ممبئی:اداکار وویک اوبرائے کینسر کے مریضوں بالخصوص غریب اور پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے مریضوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے جذباتی ہوگئے۔ وویک اوبرائے نے کینسر پیشنٹس ایڈ ایسوسی ایشن کے کینسر روز ڈے 2026 میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے کینسر سے لڑنے والے بچوں کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کے بارے میں بھی بات کی۔تقریب کے موقع پر اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے وویک اوبرائے نے کہا کہ وہ اپنی والدہ سے متاثر ہوئے اور کینسر کے مریضوں بالخصوص ضرورت مند مریضوں کی مدد کرنا چاہتے تھے۔
انہوں نے سہارا شاہ کا بھی ذکر کیا جنہیں انہوں نے اس وقت گود لیا تھا جب وہ صرف 2 برس کی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ سہارا شاہ اب جلد ہی ایک آنے والی فلم سے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھنے والی ہیں۔وویک اوبرائے نے کہا کہ وہ اپنی خوشی بیان نہیں کر سکتے۔ وہ فخر سے رو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ڈھائی برس کی ایک بچی کو دیکھا تھا جس کی آنکھیں سرخ اور چہرہ سفید تھا۔ وہ کینسر سے لڑ رہی تھی اور کیموتھراپی سے گزر رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس بچی کو بیماری سے لڑتے ہوئے دیکھا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ جب بچی نے ان کی انگلی پکڑی تو انہیں یقین ہوگیا تھا کہ وہ اس بیماری کو شکست دے گی۔ وہ ہر روز اس کے لیے دعا کرتے تھے۔ آج وہ بچی کینسر سے پاک ہے اور اپنی محنت کا نتیجہ دیکھ رہی ہے۔ وویک اوبرائے نے کہا کہ انہیں اس پر بہت فخر ہے۔وویک اوبرائے نے اس موقع پر معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ کینسر کے مریضوں کی مدد کے لیے آگے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ کینسر کے مریضوں کی خدمت صرف بالی ووڈ کی شخصیات تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آخر صرف بالی ووڈ کی شخصیات ہی ایسا کیوں کریں۔ ہر شخص کو اس کام میں حصہ لینا چاہیے۔ اگر آپ مالی مدد کر سکتے ہیں تو پیسے دیں۔ اگر مالی مدد نہیں کر سکتے تو اپنی محبت دیں۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اسپتالوں میں جائیں اور مریضوں کے ساتھ وقت گزاریں۔اپنی والدہ کی مثال دیتے ہوئے وویک اوبرائے نے بتایا کہ ان کی والدہ کئی برس تک ایسے مریضوں سے ملتی رہی ہیں جو زندگی کے آخری مرحلے میں تھے۔ وہ ان سے بات کرتی تھیں اور ان کے لیے کھانا بھی تیار کرتی تھیں۔وویک اوبرائے نے کہا کہ ان کے خیال میں محبت ایک بہت قیمتی چیز ہے۔کام کے محاذ پر وویک اوبرائے جلد ہی سندیپ ریڈی وانگا کی فلم ’اسپرٹ‘ میں نظر آئیں گے۔ فلم میں پربھاس مرکزی کردار میں ہیں۔