فارسی زبان مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان ایک پل ہے: پروفیسر چندر شیکھر

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 01-10-2026
فارسی زبان مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان ایک پل ہے: پروفیسر چندر شیکھر
فارسی زبان مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان ایک پل ہے: پروفیسر چندر شیکھر

 



 قومی اردو کونسل کے فارسی پینل کی میٹنگ میں ہندوستان اور وسطی ایشیا کے علمی و تہذیبی روابط، فارسی ادب کی تاریخ کی تدوین اور ترجمے کے فروغ پر تبادلۂ خیال

نئی دہلی: فارسی زبان مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان ایک مضبوط رشتے کا ذریعہ ہے اور ہندوستانی تہذیب، ثقافت اور علمی روایت کو سمجھنے کے لیے فارسی کے علمی و ادبی سرمائے سے استفادہ ناگزیر ہے۔ ہندوستان میں فارسی ادب کی تاریخ کی تدوین ایک اہم ضرورت ہے، جب کہ ہندوستان اور وسطی ایشیا کے درمیان علمی و تہذیبی مکالمے کو فروغ دینے کے لیے بھی سنجیدہ کوششیں ہونی چاہییں۔ یہ بات دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ فارسی کے سابق صدر اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے فارسی پینل کے چیئرمین پروفیسر چندر شیکھر نے قومی اردو کونسل کے صدر دفتر، نئی دہلی میں منعقدہ فارسی پینل کی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

پروفیسر چندر شیکھر نے فارسی زبان کی تہذیبی اور علمی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ فارسی محض ایک زبان نہیں، بلکہ مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان رابطے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ہندوستان کی تہذیبی اور علمی تاریخ کو سمجھنے میں فارسی ادب کا نمایاں کردار رہا ہے، اس لیے اس کے علمی و ادبی ذخیرے سے استفادہ کرنا ضروری ہے۔ انھوں نے ہندوستان اور وسطی ایشیا کے درمیان علمی و ثقافتی روابط کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی کے زیرِ اہتمام منعقدہ فارسی پینل کی میٹنگ میں کیا، جس میں فارسی زبان و ادب کے فروغ، اہم علمی منصوبوں اور آئندہ کی سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

میٹنگ کے دوران پروفیسر چندر شیکھر نے ’امیر خسرو/داراشکوہ سالانہ یادگاری خطبہ‘، ہندوستان اور وسطی ایشیا کے درمیان مکالمے پر مبنی سیمینار اور ’ہندوستان میں فارسی ادب کی تاریخ‘ کی ترتیب جیسے اہم منصوبوں پر اپنے خیالات پیش کیے۔ انھوں نے ان منصوبوں کی علمی و تہذیبی معنویت کو واضح کرتے ہوئے ان کی عملی صورت گری کے لیے متعدد تجاویز بھی پیش کیں۔

اس موقع پر پینل کے اراکین نے بھی ہندوستان میں فارسی ادب کی تاریخ کی تدوین کو ایک اہم علمی ضرورت قرار دیا اور اس سلسلے میں مؤثر عملی اقدامات کی تجویز پیش کی۔ شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ فارسی زبان و ادب کے وسیع علمی سرمائے کو محفوظ کرنے، اس کی تحقیق اور نئی نسل تک اس کی منتقلی کے لیے منظم کوششیں کی جانی چاہییں۔

میٹنگ میں قدیم مخطوطات و مسودات، علمِ عروض و بلاغت اور ترجمے کے موضوعات پر ورکشاپ منعقد کرنے کی تجاویز بھی پیش کی گئیں، تاکہ نئی نسل میں فارسی زبان و ادب کے حوالے سے علمی اور فنی صلاحیتوں کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ فارسی ڈپلومہ مراکز کو مزید مؤثر بنانے، طلبہ کی تعلیمی پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لینے اور ان مراکز کے اساتذہ کے ساتھ پینل کی سطح پر تبادلۂ خیال کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی۔

اس موقع پر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے فارسی زبان کے علمی و ادبی سرمائے کی اہمیت پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ انھوں نے کہا کہ فارسی زبان کے علمی و ادبی سرمائے کو پیش نظر رکھے بغیر ہندوستان، بالخصوص شمالی ہندوستان کی تہذیبی اور ثقافتی تاریخ سے مکمل طور پر واقفیت ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کونسل نے حال ہی میں داراشکوہ کی کتاب ’سکینۃ الاولیاء‘ اور پردیپ شرما خسرو کی کتاب ’امیر خسرو: ایک ہمہ جہت شخصیت‘ کے اردو تراجم شائع کیے ہیں۔ اس سلسلے میں دیگر اہم کتابیں بھی زیرِ طبع ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ انڈین نالج سسٹم کے تناظر میں حکومتِ ہند نے بھی اس کی اہمیت کے پیش نظر اسے کلاسیکی زبان کے زمرے میں شامل کیا ہے۔ فارسی زبان کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی اردو کونسل نے اس پر خصوصی توجہ دی ہے۔ کونسل کی کوشش ہے کہ فارسی کی اہم کتابوں کے اردو تراجم شائع کیے جائیں، ساتھ ہی فارسی زبان اور اس کے علمی و ادبی سرمائے کے حوالے سے ایک سنجیدہ علمی مکالمہ بھی قائم ہو، تاکہ اس کے وسیع سرمایے سے بہتر طور پر استفادہ کیا جا سکے۔

میٹنگ کے آغاز میں ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے فارسی پینل کے چیئرمین پروفیسر چندر شیکھر اور تمام اراکین کا استقبال کیا۔ اس موقع پر پینل کے ایجنڈے سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا اور فارسی زبان و ادب کے فروغ کے لیے آئندہ کی سرگرمیوں اور منصوبوں پر تجاویز پیش کی گئیں۔

میٹنگ میں فارسی پینل کے رکن پروفیسر محمد اقبال، شعبۂ فارسی، جامعہ ملیہ اسلامیہ؛ پروفیسر اخلاق احمد آہن، سینٹر آف پرشین اینڈ سینٹرل ایشین اسٹڈیز، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی؛ پروفیسر کلیم اصغر، صدر شعبۂ فارسی، جامعہ ملیہ اسلامیہ؛ پروفیسر عثمان غنی، ڈائریکٹر فارسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی؛ ڈاکٹر مہتاب جہاں اور ڈاکٹر علی اکبر شاہ، شعبۂ فارسی، دہلی یونیورسٹی؛ اور ڈاکٹر عمران چودھری، شعبۂ فارسی، ذاکر حسین دہلی کالج نے شرکت کی۔

میٹنگ کے اختتام پر قومی اردو کونسل کی جانب سے حال ہی میں شائع ہونے والی پردیپ شرما خسرو کی کتاب ’امیر خسرو: ایک ہمہ جہت شخصیت‘ کی رسمِ رونمائی بھی انجام دی گئی۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ ڈاکٹر شبیر عالم نے کیا ہے۔

آخر میں ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر (اکیڈمک) نے پینل کے چیئرمین، اراکین اور تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ میٹنگ میں ڈاکٹر مسرت، ریسرچ آفیسر، اور ڈاکٹر عبدالسلام صدیقی، پروجیکٹ اسسٹنٹ، سمیت قومی اردو کونسل کے دیگر اراکین بھی موجود تھے۔