نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ کسی ملزم کو غیر قانونی حراست سے رہا کیے جانے کے بعد پولیس اسے براہ راست دوبارہ گرفتار نہیں کر سکتی۔ دوسری مرتبہ گرفتاری سے پہلے تفتیشی ایجنسی کو متعلقہ عدالت اور اپنے اعلیٰ افسر سے اجازت لینا ضروری ہوگا۔ جسٹس نوین چاولہ اور جسٹس ارون بھردواج کی بنچ نے جنسی جرائم سے بچوں کا تحفظ (پاکسو) قانون کے ایک ملزم کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔
عدالت نے پایا کہ مقررہ طریقۂ کار پر عمل نہیں کیے جانے کی وجہ سے ملزم کی دوبارہ گرفتاری غیر قانونی تھی۔ درخواست گزار ملزم کو پولیس نے پہلی مرتبہ 20 جولائی کو حراست میں لیا تھا۔ تاہم، مجسٹریٹ کی عدالت نے اسے رہا کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد ملزم کو 21 اگست کو دوبارہ گرفتار کیا گیا اور سیشن عدالت نے اس گرفتاری کو چیلنج کرنے والی درخواست مسترد کرتے ہوئے اسے دو دن کی پولیس حراست میں بھیج دیا۔ ملزم کے وکیل نے ہائی کورٹ میں دوبارہ گرفتاری کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ یہ غیر قانونی ہے، مقررہ طریقۂ کار کی خلاف ورزی ہے اور آئین کی دفعہ 22 کے تحت حاصل بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔
آئین کی دفعہ 22 بعض حالات میں گرفتاری اور حراست سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ ملزم کو راحت دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ دوبارہ گرفتاری سے پہلے تفتیشی افسر کو ایک رپورٹ پیش کرنی ہوگی اور اپنے اعلیٰ افسر سے اجازت لینی ہوگی۔ اس کے علاوہ متعلقہ عدالت میں درخواست دائر کرکے یہ بتانا ہوگا کہ ملزم کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کرنے کی ضرورت کیوں ہے۔
عدالت نے 25 ستمبر کو جاری اپنے حکم میں کہا، ’’چونکہ ملزم کو دوبارہ گرفتار کرنے سے پہلے مدعا علیہ نے مناسب طریقۂ کار پر عمل نہیں کیا اور اسے صرف اس بنیاد پر دوبارہ گرفتار کیا گیا کہ ایف آئی آر میں اس کے خلاف پاکسو ایکٹ، 2012 کے تحت کچھ مزید دفعات شامل کر دی گئی تھیں، اس لیے اس کی دوبارہ گرفتاری کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ غیر قانونی ہے اور اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔‘‘ عدالت نے حکم دیا، ’’درخواست گزار کو فوری طور پر حراست سے رہا کیا جائے۔‘‘