کانکی نارہ کے نیابازار میں یادگار ادبی محفل کا انعقاد

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 26-10-2026
کانکی نارہ کے نیابازار میں یادگار ادبی محفل کا انعقاد
کانکی نارہ کے نیابازار میں یادگار ادبی محفل کا انعقاد

 



کانکی نارہ: ادارہ قرطاس و قلم کے زیر اہتمام اور کانکی نارہ الفلاح کوآپریٹو کریڈٹ سوسائٹی کے اشتراک سے 19 اکتوبر 2026 بروز پیر درگا پوجا کی چھٹی کے موقع پر نیابازار کانکی نارہ میں ایک یادگار ادبی محفل کا انعقاد کیا گیا۔ بعد نماز مغرب شروع ہونے والی اس تقریب کی میزبانی معروف سینئر شاعر بلند اقبال نے اپنی رہائش گاہ کے مخصوص نشست خانے میں کی۔ اس ادبی محفل میں علاقے اور قرب و جوار سے تعلق رکھنے والے اردو شعرا اور ادیبوں نے شرکت کی اور اپنے کلام و تخلیقات سے سامعین کو محظوظ کیا۔

محفل کی صدارت معروف شاعر و ادیب عظیم انصاری نے کی جو ادارہ قرطاس و قلم کے صدر اور انجمن ترقی اردو ہند کی شاخ جگتدل و کانکی نارہ کے بھی صدر ہیں۔ طویل دورانیے کی اس نشست کی نظامت مختلف ادوار میں خواجہ احمد حسین اور نسیم آتش کے بعد نوجوان شاعر و ناظم علی شاہد دلکش نے انجام دی۔ منتظمین کی جانب سے نظامت کی یہ ذمہ داری سنبھالنے والوں کی کاوشوں نے محفل کو کامیابی سے آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

تقریب کے مہمانِ ذی وقار تقریباً 89 سالہ بزرگ شاعر اور صاحبِ کتاب وفا سکندرپوری تھے۔ انہوں نے اپنی کتاب ’لہو کا سفر‘ کے کئی نسخے اہلِ علم و ادب میں تحفتاً تقسیم کیے۔ محفل کو رونق بخشنے کے لیے اقبال حسین بیگ اور نسیم آتش کے علاوہ شمیم جہانگیری نے بھی مہمانانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔

اس ادبی نشست میں مختلف علاقوں سے آئے ہوئے شعرا نے بھی شرکت کی۔ مہمان شعرا میں شیام نگر سے شمیم انجم وارثی اور کلکتہ سے عمران راقم کے علاوہ ٹیٹا گڑھ سے مہتاب سلم اور کمرہٹی سے شرر راستی شامل تھے۔ دریا پار رشڑا سے عمران رضا قادری اور معراج بلندی کے ساتھ رحمت رضوی اور جمشید عادل بھی محفل میں شریک ہوئے۔

شمیم انجم وارثی کی شاعری کو سامعین نے خصوصی طور پر پسند کیا اور ان سے بار بار مزید کلام سنانے کی فرمائش کی۔ وقت کی کمی کے باوجود حاضرین کے اصرار پر انہوں نے کئی غزلیں اور اشعار پیش کیے جنہیں خوب داد ملی اور ان کے لیے دعاؤں کا اظہار بھی کیا گیا۔

مقامی شعرا میں عظیم انصاری اور احمد منیر کے ساتھ میزبان بلند اقبال اور حکیم سمیع الفت نے اپنا کلام پیش کیا۔ ڈاکٹر وحید الحق اور خطاب عالم شاذ کے علاوہ علی شاہد دلکش اور میم عین لاڈلہ نے بھی اپنی تخلیقات سنائیں۔ انسیہ صابری سمیت دیگر شعرا نے اپنے فکر انگیز کلام سے محفل کو ادبی رنگ عطا کیا۔ تمام شعرا کو سامعین کی جانب سے داد و تحسین سے نوازا گیا۔

معروف افسانچہ نگار شمیم جہانگیری اور شمشیر علی شعلہ کی شرکت نے محفل کے ادبی تنوع میں مزید اضافہ کیا۔ ان کی افسانوی تخلیقات نے شرکا کی توجہ حاصل کی اور شعر و سخن کے ساتھ نثر کے ذوق کو بھی محفل میں نمایاں جگہ ملی۔

یہ ادبی نشست شعر و سخن کی دلکشی اور ادبی تبادلۂ خیال کے بعد صدرِ محفل کے صدارتی کلمات اور میزبان کے اظہارِ تشکر کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ آخر میں شرکا کی تواضع پرتکلف ضیافت سے کی گئی۔ محفل رات گئے تک جاری رہی۔

پروگرام کی کامیابی میں محمد عبدالغفار اور ماسٹر محمد ممتاز کے علاوہ ریاض احمد باپی اور محمد شمشاد کی خدمات بھی قابلِ ذکر رہیں۔ محمد معراج اور محمد صغیر کے ساتھ حکیم محمد مختار اور اریب احسن نیز حسرت جاوید کی شرکت اور تعاون نے بھی اس ادبی تقریب کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔