تریچی۔ معروف اداکار پرکاش راج نے تریچی کے تھنتھائی پیریار گورنمنٹ آرٹس اینڈ سائنس کالج میں منعقدہ سابق طلبہ کے اجتماع میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے کالج کے دنوں۔ اداکاری کے پیشے اور اپنی زندگی میں احتجاج اور جدوجہد کے کردار پر اظہار خیال کیا۔سابق طلبہ کا یہ اجتماع راجیہ سبھا کے رکن تریچی سیوا کی قیادت میں منعقد ہوا۔ پرکاش راج تقریب میں بطور خصوصی مہمان شریک ہوئے اور خطاب کیا۔ کالج کے بڑی تعداد میں سابق طلبہ نے بھی پروگرام میں شرکت کی۔
پرکاش راج نے کہا کہ وہ اس اجتماع میں شرکت کرکے بہت خوش ہیں اور تریچی سیوا کی دعوت پر کالج آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ سیوا کے ادبی پس منظر۔ ان کی سوچ اور موجودہ سیاسی صورتحال میں پارلیمنٹ کے اندر عوام کے مسائل پر آواز اٹھانے کے انداز کو پسند کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ کالج طلبہ کی شخصیت بناتے ہیں لیکن آج طلبہ سے کہا جارہا ہے کہ وہ اپنے کالج کو بہتر بنانے میں بھی کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں سابق طلبہ کو ایک ساتھ دیکھنا خوش آئند ہے۔
پرکاش راج نے کہا کہ کالج انسان کی زندگی کو تشکیل دیتا ہے اور کسی تعلیمی ادارے کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے طلبہ معاشرے میں کیا تبدیلی لاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کالجوں کے ذریعے لوگ پولیس افسر۔ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ۔ آئی اے ایس افسر۔ استاد اور مختلف شعبوں کے ماہر بنتے ہیں۔ معاشرے میں ان کی جانب سے لائی جانے والی تبدیلی کسی بھی کالج کی کامیابی کا ثبوت ہوتی ہے۔
اپنے کالج کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے پرکاش راج نے کہا کہ وہ تعلیم کے دوران بھی احتجاج اور جدوجہد میں حصہ لیتے تھے۔انہوں نے کہا کہ دوسرے سال میں ایک لیکچرر نے ان سے کہا تھا کہ وہ اپنا وقت ضائع کررہے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے کالج چھوڑ دیا۔ ان کی بینک منیجر یا اکاؤنٹنٹ بننے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ اداکاری ان کا پیشہ ہے جبکہ جدوجہد ان کی زندگی ہے۔
پرکاش راج نے پیریار۔ بھارتی۔ چی گویرا۔ نیلسن منڈیلا۔ مہاتما گاندھی اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر سمیت مختلف شخصیات اور ادب سے حاصل ہونے والی تعلیم کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان سب نے انہیں اپنے نظریات اور عقائد کے لیے جدوجہد کرنے کی سوچ اور حوصلہ دیا۔انہوں نے کہا کہ سنیما ان کے لیے تفریح کا ذریعہ بھی ہے اور ایسی مہارت بھی ہے جس کے ذریعے وہ پیسہ کماتے ہیں۔ لیکن جب کوئی انسان مشکل میں ہو تو اس کے ساتھ کھڑا ہونا ان کی شناخت ہے۔
آئین کا حوالہ دیتے ہوئے پرکاش راج نے کہا کہ وہ انتخابی سیاست میں نہیں ہیں لیکن عوام کے لیے سیاست میں ضرور ہیں۔ ان کے مطابق بابا صاحب امبیڈکر کے تصور کردہ آئین میں عوام کو سیاست میں حصہ لینا چاہیے جبکہ عوام کے ذریعے منتخب افراد کو اپنا کام کرنا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ عوام کو اقتدار میں موجود لوگوں سے سوال کرنا چاہیے اور منتخب نمائندوں کو جواب دہ بنانے کے لیے ذمہ داری اور احتساب کا احساس پیدا کرنا چاہیے۔
فلمی محاذ پر پرکاش راج آئندہ فلم Drishyam 3 میں اجے دیوگن اور تبو کے ساتھ نظر آئیں گے۔