ہندوستانی ریلوے کے 7 اہم ریلوے کوریڈور چار لائنوں والے بنائے جائیں گے: اشونی ویشنو

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 07-11-2026
ہندوستانی ریلوے کے 7 اہم ریلوے کوریڈور چار لائنوں والے بنائے جائیں گے: اشونی ویشنو
ہندوستانی ریلوے کے 7 اہم ریلوے کوریڈور چار لائنوں والے بنائے جائیں گے: اشونی ویشنو

 



نئی دہلی: مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ ہندوستانی ریلوے اپنے اہم ریلوے راستوں کی گنجائش بڑھا رہا ہے۔ ٹرینوں میں بھیڑ اور تاخیر کے مسئلے کو مستقل طور پر حل کرنے کے لیے ملک بھر کے 7 اہم ریلوے کوریڈور کو چار لائنوں والا بنایا جا رہا ہے۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ویشنو نے بتایا کہ مال برداری میں اضافے، خاص طور پر کوئلے کی نقل و حمل اور مسافروں کی بڑی تعداد کے باعث موجودہ ریلوے لائنوں پر بہت زیادہ دباؤ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اس وقت ہم شدید بھیڑ کے دور سے گزر رہے ہیں۔ کوئلے اور دیگر سامان کی نقل و حمل میں بہت اضافہ ہوا ہے۔

اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 10 برسوں میں 36,000 کلومیٹر اضافی ریلوے ٹریک بچھائے گئے ہیں۔ نئی پٹریاں بچھانا اور گنجائش بڑھانا بہت ضروری ہے۔ یہی اس مسئلے کا مستقل حل ہے۔ ہمیں مزید پٹریاں بچھانے کا کام جاری رکھنا ہوگا۔‘‘ طویل مدت میں ریلوے کی گنجائش بڑھانے اور مسافروں کی طویل ویٹنگ لسٹ کے مسئلے کو ختم کرنے کے لیے ویشنو نے بتایا کہ حکومت نے اہم اقتصادی مراکز کو جوڑنے والے قومی ریلوے راستوں کو چار لائنوں والا بنانے کو ترجیح دی ہے۔

ان منصوبوں میں خاص طور پر ’گولڈن کواڈری لیٹرل‘ یعنی سنہری چہارضلعی راستے کے تحت دہلی، کولکاتا، چنئی اور ممبئی کو جوڑنے والے اہم راستوں کے علاوہ دہلی سے چنئی، ممبئی سے کولکاتا اور دہلی سے گوہاٹی کے درمیان اہم ریلوے کوریڈور کو چار لائنوں والا بنانا شامل ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم تقریباً ہر دوسری یا تیسری کابینہ میٹنگ میں نئے منصوبوں کو منظوری دیتے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اس وقت ہم 7 اہم کوریڈور کو چار لائنوں والا بنا رہے ہیں۔ ان میں دہلی، کولکاتا، چنئی اور ممبئی کو جوڑنے والے راستوں کے ساتھ دہلی سے چنئی، ممبئی سے کولکاتا اور دہلی سے گوہاٹی کے درمیان کے کوریڈور بھی شامل ہیں۔‘‘

ویشنو نے بتایا کہ ان راستوں پر چار لائنوں کا کام مکمل ہونے کے بعد 1,000 سے زیادہ اضافی باقاعدہ ٹرینیں چلائی جا سکیں گی۔ اس سے ویٹنگ لسٹ اور ریزرویشن کی دستیابی پر پڑنے والا دباؤ کافی حد تک کم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا، ’’چار لائنوں کا کام مکمل ہونے کے بعد ہم 1,000 سے زیادہ اضافی باقاعدہ ٹرینیں چلا سکیں گے۔ اس سے ویٹنگ لسٹ اور ریزرویشن کی دستیابی سے متعلق مسائل بڑی حد تک کم ہو جائیں گے۔ ہماری مسلسل کوشش ریلوے کی گنجائش بڑھانے پر مرکوز ہے۔‘‘