ماں کی آواز ہے یہ: کے بی سی میں تیجی بچن کی آواز سن کر جذباتی ہوئے امیتابھ بچن

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 23-10-2026
ماں کی آواز ہے یہ: کے بی سی میں تیجی بچن کی آواز سن کر جذباتی ہوئے امیتابھ بچن
ماں کی آواز ہے یہ: کے بی سی میں تیجی بچن کی آواز سن کر جذباتی ہوئے امیتابھ بچن

 



ممبئی : بالی ووڈ کے عظیم اداکار امیتابھ بچن مقبول ٹیلی ویژن کوئز شو ’کون بنے گا کروڑ پتی 18‘ میں اپنی مرحوم والدہ تیجی بچن کی آواز سن کر جذباتی ہو گئے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنی والدہ کے ساتھ جڑی یادوں کو تازہ کیا اور ان کی سکھائی ہوئی قیمتی باتوں کا ذکر کیا۔ اس جذباتی لمحے نے اداکار کی ذاتی زندگی کی ایک جھلک پیش کی اور یہ بھی ظاہر کیا کہ ان کی والدہ کی تربیت اور رہنمائی نے ان کی شخصیت پر کس قدر گہرا اثر ڈالا۔

شو میں مہمان کی حیثیت سے شریک ہونے والی اداکارہ مادھوری دکشت نے امیتابھ بچن سے ان کی والدہ کے بارے میں سوال کیا اور جاننا چاہا کہ وہ بطور ماں کیسی تھیں۔ اس موقع پر مادھوری نے امیتابھ بچن کی 84ویں سالگرہ کے موقع پر ایک صوتی ریکارڈنگ چلانے کی درخواست کی جس کا عنوان ’’بچپن کا دور‘‘ تھا۔ اس ریکارڈنگ میں ان کی والدہ تیجی بچن کی آواز شامل تھی۔ اپنی والدہ کی آواز سنتے ہی امیتابھ بچن ماضی کی یادوں میں کھو گئے اور ان کے درمیان محبت بھرے رشتے اور والدہ کی نصیحتوں کی یادیں تازہ ہو گئیں۔ اس ریکارڈنگ میں تیجی بچن معروف ہندی شاعر ہری ونش رائے بچن کی ایک نظم کا بند پڑھتی سنائی دیتی ہیں۔

تیجی بچن معروف شاعر ہری ونش رائے بچن کی اہلیہ تھیں اور امیتابھ بچن کی زندگی میں ان کا اہم کردار رہا۔ امیتابھ کئی مواقع پر اپنے والدین اور ان کی تربیت کے اثرات کا ذکر کر چکے ہیں۔ ان کے والد نے اپنی ادبی خدمات کے ذریعے انہیں متاثر کیا جبکہ ان کی والدہ ان کے لیے جذباتی طاقت اور رہنمائی کا ایک اہم ذریعہ رہیں۔

’’ماں کی آواز ہے یہ‘‘: امیتابھ بچن

ریکارڈنگ سننے کے بعد امیتابھ بچن اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ماں کی آواز ہے یہ۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ ان کے والد کی نظم ’’رات آدھی ہو گئی‘‘ گا رہی ہیں۔مادھوری دکشت کے اس سوال پر کہ ان کی والدہ بطور ماں کیسی تھیں اور بچوں کی پرورش کس طرح کرتی تھیں۔ امیتابھ بچن نے کہا کہ ہر ماں اپنے بچوں کے معاملے میں کسی نہ کسی حد تک نظم و ضبط اور نگرانی کا خیال رکھتی ہے۔ وہ بچوں کو سمجھاتی ہے کہ یہ کام کرو اور یہ کام مت کرو۔ اس طرح رہو اور اپنی غلطیوں کو درست کرو۔ ان کی والدہ بھی بچوں کی تربیت کے معاملے میں اسی طرح توجہ دیتی تھیں۔

امیتابھ نے بتایا کہ ان کی والدہ کو گندگی بالکل پسند نہیں تھی۔ اگر گھر میں کوئی چیز بے ترتیب پڑی ہوتی یا بچے مٹی میں کھیل کر واپس آتے تو وہ انہیں صفائی کرنے کی ہدایت دیتی تھیں۔ ان کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ تیجی بچن بچوں کی تربیت میں صفائی ستھرائی اور نظم و ضبط کو خاص اہمیت دیتی تھیں۔

سکھ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں تیجی بچن

امیتابھ بچن نے اپنی والدہ کے سکھ خاندانی پس منظر اور اپنے والد ہری ونش رائے بچن سے ان کی بین ذات شادی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ ایک سکھ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں جبکہ ان کے والد الہ آباد کے رہنے والے تھے۔ دونوں کی شادی مختلف ذاتوں سے تعلق رکھنے کے باوجود ہوئی تھی۔اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے امیتابھ بچن نے کہا کہ یہ ایک نہایت دلچسپ کہانی ہے اور اسے سمجھنے کے لیے ان کے والد کی خودنوشت پڑھنی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ نے محض ایک دن کے اندر اپنے سابقہ ماحول اور زندگی سے وابستہ سب کچھ چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور ہری ونش رائے بچن سے شادی کرنے کا عزم کر لیا۔امیتابھ بچن کی گفتگو سے واضح ہوا کہ ان کی والدہ کی زندگی میں لیے گئے فیصلوں اور ان کی تربیت نے ان پر گہرا اثر ڈالا۔ کے بی سی 18 میں ان کی آواز سننے کا یہ لمحہ محض ایک پرانی یاد کی واپسی نہیں تھا بلکہ اپنی والدہ کی محبت اور ان کی سکھائی ہوئی اقدار کو یاد کرنے کا ایک جذباتی موقع بھی بن گیا۔