں۔ بظاہر آسانی سے ملنے والی رقم کا یہ لالچ نوجوانوں کو بڑے خطرے میں ڈال سکتا ہے۔مولانا کے مطابق نوجوانوں کو سمجھنا چاہیے کہ کوئی بھی شخص بلاوجہ مفت میں پیسے نہیں دیتا۔ ان کی فراہم کردہ تصاویر اور معلومات کو کوئی نامعلوم شخص ملک کے خلاف غلط مقاصد کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔انہوں نے نوجوانوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ موبائل فون کا استعمال انتہائی احتیاط سے کرنا چاہیے کیونکہ ایک چھوٹی سی غلطی نہ صرف خود نوجوان بلکہ اس کے پورے خاندان کے لیے پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔
(مصنف آواز دی وائس مراٹھی کے ایڈیٹر ہیں۔)