صنعت کاروں کی شادیوں میں ویٹر بن جاتے ہیں مگر مشتاق خان کے جنازے میں شریک نہیں ہوئے بڑے فلمی ستارے - رضا مراد

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 28-09-2026
صنعت کاروں کی شادیوں میں ویٹر بن جاتے ہیں مگر مشتاق خان کے جنازے میں شریک نہیں ہوئے بڑے فلمی ستارے - رضا مراد
صنعت کاروں کی شادیوں میں ویٹر بن جاتے ہیں مگر مشتاق خان کے جنازے میں شریک نہیں ہوئے بڑے فلمی ستارے - رضا مراد

 



ممبئی/ نئی دہلی

 ’صنعت کار کے بیٹے کی شادی ہوتی تو یہی ستارے ویٹر بن کر بھی پہنچ جاتے، لیکن مشتاق خان کے آخری سلام کے لیے کوئی بڑا چہرہ نہیں آیا‘

بالی ووڈ کے معروف اداکار مشتاق خان کے انتقال کے بعد ان کی آخری رسومات میں فلمی دنیا کے بڑے ستاروں کی عدم شرکت پر سینئر اداکار رضا مراد نے ان  سخت  الفاظ کے ساتھ ناراضی اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

مشتاق خان کا 24 ستمبر کو انتقال ہوا تھا اور 25 ستمبر کو ممبئی میں ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ جنازے میں ان کے ساتھی فنکار اور فلم و ٹیلی ویژن سے وابستہ کئی افراد شریک ہوئے، تاہم رضا مراد کے مطابق کوئی بڑا فلمی ستارہ انہیں آخری سلام پیش کرنے نہیں پہنچا۔

مشتاق خان نے چار دہائیوں سے زائد عرصے تک ہندی فلموں اور ٹیلی ویژن میں کام کیا۔ ’ویلکم‘ میں بَلو کے کردار اور ’میری ایک ٹانگ نقلی ہے، میں ہاکی کا بہت بڑا پلیئر تھا‘ جیسے مکالمے نے انہیں ناظرین میں خاص شناخت دی۔ فلم میں ان کے ساتھ انیل کپور اور نانا پاٹیکر جیسے بڑے اداکار تھے۔

ٹیلی ویژن کے ابتدائی دور میں مشتاق خان نے شاہ رخ خان کے ساتھ بھی کام کیا تھا۔ دونوں اداکار ’امید‘ نامی ٹی وی سیریل میں نظر آئے تھے، جس میں دیپتی نول بھی شامل تھیں۔ شاہ رخ خان کے فلمی سفر سے پہلے کے اس دور میں ’امید‘ ان کے ابتدائی ٹیلی ویژن کاموں میں شمار ہوتا ہے۔

رضا مراد نے مشتاق خان کے انتقال اور ان کی آخری رسومات کے بعد جاری کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں فلمی صنعت کے بڑے چہروں کی عدم موجودگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’’افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے موقع پر کوئی بھی اسٹار، جسے ہم اسٹار کہتے ہیں، انہیں اپنا آخری سلام پیش کرنے نہیں آیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ مشتاق خان کے ساتھی، کولیگز اور دوسرے اداکار وہاں موجود تھے، ’’لیکن کوئی بڑا چہرہ نہیں آیا۔‘‘

’جس نے 50 سال دیے، اسے 50 منٹ بھی نہیں دے سکے‘

رضا مراد نے اپنے جذباتی بیان میں فلمی صنعت کی ترجیحات پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق اگر کسی صنعت کار کے بیٹے کی شادی ہو تو بڑے ستارے وہاں شرکت کے لیے پہنچ جاتے ہیں، لیکن ایک ایسے فنکار کے جنازے میں شرکت کے لیے وقت نہیں نکالا گیا جس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ فلمی صنعت کو دے دیا۔

انہوں نے کہا، ’’اس شخص کے جنازے پر وہ شامل نہیں ہوئے جس نے اپنے 50 سال اس فلم انڈسٹری کو دیے، پوری زندگی دے دی، اور آپ اس کے لیے 50 منٹ بھی نہیں نکال پائے۔‘‘ یہ بات انہوں نے کسی مخصوص اداکار کا نام لیے بغیر کہی۔

رضا مراد نے فلمی دنیا کی سماجی ترجیحات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب کسی صنعت کار کے بیٹے کی شادی ہوتی ہے تو یہی ستارے نہ صرف وہاں پہنچتے ہیں بلکہ ’’ویٹر کی طرح مہمانوں کو سرو‘‘ کرنے کے لیے بھی تیار نظر آتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے سیاسی جماعتوں کے پروگراموں میں ستاروں کی شرکت کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ ایک فنکار کی آخری رسومات کے لیے وقت کیوں نہیں نکالا گیا۔

’مشتاق خان نے کسی کی چمچہ گیری نہیں کی‘

رضا مراد نے مشتاق خان کے فن اور شخصیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی شناخت کسی سفارش، خوشامد یا طاقتور لوگوں کے سہارے نہیں بنائی بلکہ اپنے کام کے بل بوتے پر مقام حاصل کیا۔انہوں نے کہا مشتاق خان اپنے بل بوتے پر ایک بہت بڑا نام بنے۔ نہ انہوں نے کبھی کسی کی دلالی کی، نہ کسی کی چمچہ گیری کی۔ وہ صرف اپنے کام کے بل بوتے پر یہاں تک پہنچے۔رضا مراد کے مطابق مشتاق خان کو اپنی زندگی میں بھی بڑے ستاروں کی ضرورت نہیں پڑی اور ان کے انتقال کے بعد بھی نہیں پڑے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ بات افسوس کا باعث ضرور رہے گی کہ جن بڑے اداکاروں نے مشتاق خان کے ساتھ کام کیا، ان میں سے کسی نے ان کے آخری سفر میں شرکت کے لیے چند لمحے نہیں نکالے۔

’ایسا کوئی اسٹار نہیں جس کے ساتھ مشتاق خان نے کام نہ کیا ہو‘

رضا مراد نے مزید کہا کہ مشتاق خان نے اپنے طویل فلمی سفر میں تقریباً ہر نسل کے بڑے فنکاروں کے ساتھ کام کیا۔ ان کے مطابق ’’ایسا کوئی بھی اسٹار نہیں ہے جس کے ساتھ مشتاق خان نے کام نہ کیا ہو‘‘ اور یہی وجہ ہے کہ بڑے چہروں کی عدم موجودگی انہیں زیادہ تکلیف دہ محسوس ہوئی۔

مشتاق خان نے ’ویلکم‘ میں انیل کپور، نانا پاٹیکر اور اکشے کمار سمیت متعدد بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کیا تھا۔ فلم کے ہدایت کار انیس بزمی نے حالیہ دنوں میں بتایا کہ مشتاق خان کے کردار کے لیے بعد میں خصوصی منظر تیار کیا گیا تھا اور انیل کپور و نانا پاٹیکر نے بھی اس منظر میں انہیں نمایاں ہونے کا موقع دیا۔

مشتاق خان کے دیگر معروف کاموں میں ’عاشقی‘، ’دل ہے کہ مانتا نہیں‘، ’سڑک‘، ’ہم ہیں راہی پیار کے‘، ’راجا‘، ’ہیرا پھیری‘، ’غدر: ایک پریم کتھا‘، ’مجھ سے شادی کروگی‘، ’وانٹڈ‘، ’اوہ مائی گاڈ‘ اور ’اسٹری‘ سمیت متعدد فلمیں شامل ہیں۔

’شہرت، دولت اور عزت ہمیشہ نہیں رہتی‘

اپنے پیغام کے آخر میں رضا مراد نے فلمی دنیا کے ستاروں کو شہرت اور دولت کی عارضی حیثیت یاد دلائی۔ انہوں نے کہا کہ آج جو چہرہ چمک رہا ہے، کل وہ مرجھا سکتا ہے اور انسان کے ساتھ آخرکار اس کا اچھا برتاؤ اور اس کے اعمال ہی رہ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’یہ مت بھولیے کہ آج جو آپ کا چمکدار چہرہ ہے، کل یہ مرجھا جائے گا، کل یہ اندھیرے میں ڈوب جائے گا۔ اگر کوئی چیز آپ کے کام آئے گی تو آپ کا اچھا ویہوار، آپ کے اعمال کام آئیں گے اور کچھ نہیں آئے گا۔‘‘

رضا مراد نے اپنے پیغام کا اختتام شہرت کی ناپائیداری کا ذکر کرتے ہوئے کیا۔ ان کے الفاظ میں، ’’یہ شہرت، یہ دولت، یہ عزت ہمیشہ نہیں رہتی۔ شہرت کی بلندی بھی ایک پل کا تماشا ہے۔ جس شاخ پہ بیٹھے ہو، وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے۔‘‘

مشتاق خان کی آخری رسومات میں راجپال یادو، رجت بیدی، منیش وادھوا، سبھا آریہ، شاہباز خان، شاردا ملہوترا اور احسان قریشی سمیت کئی ساتھی فنکار شریک ہوئے تھے۔ رضا مراد کی ناراضی بنیادی طور پر ان بڑے فلمی چہروں کی عدم موجودگی سے متعلق تھی جنہیں وہ مشتاق خان کے طویل فلمی سفر اور ان کے ساتھ کام کے حوالے سے جنازے میں دیکھنے کی توقع رکھتے تھے۔