ممبئی: معروف گلوکار میکا سنگھ نے اپنے بڑے بھائی اور تجربہ کار گلوکار دلیر مہندی کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اتراکھنڈ میں ایک ثقافتی تقریب کے دوران ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے دلیر مہندی کے خلاف شراب نوشی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ذمہ دار افراد سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔میکا سنگھ نے اپنے بھائی کی حمایت میں سامنے آنے والے بالی وڈ اور پنجابی موسیقی کی دنیا کے فنکاروں کے علاوہ مداحوں اور خیر خواہوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دلیر مہندی کے بارے میں غلط الزامات لگانا انتہائی افسوس ناک ہے اور اس معاملے میں معافی مانگی جانی چاہیے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے پیغام میں میکا سنگھ نے لکھا کہ وہ بالی وڈ سے لے کر پنجاب تک کے تمام گلوکاروں اور مداحوں کے ساتھ دوستوں اور اہل خانہ کے شکر گزار ہیں جنہوں نے دلیر مہندی کے لیے محبت اور حمایت کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ ان کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ دلیر مہندی شراب نہیں پیتے اور ان کے خلاف اس قسم کے الزامات عائد کرنا سراسر غلط ہے۔ ذمہ دار شخص کو تسلیم کرنا چاہیے کہ دلیر مہندی پر شراب نوشی کا الزام غلط تھا اور ان کے ساتھ کیے گئے سلوک پر معافی مانگنی چاہیے۔
35 لاکھ روپے کی ادائیگی پر بھی سوال
میکا سنگھ نے اپنی ایک اور پوسٹ میں اتراکھنڈ کے وزیر سبودھ انیال کو مخاطب کرتے ہوئے دلیر مہندی کو تقریب میں گلوکاری کے لیے مبینہ طور پر 35 لاکھ روپے ادا کیے جانے کے دعوے پر بھی سوال اٹھایا۔انہوں نے وزیر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ادائیگی سے متعلق دستاویزات عوام کے سامنے پیش کریں تاکہ حقیقت واضح ہو سکے۔میکا سنگھ نے پوچھا کہ کیا دلیر مہندی کو 35 لاکھ روپے نقد ادا کیے گئے تھے یا چیک کے ذریعے ادائیگی کی گئی تھی۔ اگر اس ادائیگی کی رسیدیں موجود ہیں تو انہیں عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ سب کو سچائی معلوم ہو سکے۔
بالی وڈ کی کئی شخصیات دلیر مہندی کی حمایت میں
اتراکھنڈ میں پیش آنے والے تنازع کے بعد فلم اور موسیقی کی دنیا کی متعدد معروف شخصیات دلیر مہندی کی حمایت میں سامنے آئی ہیں۔
ان میں انوپم کھیر۔ کپل شرما۔ راج پال یادو۔ بادشاہ۔ شان اور سونا موہاپاترا شامل ہیں۔
ان فنکاروں نے دلیر مہندی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے سینئر فنکاروں کے ساتھ عزت اور احترام سے پیش آنے کی ضرورت پر زور دیا۔میکا سنگھ نے اپنی ایک سابقہ پوسٹ میں بتایا تھا کہ ان کے بڑے بھائی گزشتہ دو برسوں سے صحت کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں اور ابھی مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بھائی کو اچھی طرح جانتے ہیں اور دلیر مہندی شراب نوشی نہیں کرتے۔ صحت کی مشکلات کے باوجود وہ اپنے موسیقی کے گروپ کے ساتھ پروگراموں میں شرکت کرتے ہیں۔میکا سنگھ نے مزید کہا کہ آج کل بہت سے فنکار اپنی پیشکش کے دوران پہلے سے ریکارڈ شدہ موسیقی کا سہارا لیتے ہیں لیکن ان سے اس انداز میں سوال نہیں کیے جاتے۔انسٹاگرام پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دلیر مہندی کا حال ہی میں ایک آپریشن ہوا ہے۔
اتراکھنڈ میں کیا ہوا تھا؟
یہ تنازع اتراکھنڈ کے ٹہری گڑھوال میں منعقدہ ماں کنجاپوری میلے کے دوران شروع ہوا تھا جہاں پنجابی گلوکار دلیر مہندی کو اپنی گلوکاری پیش کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔تقریب کے دوران اتراکھنڈ کے کابینی وزیر اور نریندر نگر سے رکن اسمبلی سبودھ انیال نے دلیر مہندی کی کارکردگی پر اعتراض کیا تھا۔وزیر نے الزام لگایا تھا کہ گلوکار اسٹیج پر غیر معمولی اور الجھی ہوئی حالت میں دکھائی دے رہے تھے اور براہ راست گانے کے بجائے پہلے سے ریکارڈ شدہ آواز کے ساتھ ہونٹ ہلا رہے تھے۔اس واقعے کے بعد دلیر مہندی کے مبینہ طور پر نشے میں ہونے کے دعوے بھی سامنے آئے تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد تنازع شدت اختیار کر گیا اور متعدد فنکاروں نے دلیر مہندی کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر اعتراض کیا۔میکا سنگھ کا کہنا ہے کہ دلیر مہندی کی صحت اور ان کے طویل فنی سفر کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے ساتھ احترام سے پیش آنا چاہیے تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گلوکار کے خلاف عائد الزامات واپس لیے جائیں اور ان کے ساتھ کیے گئے سلوک پر معافی مانگی جائے۔الزامات اور دعووں کی نسبت واضح کریںخبر کو مزید رواں اور مختصر بنائیں