کیواڈیا:72ویں نیشنل فلم ایوارڈز کی تقریب میں مصنف اور ہدایت کار آنند ایل رائے کو غیر فیچر فلم کے زمرے میں دستاویزی فلم ’اسٹیچو آف یونٹی: ایکتا کا پرتیک‘ کے لیے بہترین ہدایت کاری کا ایوارڈ دیا گیا۔ صدر دروپدی مرمو نے منگل کو گجرات کے ایکتا نگر میں منعقدہ تقریب میں انہیں یہ اعزاز پیش کیا۔
نیشنل فلم ایوارڈز کی تقریب پہلی مرتبہ نئی دہلی سے باہر منعقد کی گئی۔ 2024 میں بننے والی اس دستاویزی فلم میں آنند ایل رائے کے دیرینہ ساتھی اکشے کمار نے اپنی آواز دی ہے۔ فلم اسٹیچو آف یونٹی کی تعمیر اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کی میراث کا جائزہ پیش کرتی ہے۔ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے آنند ایل رائے نے کہا کہ یہ اعزاز ان کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ دستاویزی فلم کے لیے یہ ان کا پہلا نیشنل ایوارڈ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلم بناتے ہوئے انہوں نے کہانی بیان کرنے کا ایک نیا طریقہ سیکھا۔
آنند ایل رائے نے کہا کہ یہ اعزاز ان کے لیے بہت معنی رکھتا ہے۔ صرف اس لیے نہیں کہ یہ نیشنل ایوارڈ ہے بلکہ اس لیے بھی کہ دستاویزی فلم کے لیے یہ ان کا پہلا ایوارڈ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی فلمیں بنانے کے باوجود انہیں اس کام کے دوران احساس ہوا کہ اب بھی بہت کچھ ایسا ہے جس سے وہ واقف نہیں تھے۔ ان کے مطابق یہ کہانی بیان کرنے کا ایک نیا انداز تھا اور اتنا کام کرنے کے بعد کسی نئے شعبے میں پہلی بار کام کرنے کا تجربہ مختلف ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس فلم کے دوران ان سے کچھ غلطیاں بھی ہوئیں لیکن اگر انہیں دوبارہ دستاویزی فلم بنانے کا موقع ملا تو وہ پہلے سے بہتر کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ دستاویزی فلم میں جن شخصیات کے بارے میں انہوں نے کام کیا ان کے بارے میں انہیں پہلے سے بہت کم معلومات تھیں اور فلم بنانے کے دوران انہیں اس کا احساس زیادہ گہرائی سے ہوا۔آنند ایل رائے نے بتایا کہ انہیں اس دستاویزی فلم کی پیشکش کیسے ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اکشے کمار کی وجہ سے یہ فلم ان تک پہنچی۔ ان کے مطابق اگر اکشے کمار نہ ہوتے تو شاید یہ دستاویزی فلم ان تک نہ پہنچتی۔انہوں نے کہا کہ جب انہیں فلم کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے ابتدا میں کچھ ہچکچاہٹ محسوس کی۔ بعد میں انہیں احساس ہوا کہ انہیں یہ موقع نہیں گنوانا چاہیے۔ آنند ایل رائے کے مطابق اکشے کمار نے بھی انہیں اس فلم پر کام کرنے کے لیے حوصلہ دیا اور کہا کہ انہیں یہ کام کرنا چاہیے کیونکہ انہیں اس سے لطف آئے گا۔
آنند ایل رائے نے ’تنو ویڈز منو‘۔ ’رنجھنا‘۔ ’تنو ویڈز منو ریٹرنز‘ اور ’اترنگی رے‘ جیسی فلموں کی ہدایت کاری کی ہے۔ وہ کلر یلو پروڈکشنز بھی چلاتے ہیں۔
اس نیشنل فلم ایوارڈ میں اداکار اور فلم ساز دھنوش کے لیے بھی دوہری خوشی کا موقع رہا۔ انہیں اپنی فلم ’رایان‘ کے لیے بہترین تمل فلم کا ایوارڈ ملا۔ دھنوش نے 2024 میں ریلیز ہونے والی اس فلم کی ہدایت کاری بھی کی اور اس میں اداکاری بھی کی۔ بطور ہدایت کار یہ ان کا پہلا نیشنل فلم ایوارڈ ہے۔آنند ایل رائے نے دھنوش کے ساتھ فلم ’تیرے عشق میں‘ میں کام کرنے کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کے درمیان برسوں سے خوشگوار پیشہ ورانہ تعلقات برقرار ہیں۔
انہوں نے دھنوش کے ایوارڈ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ کے پسندیدہ اداکار کو بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ ملتا ہے تو آپ کو تھوڑا خوف محسوس ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ اگلی بار جب دھنوش سیٹ پر آئیں گے تو شاید زیادہ سوال نہیں کریں گے۔آنند ایل رائے نے کہا کہ دھنوش کے ساتھ کام کرنا انہیں ہمیشہ پسند ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں کے درمیان تعلق ایسا ہے کہ اگر ایک ماہ۔ دو ماہ یا تین ماہ تک ملاقات نہ بھی ہو تو ان کے درمیان محبت میں کوئی کمی نہیں آتی۔’اسٹیچو آف یونٹی: ایکتا کا پرتیک‘ سردار ولبھ بھائی پٹیل اور گجرات میں اسٹیچو آف یونٹی کی تعمیر پر مرکوز ہے۔ اس یادگار کا افتتاح 2018 میں کیا گیا تھا۔ آنند ایل رائے کی اس دستاویزی فلم نے غیر فیچر فلم کے شعبے میں بہترین ہدایت کاری کا ایوارڈ حاصل کیا ہے۔