کیرالہ شارٹ فلم فیسٹیول میں 31 فلموں کی اسکریننگ روکنے کی تردید۔ وزارت اطلاعات

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 21-09-2026
کیرالہ شارٹ فلم فیسٹیول میں 31 فلموں کی اسکریننگ روکنے کی تردید۔ وزارت اطلاعات
کیرالہ شارٹ فلم فیسٹیول میں 31 فلموں کی اسکریننگ روکنے کی تردید۔ وزارت اطلاعات

 



نئی دہلی۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے کیرالہ کے 18 ویں انٹرنیشنل ڈاکیومنٹری اینڈ شارٹ فلم فیسٹیول میں 31 فلموں کی اسکریننگ کی اجازت مسترد کیے جانے کی خبروں کی تردید کی ہے۔ وزارت نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی فلم کو اسکریننگ کی اجازت دینے سے مکمل طور پر انکار نہیں کیا گیا ہے۔وزارت کے مطابق 6 فلموں سے مزید تفصیلی خلاصہ طلب کیا گیا ہے جبکہ بعض دیگر فلموں کے موضوعات کو دیکھتے ہوئے انہیں جائزے کے لیے متعلقہ شعبہ جاتی حکام کے پاس بھیجا گیا ہے۔ یہ کارروائی فیسٹیول میں فلموں کی نمائش کے لیے سینسر استثنیٰ کے معمول کے عمل کا حصہ ہے۔

وزارت اطلاعات و نشریات نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ کیرالہ کے 18 ویں انٹرنیشنل ڈاکیومنٹری اینڈ شارٹ فلم فیسٹیول میں کسی بھی فلم کی اسکریننگ کی اجازت مسترد نہیں کی گئی ہے۔ وزارت نے بتایا کہ 6 فلموں سے مزید تفصیلی خلاصہ فراہم کرنے کو کہا گیا ہے۔ فلموں کے موضوعات کے مطابق کچھ فلموں کو متعلقہ شعبہ جاتی حکام کے جائزے کے لیے بھیجا گیا ہے۔

یہ وضاحت کانگریس رہنما ششی تھرور کی جانب سے وزارت اطلاعات و نشریات پر تنقید کے بعد سامنے آئی۔ تھرور نے پیر کو الزام لگایا تھا کہ وزارت نے کیرالہ کے 18 ویں انٹرنیشنل ڈاکیومنٹری اینڈ شارٹ فلم فیسٹیول کے لیے منتخب 31 فلموں کو اسکریننگ کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔ یہ فیسٹیول ترواننت پورم میں منعقد ہونا ہے۔ششی تھرور نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں اس اقدام کو اظہار رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیا اور مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات اشونی ویشنو سے مداخلت کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں عالمی سنیما کی میزبانی کی طویل روایت رہی ہے اور ایسے فیصلے سے فلم سازوں اور فنکاروں میں ملک کی شبیہ متاثر ہوسکتی ہے۔

فیسٹیول کے منتظم کیرالہ اسٹیٹ چلاچترا اکیڈمی کی جانب سے جمع کرائی گئی 347 فلموں کے خلاصوں اور اسکرینرز کا جائزہ لینے کے بعد وزارت اطلاعات و نشریات نے 31 فلموں کے لیے سینسر استثنیٰ روک دیا تھا۔ان میں مقابلے اور کیوریٹڈ سیکشنز کی 18 فلمیں شامل ہیں۔ انٹرنیشنل نان فکشن زمرے کی 9 فلمیں ہیں۔ فیسٹیول ونرز سیکشن کی 3 فلمیں ہیں جبکہ نیپال پیکیج کی ایک فلم اور قبائلی زندگی پر مبنی ملیالم فلم Globe بھی شامل ہے۔

ان فلموں کے موضوعات سیاسی اختلاف رائے۔ ذات پات کے حقوق اور بین الاقوامی مسلح تنازعات سمیت مختلف معاملات سے متعلق ہیں۔

ان میں Sanitised Republic: Caste and Contracts شامل ہے جو کووڈ 19 کے دوران دہلی میں کنٹریکٹ پر کام کرنے والے صفائی کارکنوں اور ذات پات کی صورتحال پر مبنی ہے۔ Parliament Street تاریخی مقام سے وابستہ عوامی یادداشت اور تاریخ کا جائزہ لیتی ہے۔

فہرست میں Put Your Soul on Your Hand and Walk بھی شامل ہے جو فلم ساز سپیدہ فارسی اور ایک فلسطینی فوٹو جرنلسٹ کے درمیان ویڈیو کالز کے ذریعے غزہ کی زندگی کو پیش کرتی ہے۔ Memories of a Window میں شہریوں کی بنائی گئی ویڈیوز کے ذریعے ایران میں ہونے والے احتجاج کا جائزہ لیا گیا ہے جبکہ Birds of War ذاتی لبنانی اور شامی آرکائیوز کے ذریعے انقلاب اور جلاوطنی کی کہانی بیان کرتی ہے۔

دیگر فلموں میں Globe۔ Our Land اور Land of My Dreams شامل ہیں۔

کیرالہ کے وزیر ثقافت۔ سنیما اور سیاحت پی سی وشنونادھ نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکیومنٹری اور شارٹ فلمیں معاشرے کے مختلف نقطہ نظر کو سامنے لانے کا اہم ذریعہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سخت انتخابی عمل سے گزرنے والی فلموں کی اسکریننگ کی اجازت روکنا فلم فیسٹیول کی کیوریٹوریل آزادی کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق ناظرین کو فلمیں دیکھنے اور اپنے خیالات آزادانہ طور پر تشکیل دینے اور ان کا اظہار کرنے کا حق ہونا چاہیے۔

کیرالہ اسٹیٹ چلاچترا اکیڈمی نے فلموں کے معاملے میں دوبارہ جائزے کی باضابطہ درخواست کی ہے۔ اکیڈمی نے بتایا کہ مندوبین۔ جیوری اراکین اور فلم سازوں نے سفر کے انتظامات مکمل کرلیے ہیں جبکہ تقسیم کی اسکریننگ فیس بھی ادا کی جاچکی ہے۔

اکیڈمی نے خبردار کیا ہے کہ کلیئرنس روکنے سے فیسٹیول کا شیڈول متاثر ہوسکتا ہے۔ 18 واں انٹرنیشنل ڈاکیومنٹری اینڈ شارٹ فلم فیسٹیول آف کیرالہ 25 سے 30 ستمبر 2026 تک کیرالہ اسٹیٹ چلاچترا اکیڈمی کے زیر اہتمام منعقد ہوگا۔

فیسٹیول میں ریاست کے دارالحکومت ترواننت پورم کے کیرالی۔ سری اور نیلا تھیٹروں میں فلموں کی نمائش کی جائے گی۔

اس دوران معروف اینی میشن فلم ساز نینا سبنانی کو 18 ویں انٹرنیشنل ڈاکیومنٹری اینڈ شارٹ فلم فیسٹیول آف کیرالہ میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا جائے گا۔ یہ اعزاز ڈاکیومنٹری اور مختصر فلم سازی کے شعبے میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں دیا جائے گا۔ ایوارڈ کے ساتھ 2 لاکھ روپے کی نقد رقم۔ ایک مجسمہ اور توصیفی سند شامل ہے۔

کیرالہ کے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستھیشن 30 ستمبر 2026 کو ترواننت پورم کے کیرالی تھیٹر میں فیسٹیول کی اختتامی تقریب کے دوران نینا سبنانی کو یہ اعزاز پیش کریں گے۔

فیسٹیول میں نینا سبنانی کی 10 نمایاں فلمیں بھی دکھائی جائیں گی۔ ان کے کام میں یادداشت۔ اشیا اور کہانیاں ایک منفرد بصری زبان کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑتی ہیں۔

روایتی فنکاروں اور لوک کہانی سنانے والوں کے ساتھ ان کے اشتراک کو تنقیدی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ ان کی فلم We Make Images کو نیشنل ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔

نینا سبنانی اینیمیٹر۔ مصور۔ محقق اور معلم ہیں۔ وہ فن۔ کہانی سنانے۔ علم الانسان اور زبانی روایات کو اپنے کام میں یکجا کرتی ہیں۔ انہیں 2016 میں روایتی بھیل فنکار شیر سنگھ کے ساتھ بنائی گئی فلم Hum Chitra Banate Hain کے لیے بہترین اینی میشن فلم کا نیشنل فلم ایوارڈ دیا گیا تھا۔