تین دہائیوں تک اداکاری کرنے والے مشتاق خان بالی ووڈ کو کرگئے غمزدہ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 25-09-2026
تین دہائیوں تک  اداکاری کرنے والے مشتاق خان  بالی ووڈ کو کرگئے غمزدہ
تین دہائیوں تک اداکاری کرنے والے مشتاق خان بالی ووڈ کو کرگئے غمزدہ

 



ممبئی: بالی ووڈ کے معروف اداکار مشتاق خان انتقال کر گئے۔ وہ ’ویلکم‘ اور ’ہم ہیں راہی پیار کے‘ سمیت کئی مشہور فلموں میں اپنی اداکاری کے لیے جانے جاتے تھے۔ مشتاق خان نے جمعرات کی شام آخری سانس لی۔ ان کے انتقال کی تصدیق فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنی ایمپلائز کے صدر بی این تیواری نے اے این آئی سے فون پر گفتگو میں کی۔مشتاق خان طویل عرصے سے پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا بتائے جا رہے تھے۔ ان کے انتقال سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

مشتاق خان نے 1980 میں فلم ’البرٹ پنٹو کو غصہ کیوں آتا ہے‘ سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اپنے فلمی سفر میں انہوں نے مختلف نوعیت کے کردار ادا کیے۔

ان کی معروف فلموں میں ’ویلکم‘ ’غدر ایک پریم کتھا‘ اور ’ہم ہیں راہی پیار کے‘ شامل ہیں۔فلم ’ویلکم‘ میں ان کا مزاحیہ کردار خاص طور پر یادگار رہا۔ فلم میں ان کا مشہور مکالمہ ’’میری ایک ٹانگ نقلی ہے میں ہاکی کا بہت بڑا پلیئر تھا‘‘ آج بھی ناظرین کے درمیان مقبول ہے۔ ان کی برجستہ مزاحیہ اداکاری نے اس کردار کو یادگار بنا دیا۔

’ویلکم‘ کے مشہور مکالمے کی کہانی

مشتاق خان کے انتقال کے بعد فلمساز انیس بزمی نے فلم ’ویلکم‘ سے جڑی ایک یاد تازہ کی۔ انہوں نے اپنے دیرینہ دوست اور ساتھی اداکار کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ مشتاق خان کو ابتدا میں فلم میں کوئی بڑا کردار نہیں دیا گیا تھا۔انیس بزمی نے اے این آئی کو بتایا کہ انہوں نے مشتاق خان کو پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ ان کا کردار محدود ہوگا اور انہیں باڈی گارڈ کے پیچھے کھڑا ہونا ہوگا۔ اس کے باوجود مشتاق خان نے ان کی محبت میں فلم کا حصہ بننے پر رضامندی ظاہر کی۔

بزمی کے مطابق فلم کی شوٹنگ شروع ہونے کے کئی دن بعد انہیں احساس ہوا کہ مشتاق خان کے کردار کے لیے مکالمے بھی ہونے چاہئیں۔ شوٹنگ کے آٹھویں یا نویں دن مشتاق خان نے ان سے کہا کہ فلم میں اب تک ان کا کوئی مکالمہ نہیں ہے۔ اس کے بعد بزمی نے ان کے لیے ایک الگ حصہ تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔انیس بزمی نے بتایا کہ انہوں نے مشتاق خان کے حصے کے لیے پوری رات بیٹھ کر کام کیا۔ اس منظر میں نانا پاٹیکر اور انیل کپور بھی اہم کرداروں میں تھے۔ بزمی نے دونوں اداکاروں سے کہا کہ اس منظر میں وہ خاموش رہیں گے اور ان کے پیچھے کھڑا شخص یعنی مشتاق خان مکالمہ بولے گا۔بزمی کے مطابق نانا پاٹیکر اور انیل کپور نے ان کی بات فوراً مان لی۔ اسی تعاون کے نتیجے میں فلم کا وہ مشہور منظر وجود میں آیا جس میں مشتاق خان کہتے ہیں کہ ان کی ایک ٹانگ نقلی ہے اور وہ ہاکی کے بہت بڑے کھلاڑی تھے۔انیس بزمی نے بتایا کہ یہ منظر فلم کے یادگار حصوں میں شامل ہوگیا اور سبھی اس کے نتیجے سے خوش تھے۔

برسوں بعد بھی مکالمے سے پہچانے جاتے تھے

بزمی نے بتایا کہ مشتاق خان نے کچھ عرصہ قبل انہیں کہا تھا کہ انہوں نے بے شمار فلموں میں کام کیا ہے لیکن لوگ آج بھی انہیں ’ویلکم‘ کے اسی مکالمے سے پہچانتے ہیں۔ جہاں بھی جاتے تھے لوگ ان سے وہ مکالمہ سنانے کی فرمائش کرتے تھے۔انیس بزمی نے مشتاق خان کے انتقال پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں شام کے وقت اداکار کے انتقال کی خبر ملی۔ اس وقت وہ پونے میں تھے اور اسپتال نہیں جا سکے۔انہوں نے کہا کہ مشتاق خان ان کے بہت اچھے دوست تھے اور ’ویلکم‘ میں ان کے ساتھ انہوں نے بہت اچھا وقت گزارا تھا۔ بزمی نے انہیں ایک اچھا انسان اور بہترین اداکار قرار دیا۔فلمساز نے بتایا کہ تقریباً 2 ماہ قبل بھی ان کی مشتاق خان سے ملاقات ہوئی تھی۔ دونوں نے کافی دیر تک بات چیت کی اور پرانی یادیں تازہ کیں۔ بزمی کے مطابق انہیں مشتاق خان کی کسی سنگین بیماری کا علم نہیں تھا کیونکہ مشتاق خان نے کبھی اپنی صحت سے متعلق کوئی مسئلہ ان سے بیان نہیں کیا تھا۔

انیس بزمی نے اپنے دوست کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ مشتاق خان جیسے لوگ دنیا سے چلے جاتے ہیں لیکن ان کی یادیں باقی رہتی ہیں۔ انہوں نے سنیما کے لیے خوبصورت کام کیا اور فلمی شائقین انہیں یاد کرتے رہیں گے۔مشتاق خان کے انتقال کے ساتھ ہندی سنیما نے ایک ایسے اداکار کو کھو دیا ہے جس نے کئی دہائیوں تک مختلف کرداروں کے ذریعے ناظرین کو محظوظ کیا۔ ان کی مزاحیہ اداکاری اور ’ویلکم‘ کا یادگار مکالمہ طویل عرصے تک فلمی شائقین کی یادوں میں زندہ رہے گا۔