نئی دہلی :انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (آئی آئی سی سی) نے تعلیمی سال 2026-27 کے لیے میرٹ کم مینز(MCM) اسکالرشپ اسکیم کا اعلان کیا ہے۔ اس اسکیم کا مقصد مالی مشکلات کا سامنا کرنے والے ہونہار طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مدد فراہم کرنا ہے تاکہ مالی وسائل کی کمی ان کی تعلیمی ترقی میں رکاوٹ نہ بنے۔
آئی آئی سی سی کے چیئرمین سلمان خورشید کی سربراہی میں بورڈ آف ٹرسٹیز نے اس اسکالرشپ اسکیم کا اعلان کیا ہے۔ اسے 30 جون 2025 کو منعقدہ بورڈ میٹنگ میں منظوری دی گئی تھی اور تعلیمی سال 2025-26 سے نافذ کیا گیا تھا۔ اب 2026-27 کے لیے اہل طلبہ سے آن لائن درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔
کون درخواست دے سکتا ہے؟
آئی آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق اسکالرشپ کے لیے درخواست دینے والے امیدواروں کا ہندوستانی شہری ہونا ضروری ہے۔ انہیں ہندوستان کے کسی تسلیم شدہ تعلیمی ادارے میں باقاعدہ طالب علم کے طور پر زیر تعلیم ہونا چاہیے۔
درخواست کے لیے ایک اہم شرط یہ ہے کہ امیدوار نے آخری کوالیفائنگ امتحان میں کم از کم 60 فیصد نمبر حاصل کیے ہوں۔ اس سے کم نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کی درخواستوں پر غور نہیں کیا جائے گا۔
کن جماعتوں اور کورسز کے طلبہ اہل ہیں؟
اس اسکالرشپ اسکیم میں مختلف تعلیمی سطحوں کے طلبہ کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کے لیے درج ذیل جماعتوں اور کورسز میں زیر تعلیم طلبہ درخواست دے سکتے ہیں۔

درخواست دینے کا طریقہ اور آخری تاریخ
اسکالرشپ کے لیے درخواست کا عمل آن لائن رکھا گیا ہے۔ اہل طلبہ آئی آئی سی سی کی جانب سے فراہم کردہ ویب سائٹ پر جا کر درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔
درخواست کی آخری تاریخ 25 نومبر 2026 ہے۔
امیدواروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ آخری تاریخ کا انتظار کیے بغیر اپنی درخواستیں جمع کرا دیں۔ درخواست دینے سے پہلے اسکالرشپ سے متعلق تمام رہنما خطوط اور شرائط و ضوابط کا بغور مطالعہ کرنا ضروری ہے۔
اسکالرشپ سے متعلق اہم ہدایات
اسکالرشپ کے لیے اہلیت اور مالی امداد کی منظوری سے متعلق حتمی فیصلہ انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کرے گا۔ آئی آئی سی سی کے کنوینر ڈاکٹر خواجہ ایم شاہد کے مطابق درخواستوں پر غور کرتے وقت مقررہ شرائط و ضوابط کو مدنظر رکھا جائے گا۔
یہ اسکالرشپ مالی مشکلات سے دوچار ہونہار طلبہ کے لیے تعلیمی سفر جاری رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ اہل طلبہ کو چاہیے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر درخواست دیں اور اس اطلاع کو دوسرے ضرورت مند طلبہ تک بھی پہنچائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق امیدوار اس موقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔