ممبئی: وجے دیوراکونڈا اور رشمیکا مندانا کی حال ہی میں مقبول پروگرام ’کافی ود کرن‘ کے نویں سیزن میں شرکت سوشل میڈیا صارفین کے ایک طبقے کو پسند نہیں آئی۔ گزشتہ ہفتے اس قسط کے نشر ہونے کے بعد سے یہ جوڑا اپنے رشتے سے متعلق کئی انکشافات کی وجہ سے آن لائن تنقید اور تمسخر کا نشانہ بن رہا ہے۔
اس پروگرام کے کئی ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں جن پر صارفین نے مختلف ردعمل ظاہر کیے ہیں۔ ان میں ایک خاص لمحہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا جب وجے دیوراکونڈا نے انکشاف کیا کہ رشمیکا کو انہیں شادی کے لیے راضی کرنے کی خاطر تقریباً 100 مرتبہ شادی کی پیشکش کرنی پڑی تھی۔ اس بیان کے بعد کئی سوشل میڈیا صارفین نے وجے کو ایک ایسا شخص قرار دیا جو رشتے کے لیے مناسب نہیں ہے۔
اس تنازع کے درمیان رشمیکا نے پیر کے روز ایک طویل پیغام لکھ کر شائستہ انداز میں تنقید کرنے والوں کو جواب دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان دونوں کا شادی کرنے کا فیصلہ کسی شاندار تقریب یا مقررہ مدت سے متعلق نہیں تھا بلکہ یہ ایک دوسرے کو سوچ سمجھ کر زندگی کا ساتھی منتخب کرنے کا معاملہ تھا۔
رشمیکا نے اپنے پیغام میں لکھا کہ وجے اور ان سے متعلق اس پورے معاملے پر وہ اپنی چند باتیں کہنا چاہتی ہیں۔ عام طور پر وہ ایسی باتوں کا جواب نہیں دیتیں کیونکہ ہر شخص کو اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے۔ بعض اوقات وہ دوسروں کی رائے پڑھ کر خوش بھی ہوتی ہیں اور اس سے انہیں ایک مختلف نقطۂ نظر سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ تاہم ان کے مطابق اس بار ان کے انٹرویو پر ہونے والی بحث محض مختلف آرا کے اظہار کے بجائے ایک ایسے مشتعل ہجوم کی شکل اختیار کر گئی ہے جو اپنا غصہ نکالنے کے لیے کسی کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس پورے معاملے میں اصل بات کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ ممکن ہے کچھ لوگوں کو ان کی بات اپنے نظریے کے مطابق نہ لگی ہو یا وہ اسے سمجھنا ہی نہ چاہتے ہوں۔ انہوں نے یہ پیغام اس لیے لکھا ہے تاکہ ان لوگوں کے اعتماد اور محبت کا تحفظ کر سکیں جو محبت پر یقین رکھتے ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ ہر شخص کو اپنی پسند کی محبت ملے۔
شادی کا فیصلہ محض پیشکش یا انگوٹھی تک محدود نہیں تھا
رشمیکا نے کہا کہ ان دونوں کے سماجی رابطوں کے صفحات پر غیر ضروری تبصروں اور بلا مانگی نصیحتوں کی بھرمار ہو گئی تھی۔ لوگوں کے سخت ردعمل نے انہیں حیران کر دیا اور انہیں کچھ وقت کے لیے اس صورت حال سے الگ ہو کر سوچنے پر مجبور کیا۔انہوں نے وضاحت کی کہ شادی کے فیصلے میں اصل اہمیت اس بات کی نہیں تھی کہ انہوں نے کتنی مرتبہ شادی کی پیشکش کی یا اس میں کتنا وقت لگا۔ ان کے مطابق گفتگو کا اصل مقصد یہ تھا کہ دونوں ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے مناسب وقت اور موقع دیں اور زندگی کی خوشیوں اور مشکلات کے باوجود اس بات کا یقین کر لیں کہ وہ واقعی ایک ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔
رشمیکا نے کہا کہ انہوں نے ایک دوسرے کو منتخب کیا اور اس فیصلے میں کوئی برائی نہیں تھی۔ ان کے مطابق یہ بالکل درست تھا کہ وہ اپنی خواہش کے بارے میں واضح تھیں جبکہ وجے زندگی کے عملی پہلوؤں پر غور کرنے اور یقین حاصل کرنے کے لیے وقت چاہتے تھے۔ اس فرق سے ان کی محبت میں کوئی کمی نہیں آئی۔انہوں نے کہا کہ وہ جذبات سے بھرپور انسان ہیں جبکہ وجے معاملات کو سوچ سمجھ کر دیکھتے ہیں اور دونوں کی یہی خوبیاں ان کی زندگی میں ایک دوسرے کے لیے اہم ہیں۔ ان کے لیے شادی کا مطلب کسی کا گھٹنوں کے بل بیٹھ کر پیشکش کرنا یا انگلی میں انگوٹھی پہنانا نہیں تھا کیونکہ یہ سب ظاہری رسومات ہیں۔ اصل اہمیت ایک ساتھ زندگی اور مستقبل تعمیر کرنے کی تھی۔ رشمیکا کے مطابق اب تک انہوں نے یہ کام بہت خوب صورتی سے کیا ہے۔
’’میں اپنے شوہر کی دیوانی ہوں اور اس میں کوئی برائی نہیں‘‘
رشمیکا نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ جس شخص سے آپ محبت کرتے ہیں اس کا دیوانہ ہونا آخر کب سے غلط سمجھا جانے لگا۔ انہوں نے کھل کر اعتراف کیا کہ وہ وجے سے بے حد محبت کرتی ہیں۔
ان کے مطابق ہر شخص کو ایسا ساتھی تلاش کرنا چاہیے جس کے لیے وہ ہر حد تک جانے کو تیار ہو اور جو اس کے لیے بھی ایسا ہی جذبہ رکھتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ اس شخص سے محبت ہی نہیں کرتیں جس سے شادی کر رہی ہیں تو پھر آخر اس سے شادی کیوں کرتیں؟ وجے ان کے زندگی بھر کے ساتھی اور دوست ہیں جو عام دنوں اور غیر معمولی حالات دونوں میں ان کے ساتھ رہیں گے۔ وہ ان کے بچوں کے والد اور ان کے بڑھاپے کے ساتھی ہوں گے۔رشمیکا نے مزید کہا کہ ایسا شخص تلاش کرنا چاہیے جو اتنی خوب صورتی سے محبت کرے کہ شادی کے بعد بھی اس سے دوبارہ شادی کرنے کی خواہش پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ وہ وجے کو ہزار مرتبہ بھی شادی کی پیشکش کر سکتی ہیں اور ان کے لیے 100 مرتبہ ایسا کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔
خاندان کے خلاف باتوں کو برداشت نہیں کریں گی
رشمیکا نے تنقید کرنے والوں سے اپیل کی کہ وہ ان کے یا ان کے خاندان کے بارے میں نامناسب باتیں کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنی ذات پر ہونے والی تنقید برداشت کر سکتی ہیں لیکن اپنے خاندان کے بارے میں ایسی باتیں قبول نہیں کریں گی جن کے بارے میں لوگوں کو حقیقت کا علم ہی نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ ان پر جتنی چاہیں تنقید کی جائے لیکن ان کے خاندان کو نشانہ بنانا نسوانی حقوق کی حمایت نہیں بلکہ اس کا لبادہ اوڑھ کر کسی کو ہراساں کرنا ہے۔ ان کے مطابق نسوانیت کا مقصد کسی دوسرے کو نیچا دکھانا یا مرد و عورت میں سے کسی ایک کی برتری ثابت کرنا نہیں ہے بلکہ ہر شخص کو اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی کے فیصلوں کی ذمہ داری خود لی ہے۔
مشکل وقت میں وجے ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے رہے
اپنے پیغام میں رشمیکا نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ وجے نے زندگی کے اچھے اور برے دونوں ادوار میں ان کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ اپنی زندگی کے سب سے خوش گوار دور میں ہیں اور انہیں امید ہے کہ لوگوں کو ان کے چہرے کی خوشی اور شادی کے بعد ان کی زندگی میں آنے والی مسرت ان کی اداکاری اور فلموں میں بھی دکھائی دیتی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ وہ خوش اور مطمئن ہیں اور خود کو خوش نصیب سمجھتی ہیں۔ ان کے مطابق انٹرنیٹ پر پھیلائی جانے والی بے بنیاد باتوں اور گمراہ کن ویڈیو کلپس پر یقین کرنا اور ان کی اپنی بات کو نظر انداز کرنا انہیں عجیب محسوس ہوتا ہے۔
رشمیکا نے کہا کہ جب انہیں کوئی ہڈی ٹوٹنے کی تکلیف ہوتی ہے تو لوگ ان کے ساتھ نہیں ہوتے بلکہ وجے ان کے پاس ہوتے ہیں۔ ہر ماہ پیٹ میں درد ہونے پر بھی وجے ان کا ساتھ دیتے ہیں۔ جب انہیں اسپتال جانے کی ضرورت پڑتی ہے یا رات کے وقت بے چینی کے باعث ان کی آنکھ کھل جاتی ہے تو وجے ان کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔ جب وہ جذباتی طور پر ٹوٹ جاتی ہیں تو انہیں رونے کے لیے وجے کا کندھا میسر ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ان کے یا وجے کے بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ دل سے دعا کرتی ہیں کہ ہر شخص کو ایسا ساتھی ملے جس سے وہ محبت کرے اور جو اس سے اتنی ہی گہری محبت کرتا ہو۔ تاہم اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں ایسا رشتہ نہیں چاہتا تو یہ بھی اس کا اپنا فیصلہ ہے۔ ہر شخص کو وہ زندگی گزارنی چاہیے جو اسے خوشی دے۔
مداحوں کی محبت پر اظہار تشکر
رشمیکا نے اپنے پیغام کے اختتام پر ان مداحوں کا شکریہ ادا کیا جو ہمیشہ ان سے محبت کرتے اور ان کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے کنڑ زبان بولنے والے مداحوں کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دس سال گزرنے کے باوجود ان کے دلوں میں ان کے لیے اتنی گہری محبت دیکھ کر انہیں خوشی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے مداح آج بھی انہیں اسی محبت سے یاد کرتے ہیں اور ان کی کامیابیوں کا جشن مناتے ہیں۔ وہ خود کو اس محبت کے لیے خوش نصیب سمجھتی ہیں۔ رشمیکا نے ان تمام لوگوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا جو محبت اور خوشیوں کو اہمیت دیتے ہیں اور دوسروں کو بھی ایسی چیزیں تلاش کرنے کا مشورہ دیا جو انہیں حقیقی خوشی دے سکیں۔واضح رہے کہ رشمیکا مندانا اور وجے دیوراکونڈا نے 26 فروری 2026 کو ادے پور میں شادی کی تھی۔