نئی دہلی : شدید گرمی میں ایئر کنڈیشنر ہر کسی کے لیے دستیاب نہیں ہوتا۔ بجلی کی کمی، بڑھتے ہوئے اخراجات یا دیگر وجوہات کی بنا پر بہت سے لوگ اس سہولت سے محروم رہتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ چند آسان تدابیر اپنا کر بھی گرمی کے اثرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جسم کا زیادہ دیر تک گرم رہنا ہیٹ اسٹروک اور دیگر طبی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے گرمی کے موسم میں خود کو ٹھنڈا اور ہائیڈریٹ رکھنا ضروری ہے۔
خود کو ٹھنڈا رکھنے کے آسان طریقے
دن بھر مناسب مقدار میں پانی پیتے رہیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔
ٹھنڈے پانی سے نہائیں یا شاور لیں۔ اس سے جسم کا درجہ حرارت جلد کم ہوتا ہے۔
گردن اور کلائیوں پر ٹھنڈی پٹی یا برف کی تھیلی رکھیں۔
پنکھے کے ساتھ کھڑکیوں کا درست استعمال کریں تاکہ گرم ہوا باہر نکلے اور ٹھنڈی ہوا اندر آئے۔
دن کے وقت پردے یا بلائنڈز بند رکھیں تاکہ سورج کی تپش گھر میں داخل نہ ہو۔
سوتے وقت سوتی کپڑے اور سوتی چادریں استعمال کریں کیونکہ یہ ہوا کی آمدورفت بہتر بناتی ہیں۔
غیر ضروری بلب بند رکھیں اور روایتی بلب کی جگہ ایل ای ڈی بلب استعمال کریں کیونکہ وہ کم گرمی پیدا کرتے ہیں۔
دوپہر کے وقت اوون یا زیادہ گرمی پیدا کرنے والے آلات کا استعمال کم کریں۔
اگر ممکن ہو تو گھر کے نچلے حصے میں آرام کریں کیونکہ وہاں نسبتاً ٹھنڈک زیادہ ہوتی ہے۔
بہت زیادہ میٹھی ٹھنڈی اشیا کھانے کے بجائے پانی اور ہلکی غذاؤں کو ترجیح دیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گرمی کے باوجود چکر آنا، بے ہوشی، تیز بخار یا شدید کمزوری محسوس ہو تو اسے معمولی نہ سمجھیں بلکہ فوری طبی امداد حاصل کریں۔
یاد رکھیں کہ گرمی سے بچاؤ صرف آرام کا نہیں بلکہ صحت اور زندگی کے تحفظ کا بھی معاملہ ہے۔ معمولی احتیاط اور روزمرہ کی چند اچھی عادتیں شدید گرمی کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہیں۔
اگر چاہیں تو اسے اخبار کے فیچر یا ویب پورٹل کے لیے مزید دلکش انداز میں بھی ترتیب دیا جا سکتا ہے۔