نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے صدر دفتر میں کلیم الدین احمد اور پریم چند سمیت معاصر اردو ادب سے متعلق تین اہم کتابوں کی رسم اجرا عمل میں آئی۔ یہ تینوں کتابیں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منعقدہ علمی سمیناروں میں پیش کیے گئے مقالات پر مشتمل ہیں۔ ان کتابوں کو ڈاکٹر شمس اقبال پروفیسر کوثر مظہری اور پروفیسر شہزاد انجم نے مرتب کیا ہے۔
پہلی کتاب ’معاصر اردو ادب کا تخلیقی تنقیدی اور تحقیقی منظرنامہ‘ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں منعقدہ سہ روزہ سمینار کے مقالات کا مجموعہ ہے جس میں 35 مضامین شامل ہیں۔ دوسری کتاب ’کلیم الدین احمد کی نگارشات: ایک بازدید‘ شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اشتراک سے منعقدہ یک روزہ سمینار میں پیش کیے گئے مقالات پر مشتمل ہے۔ اس میں 22 مضامین کے علاوہ کلیدی خطبہ بھی شامل ہے۔ تیسری کتاب ’پریم چند کا ادب: نئے تناظر میں‘ پریم چند آرکائیوز اینڈ لٹریری سینٹر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اشتراک سے منعقدہ یک روزہ سمینار کے مقالات کا مجموعہ ہے جس میں 28 مضامین شامل ہیں۔
رسم اجرا اور مذاکرے کے موقع پر صدارتی خطاب کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اردو کے سابق صدر پروفیسر شہپر رسول نے کہا کہ کسی ادارے کی جانب سے بیک وقت تین کتابوں کی اشاعت اور اجرا قابل ستائش ہے۔ قومی اردو کونسل ملک کا ایک اہم قومی ادارہ ہے اور اس کے موجودہ ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے اسے غیر معمولی طور پر متحرک بنایا ہے۔ انہوں نے پریم چند اور کلیم الدین احمد کی ادبی و تنقیدی خدمات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے متعلقہ کتابوں کی اہمیت بیان کی اور معاصر اردو ادب سے متعلق کتاب کو بھی قابل مطالعہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پریم چند کے افسانوی ادب میں زندگی اور ادب کے تمام بنیادی پہلو موجود ہیں۔ اسی طرح کلیم الدین احمد کی تنقید اپنی سخت گیری کے باوجود غیر معمولی اور صحت مند تنقیدی روایت کی نمائندگی کرتی ہے۔
تقریب کے پہلے مقرر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے سابق صدر پروفیسر فاروق بخشی نے کہا کہ کسی بھی ادارے کو صرف ایک شخص کامیاب نہیں بنا سکتا۔ ڈاکٹر شمس اقبال مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہیں ایک اچھی ٹیم میسر آئی۔ انہوں نے ڈاکٹر شمس اقبال کی ہمہ جہت شخصیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کتابوں کی اشاعت اور فروخت کے میدان میں ان کی خدمات قابل تعریف ہیں۔
معروف فکشن نگار ڈاکٹر نعیمہ جعفری پاشا نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی برسوں کے دوران قومی اردو کونسل کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بالخصوص ادب اطفال کے فروغ کے سلسلے میں کونسل کے موجودہ ڈائریکٹر کی خدمات قابل ذکر ہیں۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اردو کے سابق صدر پروفیسر احمد محفوظ نے ڈاکٹر شمس اقبال سے اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے ان کی متحرک اور ہمہ جہت شخصیت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شمس اقبال کو کتابوں کی اشاعت کا طویل اور گہرا تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے اپنے دورِ سرگرمی کا آغاز میر سمینار سے کیا تھا اور اب ان تین اہم کتابوں کے اجرا کے ساتھ ان کا پیشہ ورانہ سفر اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ یہ تینوں کتابیں کونسل کے عملے کے بھرپور تعاون اور ادارے کی علمی سرگرمیوں کی روشن مثال ہیں۔
دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے صدر پروفیسر ابوبکر عباد نے کونسل کے موجودہ ڈائریکٹر کو ان کی سرگرمیوں پر مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ادب اطفال کے حوالے سے ورکشاپس کا انعقاد خاص اہمیت رکھتا ہے۔ موجودہ ڈائریکٹر کے دور میں کونسل کے رسائل و جرائد کا معیار بھی بلند ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مخالفت کے باوجود ڈاکٹر شمس اقبال نے اپنے مشن کو جاری رکھا اور مختلف پروگراموں کے انعقاد کی راہ ہموار کی۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اردو کے سابق صدر پروفیسر شہزاد انجم نے پریم چند سے متعلق اہم کتاب کی اشاعت پر قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر اور انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ادارے کی شناخت اس کے علمی کارناموں سے ہوتی ہے اور ان کتابوں کی اشاعت سے کونسل کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ پریم چند اور کلیم الدین احمد اردو ادب کی اہم شخصیات ہیں اور ان سے متعلق کتابوں کی اشاعت ایک صحت مند علمی و ادبی روایت کی عکاس ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اردو کے صدر پروفیسر کوثر مظہری نے اس موقع کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً 30 برس بعد کسی ادارے کی جانب سے کلیم الدین احمد پر سمینار منعقد کیا گیا ہے اور اب ان سے متعلق کتاب بھی منظر عام پر آ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنقید کے علاوہ لغت اور داستان کے میدان میں بھی کلیم الدین احمد کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ ڈاکٹر شمس اقبال اس کتاب کی اشاعت کے لیے مبارک باد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کتاب کی اشاعت کے دوران پیش آنے والی دشواریاں اس بات کی گواہ ہیں کہ کونسل اپنے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتی اور یہ ایک خوش آئند روایت ہے۔
قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے اظہار تشکر سے قبل اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو برس اور سات ماہ کے دوران کونسل نے 200 سے زائد پروگرام منعقد کیے اور 103 کتابیں شائع کیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ کونسل نے کس انہماک اور سنجیدگی کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ وہ کلیم الدین احمد کی لغت اور پریم چند کی کلیات سے متعلق منصوبوں کا حصہ رہے ہیں۔ آج ان دونوں بلند پایہ ادیبوں سے متعلق کتابوں کے اجرا کے ساتھ ان کا پیشہ ورانہ سفر اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارہ ہمیشہ فرد سے بالاتر ہوتا ہے اور اسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے انہوں نے کونسل کو علمی و تحقیقی مباحث کا ایک فعال مرکز بنانے کی کوشش کی اور تمام اہم سمیناروں کی کارروائیوں کو کتابی صورت میں شائع کیا۔
ڈاکٹر شمس اقبال نے مزید کہا کہ انہیں اس بات پر بھی خوشی ہے کہ وکست بھارت 2047 سے متعلق اردو زبان میں پہلی دستاویزی کاوش تیار کی گئی اور بچوں کے لیے 40 سے زائد کتابیں شائع کی گئیں۔ انہوں نے ان تمام کامیابیوں کا سہرا کونسل کے عملے کے سر باندھا اور اپنے مخالفین کا بھی شکریہ ادا کیا جن کی وجہ سے انہیں مسلسل تحریک ملتی رہی اور وہ اپنے مشن پر قائم رہے۔ آخر میں انہوں نے تقریب میں شرکت کرنے والے تمام مہمانوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور کونسل کے آئندہ سفر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
رسم اجرا سے قبل قومی اردو کونسل کے ریسرچ اسسٹنٹ جناب نایاب حسن نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ تقریب کی نظامت جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر جاوید حسن نے انجام دی۔
اس موقع پر مذکورہ مقررین کے علاوہ دہلی اور اطراف سے تشریف لانے والی اہم شخصیات میں ڈاکٹر شمع افروز زیدی جناب فیروز بخت احمد پروفیسر شفق سوپوری جناب عشرت ظہیر ڈاکٹر مظفر حسین غزالی ڈاکٹر رخشندہ روحی جناب حبیب سیفی ڈاکٹر اشرف بستوی جناب زبیر سعیدی ڈاکٹر نوشاد منظر اور ڈاکٹر خان رضوان شامل تھے۔ تقریب میں قومی اردو کونسل کے تمام اراکین اور جامعہ کے طلبہ و طالبات بھی موجود رہے۔