نئی دہلی: سپریم کورٹ نے تہوار کے دوران چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) کے خلاف ہونے والے مظاہروں پر پابندی لگانے کی درخواست پر مرکزی حکومت اور دیگر فریقوں سے جواب طلب کرتے ہوئے منگل کو کہا کہ کسی مظاہرے کی جگہ پر ہمیشہ کے لیے قبضہ کرکے نہیں رکھا جا سکتا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ کئی درخواستوں کی سماعت کر رہی تھی۔ ان میں کرانہ کمیٹی دہلی کی درخواست بھی شامل ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ رام لیلا میدان میں مظاہروں کی وجہ سے کاروبار کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا، ’’آپ کسی جگہ پر ہر وقت قبضہ کرکے نہیں رکھ سکتے۔ کسان، صحافی اور دوسرے لوگ پھر کہاں جائیں گے؟ ہر کسی کو احتجاج کرنے کا حق ہے۔ اس کے لیے ایک مقررہ مدت اور وقت طے ہونا چاہیے۔‘‘ بنچ تاجروں کی درخواست کے علاوہ بڑے پیمانے پر لوگوں کو حراست میں لینے، پولیس کی مبینہ زیادتی، میٹرو اسٹیشن بند کرنے اور انٹرنیٹ خدمات پر پابندیاں لگانے سے متعلق درخواستوں پر بھی سماعت کر رہی تھی۔ عدالت نے تجارتی تنظیموں سے کہا کہ وہ اپنی اس درخواست میں ان تنظیموں کو بھی فریق بنائیں جو چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مظاہرے کر رہی ہیں اور جن کی وجہ سے کاروبار متاثر ہونے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔
تاجروں کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل مکل روہتگی نے کہا کہ مظاہرے کی جگہ کے آس پاس کے علاقوں میں 50 لاکھ لوگ رہتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تمام دکانیں بند رہیں اور اس دن کناٹ پلیس میں کوئی بھی نہیں تھا۔ بنچ نے کہا کہ جب تک تجارتی تنظیمیں مظاہرے کرنے والی تمام تنظیموں کو مقدمے میں فریق نہیں بناتی ہیں، تب تک کوئی بھی عدالت ان معاملات پر فیصلہ نہیں دے سکتی۔ اس معاملے میں سماعت جاری ہے۔
اس سے پہلے 15 اکتوبر کو بھی سپریم کورٹ کی بنچ نے ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر نام ہٹائے جانے اور ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) میں بے ضابطگیوں کے الزامات سے متعلق کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور 12 اپوزیشن لیڈروں کی درخواست پر الیکشن کمیشن اور دیگر فریقوں سے جواب طلب کیا تھا۔