سعودی عرب نے اپنی فیچر فلم ’مسالۃ حیاۃ او موت‘ یعنی ’زندگی اور موت کا مسئلہ‘ کو 99 ویں اکیڈمی ایوارڈز المعروف آسکرز کی بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کی کیٹیگری کے لیے باضابطہ طور پر منتخب کرلیا ہے۔ فلم بین الاقوامی سطح پر سعودی عرب کی نمائندگی کرے گی۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی آسکرز سلیکشن کمیٹی نے متعدد فلموں کا جائزہ لینے کے بعد اس فلم کا انتخاب کیا۔ کمیٹی میں سعودی فلم ساز اور فلم انڈسٹری کے ماہرین شامل تھے۔ کمیٹی نے اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز کے مقررہ معیار کے مطابق فلموں کا جائزہ لیا۔
’زندگی اور موت کا مسئلہ‘ اب دنیا بھر سے بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کی کیٹیگری کے لیے منتخب ہونے والی دیگر فلموں کے ساتھ مقابلہ کرے گی۔ اس عمل میں پہلے فلموں کی شارٹ لسٹ تیار کی جائے گی۔ اس کے بعد اکیڈمی کی جانب سے حتمی نامزدگیوں کا اعلان کیا جائے گا۔بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کے آسکر ایوارڈ کا اعلان مارچ 2027 میں لاس اینجلس میں ہونے والی اکیڈمی ایوارڈز کی تقریب میں کیا جائے گا۔
سعودی فلم ’زندگی اور موت کا مسئلہ‘ رومانوی کہانی اور ڈارک کامیڈی کا امتزاج ہے۔ فلم کی مرکزی کردار حیا نامی ایک لڑکی ہے جو اپنے خاندان کے قدیم عقیدے پر یقین رکھتی ہے کہ وہ 30 برس کی عمر کو پہنچتے ہی مر جائے گی۔
دوسری جانب یوسف ایک ہارٹ سرجن ہے جو خود دل کی دھڑکن کے مسئلے سے دوچار ہے۔ غیرمتوقع حالات دونوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آتے ہیں اور ان کی زندگی محبت اور موت کے درمیان ایک غیر معمولی سفر اختیار کرلیتی ہے۔فلم کی ہدایت کاری لانس باطھف نے کی ہے جبکہ اس کی کہانی اور اسکرپٹ سارہ طیبہ نے لکھا ہے۔ فلم میں سعودی فلم انڈسٹری کے نمایاں فنکار اور نئے سعودی ٹیلنٹ نے بھی اداکاری کی ہے۔