جامعہ ملیہ: یو پی ایس سی میلہ: سول سروسز میں کامیابی کے گر بتائے گئے

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 14-10-2026
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں یو پی ایس سی میلہ: سول سروسز میں کامیابی کے گر بتائے، مساوی مواقع اور شمولیت پر زور
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں یو پی ایس سی میلہ: سول سروسز میں کامیابی کے گر بتائے، مساوی مواقع اور شمولیت پر زور

 



 نئی دہلی:سول سروسز میں کامیابی کے لیے محنت، نظم و ضبط، مستقل مزاجی اور منصوبہ بند تیاری ضروری ہے، جب کہ ایک بہتر منتظم بننے کے لیے عوامی خدمت کا جذبہ، اخلاقی ذمہ داری اور معاشرے کے تئیں احساس بھی اتنا ہی اہم ہے۔ یہ باتیں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منعقدہ یو پی ایس سی میلہ کے دوسرے ایڈیشن میں مقررین نے کہیں۔ اس موقع پر کامیاب امیدواروں نے امتحان کی تیاری کے اپنے تجربات شیئر کیے، جب کہ سابق سینئر سول سرونٹس نے انتظامی خدمات، گورننس اور قیادت کے تقاضوں پر روشنی ڈالی۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈاکٹر ایم اے انصاری آڈیٹوریم میں منعقدہ اس پروگرام میں یونیورسٹی کے علاوہ دہلی اور دیگر شہروں کے مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 1150 طلبہ اور سول سروسز کے خواہشمند امیدواروں نے شرکت کی۔ میلے کا مقصد یو پی ایس سی سول سروسز امتحان کے بارے میں آگاہی بڑھانا، تیاری سے متعلق معلومات کی کمی کو دور کرنا اور امیدواروں کو کامیاب امیدواروں اور تجربہ کار منتظمین سے براہ راست رہنمائی فراہم کرنا تھا۔

شیخ الجامعہ کا طلبہ کو پیغام: عزم، نظم و ضبط اور قومی ذمہ داری کو اہمیت دیں

پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شیخ الجامعہ پروفیسر مظہر آصف نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ لگن، دلجمعی، نظم و ضبط اور معاشرے و قوم کے تئیں ذمہ داری کے مضبوط احساس کے ساتھ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کوشش کریں۔

انہوں نے تعلیم، پختہ عزم اور باخبر تیاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو اس انداز میں پروان چڑھانا چاہیے کہ وہ قوم کی تعمیر میں بامعنی کردار ادا کرسکیں۔

ان کے خطاب میں یہ پیغام نمایاں تھا کہ سول سروسز محض ایک باوقار ملازمت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ عوامی خدمت اور قومی ترقی میں حصہ لینے کا ایک اہم موقع بھی ہے۔

کامیاب امیدواروں نے تیاری کے تجربات شیئر کیے

یو پی ایس سی میلے کے دوسرے ایڈیشن کا اہم حصہ سول سروسز امتحان میں کامیابی حاصل کرنے والے امیدواروں کے ساتھ براہ راست گفتگو اور سوال و جواب کا سیشن تھا۔ اس میں کامیاب امیدواروں نے اپنی تیاری کے سفر، درپیش مشکلات اور امتحان کے مختلف مراحل سے گزرنے کے تجربات بیان کیے۔

پروگرام میں شریک کامیاب امیدواروں میں جینت گرگ (آل انڈیا رینک 64)، دھونیش پولاواراپو (آل انڈیا رینک 108)، شاداب علی خان (آل انڈیا رینک 415)، شاہ رخ خان (آل انڈیا رینک 575)، محمد عرفان قائم خانی (آل انڈیا رینک 646)، محمد ابوذر انصاری (آل انڈیا رینک 671)، مسکان ورما (آل انڈیا رینک 771) اور سنیہا یادو (آل انڈیا رینک 782) شامل تھے۔ یو پی ایس سی سول سروسز امتحان 2024 کے کامیاب امیدوار ارون رامبھا نے بھی شرکت کی۔

امیدواروں نے مطالعے کی منصوبہ بندی، وقت کے مؤثر استعمال، جواب لکھنے کی مشق، مسلسل محنت اور مشکلات کے باوجود حوصلہ برقرار رکھنے جیسے موضوعات پر اپنے تجربات بیان کیے۔ ان کی گفتگو کا مقصد خواہشمند امیدواروں کو امتحان کی تیاری کے عملی پہلوؤں سے واقف کرانا اور انہیں اپنی حکمت عملی بہتر بنانے میں مدد دینا تھا۔

سابق سینئر سول سرونٹس نے گورننس اور انتظامی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی

پروگرام کا ایک اہم سیشن ’دی بگ باسز ٹاؤن ہال‘ تھا، جس میں ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر جلاج سریواستو، 1984 بیچ، اور ریٹائرڈ آئی ایف ایس افسر منجو سیٹھ، 1983 بیچ، نے شرکت کی۔

دونوں سابق افسران نے اپنے طویل پیشہ ورانہ تجربے کی روشنی میں طلبہ سے پبلک ایڈمنسٹریشن، گورننس، قیادت، اخلاقی ذمہ داریوں اور عوامی خدمت کے بدلتے ہوئے تقاضوں پر گفتگو کی۔

سیشن میں سرکاری اداروں کے کام کرنے کے طریقۂ کار، انتظامی فیصلے لینے کے عمل اور سول سروسز سے وابستہ ذمہ داریوں کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ اس گفتگو نے امیدواروں کو یہ جاننے میں مدد دی کہ سول سروسز کے امتحان میں کامیابی کے بعد ایک افسر کو عملی زندگی میں کس نوعیت کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

معذور امیدواروں کے لیے مساوی مواقع اور قابل رسائی رہنمائی پر زور

یو پی ایس سی میلے کے دوسرے ایڈیشن کی ایک نمایاں خصوصیت اس میں معذور افراد کی شمولیت اور ان کے لیے مساوی مواقع کی فراہمی پر خصوصی توجہ تھی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے معذور افراد کے لیے مقرر نوڈل اور شکایات کے ازالے کے افسر ڈاکٹر محمد فیض اللہ خان نے مہمانوں اور شرکا کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں معذور طلبہ سمیت تمام امیدواروں کے لیے سازگار، قابل رسائی اور شمولیتی ماحول فراہم کرنے کے سلسلے میں یونیورسٹی کے عزم کو اجاگر کیا۔ ان کے مطابق ادارہ جاتی تعاون کو یونیورسٹی کیمپس تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسے وسیع تر سطح پر پھیلانا ضروری ہے تاکہ طلبہ کو قابل اعتماد معلومات، مناسب رہنمائی اور مساوی مواقع حاصل ہوسکیں۔

پروگرام میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مقابلہ جاتی امتحانات میں مساوی مواقع کا مطلب صرف تعلیم تک رسائی فراہم کرنا نہیں ہے، بلکہ معلومات، رہنمائی اور تیاری کے وسائل تک رسائی کو بھی یقینی بنانا ہے۔ معذور امیدواروں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے امتحانات کی تیاری کے عمل کو زیادہ شمولیتی بنانا ضروری ہے، تاکہ وہ بھی اپنی صلاحیتوں کے مطابق پیشہ ورانہ زندگی میں آگے بڑھ سکیں۔

سابق طلبہ کی رہنمائی اور ادارہ جاتی تعاون

یو پی ایس سی میلے کا انعقاد جامعہ یو پی ایس سی سوسائٹی نے کیا، جو جامعہ ملیہ اسلامیہ کی رہائشی کوچنگ اکیڈمی (آر سی اے) کے سابق طلبہ کا ایک اقدام ہے۔ اس پروگرام میں یونیورسٹی کے معذور افراد کے لیے شکایات کے ازالے کے افسر کے دفتر نے اشتراک کیا، جب کہ بانو آئی اے ایس انسٹی ٹیوٹ نے مالی تعاون فراہم کیا۔

جامعہ یو پی ایس سی سوسائٹی کا مقصد سابق کامیاب امیدواروں اور تجربہ کار افراد کے علم و تجربے کو نئی نسل تک پہنچانا ہے۔ اس طرح سابق طلبہ اپنی تیاری کے طریقوں، عملی تجربات اور کامیابی کے سفر سے حاصل ہونے والی بصیرت کو دوسروں کے ساتھ شیئر کرسکتے ہیں۔

پروگرام نے اس امر کو بھی اجاگر کیا کہ یونیورسٹیوں کے تعلیمی نظام، کوچنگ اداروں اور سابق طلبہ کے نیٹ ورک کے درمیان تعاون سے مقابلہ جاتی امتحانات کے بارے میں رہنمائی کے مواقع بڑھائے جاسکتے ہیں۔ اس سے مختلف تعلیمی اور سماجی و اقتصادی پس منظر رکھنے والے طلبہ کو سول سروسز میں آنے کی ترغیب مل سکتی ہے۔

ثقافتی پروگراموں نے تقریب کو بنایا دلچسپ

تعلیمی اور تحریکی اجلاسوں کے علاوہ میلے میں موسیقی، رقص اور یو پی ایس سی کے موضوع پر مبنی ڈرامے بھی پیش کیے گئے۔ ان ثقافتی سرگرمیوں نے تقریب کو مزید دلچسپ بنایا اور طلبہ کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کیا۔

یو پی ایس سی میلے کا دوسرا ایڈیشن اس بات کی مثال بن کر سامنے آیا کہ تعلیمی ادارے، سابق طلبہ اور رہنمائی فراہم کرنے والے ادارے مشترکہ کوششوں کے ذریعے مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے والے نوجوانوں کی مدد کرسکتے ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اس اقدام میں سول سروسز کے خواہشمند امیدواروں کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ شمولیت، مساوی مواقع اور عوامی خدمت کے جذبے کو بھی مرکزی اہمیت دی گئی۔