بیدر: ایسے طلبہ جو ڈاکٹر بننے کا خواب تو رکھتے ہیں لیکن ہندوستان کے نجی میڈیکل کالجوں کی بھاری فیس ان کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے یا نیٹ امتحان میں سرکاری میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے مطلوبہ نمبر حاصل نہیں کر پاتے، ان کے لیے شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز نے ایک اہم تعلیمی منصوبہ شروع کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت طلبہ کو وسطی ایشیا کی معروف میڈیکل یونیورسٹیوں میں کم خرچ پر ایم بی بی ایس کی تعلیم کے ساتھ معیاری تربیت اور ایف ایم جی ای امتحان کی تیاری کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔
شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کے چیئرمین عبدالقدیر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ادارہ ہمیشہ معیاری اور باوقار تعلیم کو عام کرنے کے لیے کوشاں رہا ہے۔ اسی مقصد کے تحت ایسے طلبہ کے لیے بیرونِ ملک ایم بی بی ایس کا راستہ ہموار کیا جا رہا ہے جو معاشی یا دیگر وجوہات کی بنا پر ہندوستان میں میڈیکل کی تعلیم حاصل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت وسطی ایشیا کے ممالک میں واقع میڈیکل یونیورسٹیوں میں داخلہ دلایا جا رہا ہے، جہاں ایم بی بی ایس کی تعلیم ہندوستان کے نجی میڈیکل کالجوں کے مقابلے میں تقریباً 20 سے 25 فیصد یا اس سے بھی کم خرچ میں مکمل کی جا سکتی ہے۔عبدالقدیر نے کہا کہ اس منصوبے کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ طلبہ کو پہلے ہی سال سے ایف ایم جی ای امتحان کی باقاعدہ کوچنگ فراہم کی جائے گی تاکہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہندوستان میں میڈیکل پریکٹس کے لیے درکار امتحان کی تیاری ساتھ ساتھ جاری رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کی تعلیم صرف نصابی سرگرمیوں تک محدود نہیں ہوگی بلکہ شاہین گروپ کے تربیتی ماحول، نظم و ضبط، اخلاقی اقدار اور تعلیمی معیار کے مطابق لڑکوں اور لڑکیوں کی ہمہ جہت شخصیت سازی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔
چیئرمین شاہین گروپ کے مطابق، تعلیمی سال 2026 کے لیے پہلے 40 طلبہ کو خصوصی اسکالرشپ دی جائے گی۔ داخلے کے وقت نیٹ امتحان میں حاصل کردہ نمبروں کی بنیاد پر 25 فیصد، 50 فیصد، 75 فیصد اور 100 فیصد تک ٹیوشن فیس میں رعایت دی جائے گی۔ بعد کے برسوں میں یہ اسکالرشپ طلبہ کی سالانہ ایف ایم جی ای کارکردگی کی بنیاد پر برقرار رکھی جائے گی تاکہ انہیں مسلسل بہتر تعلیمی کارکردگی کی ترغیب ملے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت ایم ایس آئی ٹی، تاجکستان اور یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیا، کرغزستان میں داخلے جاری ہیں۔ انہوں نے میڈیکل کی تعلیم کے خواہش مند طلبہ اور ان کے والدین سے اپیل کی کہ وہ بروقت رجسٹریشن کروا کر اس منفرد تعلیمی موقع سے فائدہ اٹھائیں۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ شاہین گروپ کا یہ اقدام باصلاحیت اور مستحق طلبہ کے لیے میڈیکل کی تعلیم کا خواب شرمندۂ تعبیر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا اور انہیں عالمی معیار کی تعلیم کے ساتھ بہتر مستقبل کی راہ فراہم کرے گا۔
حفاظ بنے نیٹ کے کامیاب امیدوار
قابلِ ذکر ہے کہ بیدر کے شاہین پری یونیورسٹی کالج کے 22 حفاظِ قرآن طلبہ و طالبات نے نیٹ 2026 میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ اس شاندار کامیابی نے ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کر دی کہ دینی تعلیم اور جدید سائنسی تعلیم ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ باہم ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔

اس غیر معمولی کامیابی پر ادارے، اساتذہ، والدین اور پوری ملت نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔ یہ کامیابی اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ اگر طلبہ کو دینی تربیت کے ساتھ معیاری عصری تعلیم، تجربہ کار اساتذہ کی رہنمائی، جدید تعلیمی سہولیات اور سازگار ماحول میسر ہو تو وہ ملک کے مشکل ترین مسابقتی امتحانات میں بھی نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ کامیابی نئی نسل کے لیے ایک مضبوط اور امید افزا پیغام ہے کہ قرآن کریم سے وابستگی اور اعلیٰ پیشہ ورانہ تعلیم کا سفر بیک وقت کامیابی کے ساتھ طے کیا جا سکتا ہے۔
شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کے چیئرمین ڈاکٹر عبد القدیر نے نیٹ 2026 میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے تمام حفاظِ قرآن طلبہ و طالبات کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ کامیابی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، قرآن کریم کی برکت، طلبہ کی انتھک محنت، والدین کی دعاؤں اور اساتذہ کی مخلصانہ رہنمائی کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حفاظِ قرآن کی یہ شاندار کارکردگی اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ دینی تعلیم اور جدید سائنسی علوم ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل اور معاون ہیں۔ اگر طلبہ کو قرآن و سنت کی تعلیم کے ساتھ معیاری عصری تعلیم، مؤثر رہنمائی اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے تو وہ قومی اور بین الاقوامی سطح کے مشکل ترین مسابقتی امتحانات میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔
شاہین گروپ کیا ہے
شاہین کا فلسفہ: علامہ اقبال کے تصورِ شاہین کی عملی تعبیر
شاہین صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ علامہ اقبال کے پیش کردہ تصورِ شاہین کی عملی تصویر ہے۔ اس کا بنیادی فلسفہ نوجوان نسل میں بلند کردار، خود اعتمادی، اعلیٰ فکر اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کرنا ہے تاکہ وہ ایک مثالی اور باوقار معاشرے کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
شاہین کا بنیادی فلسفہ
شاہین کی تعلیمی و تربیتی سوچ چند بنیادی اصولوں پر استوار ہے، جنہیں علامہ اقبال نے اپنے تصورِ شاہین میں نمایاں کیا ہے۔
دینی اور عصری تعلیم کا حسین امتزاج
شاہین کا یقین ہے کہ جمہوریت اور سماجی مساوات پر قائم ملک میں ہر بچے کو معیاری تعلیم حاصل کرنے کا مساوی حق حاصل ہے۔ ادارے کا ماننا ہے کہ قرآن کریم اور سنت انسان کی روحانی تربیت کرتے ہیں، جبکہ معیاری تعلیم شخصیت کو ہر میدان میں نکھارتی ہے۔ اسی لیے شاہین میں دینی تعلیم اور جدید عصری علوم کو یکجا کر کے طلبہ کی ہمہ جہت شخصیت سازی پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
تعلیم کے ذریعے سماجی بااختیاری
شاہین گروپ کا مقصد صرف اپنے تعلیمی اداروں کی توسیع نہیں بلکہ طلبہ کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کے بل پر سرکاری انجینئرنگ، میڈیکل اور دیگر ممتاز پیشہ ورانہ اداروں میں داخلہ حاصل کریں۔ ادارے کے نزدیک حقیقی کامیابی سماجی بااختیاری اور قوم کی خدمت ہے، نہ کہ محض ادارے کی ترقی۔
شاہین کے بنیادی مقاصد
شاہین کا مشن
شاہین کا مشن طلبہ کی رہنمائی، تعلیم اور بااختیار بنانا ہے تاکہ وہ مختلف شعبوں میں سرکاری ممتاز تعلیمی اداروں میں دستیاب مفت اور معیاری تعلیمی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں اور اپنے روشن مستقبل کی مضبوط بنیاد رکھ سکیں۔
شاہین کا وژن
شاہین کا وژن ہر بچے میں موجود فطری صلاحیتوں کو تلاش کرنا، انہیں نکھارنا اور صحیح سمت میں پروان چڑھانا ہے تاکہ ایسی نسل تیار ہو جو علمی اعتبار سے کامیاب، سماجی طور پر ذمہ دار اور اسلام کی اعلیٰ تعلیمات و اقدار کو اپنی زندگی کا حصہ بنا کر متوازن، باوقار اور بامقصد زندگی گزارنے کی عملی مثال بنے۔