نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مرکز برائے تقابلی مذاہب و تہذیبات نے 22 اکتوبر 2026 کو ایک کتاب کی رونمائی اور علمی مذاکرے کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر ایس ایم مکرم جہاں کی تصنیف ’مولانا حمید الدین فراہی اور ان کے افکار کی بازیافت‘ کی رونمائی کی گئی۔ مصنف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مرکز برائے تقابلی مذاہب و تہذیبات میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے سینئر ریسرچ فیلو ہیں۔ یہ تقریب جامعہ کے نیلسن منڈیلا مرکز برائے امن و تنازعات کے سیمینار روم میں منعقد ہوئی۔
تقریب کے آغاز میں مرکز کی ڈائریکٹر پروفیسر مہر فاطمہ حسین نے شرکا کا خیرمقدم کیا اور مصنف کا تعارف پیش کرتے ہوئے کتاب کے بنیادی موضوعات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر عاصف اور رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی کے کردار کو سراہا اور کہا کہ ان کی معاونت سے مرکز میں ایک جامع اور سازگار علمی ماحول کو فروغ ملا ہے جس کے نتیجے میں مرکز اپنے تعلیمی دائرے کو وسعت دینے اور ترقی کرنے کے قابل ہوا ہے۔
کتاب کی رونمائی کے بعد مصنف ایس ایم مکرم جہاں نے اپنی تصنیف کے اہم نکات پیش کیے۔ یہ مولانا حمید الدین فراہی (1863-1930) کی علمی و فکری خدمات پر انگریزی زبان میں لکھی گئی پہلی کتاب ہے۔ انہوں نے مولانا فراہی کے اس منفرد منہج کی وضاحت کی جس میں قرآن مجید کی تفسیر کے دوران آیات اور سورتوں کے باہمی ربط اور ساختی ہم آہنگی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ مولانا فراہی کا یہ تصور ’نظم‘ کے نام سے معروف ہے۔

مصنف نے مولانا فراہی کے وسیع تر کونیاتی اور سیاسی نظریات کا بھی جائزہ لیا اور حکمرانی کے الٰہی تصور انسانی اخلاقی ذمہ داری سماجی اصلاح اور سیاسی نظام سے متعلق ان کے افکار کی تشریح کی۔
کتاب کے تعارف کے بعد علمی مذاکرے اور سوال و جواب کی نشست کا انعقاد ہوا جس میں مولانا فراہی کی فکری میراث اور عصر حاضر میں اس کی معنویت پر گفتگو کی گئی۔ شرکا نے ان کے افکار کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا اور موجودہ علمی و سماجی تناظر میں ان کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔
تقریب کی صدارت اور نظامت ڈاکٹر اینی کناتھ نے کی جو مرکز برائے تقابلی مذاہب و تہذیبات کی فیکلٹی رکن ہونے کے ساتھ لکسمبرگ اسکول آف ریلیجن اینڈ سوسائٹی سے وابستہ پروفیسر بھی ہیں۔ وہ مصنف کی پی ایچ ڈی نگران بھی ہیں۔
تقریب میں مرکز کے اساتذہ ڈاکٹر محمد چنگیز خان اور ڈاکٹر سشٹی پانڈے کے علاوہ جامعہ کے مختلف شعبوں اور مراکز کے تحقیقی اسکالرز طلبہ و طالبات اور مصنف کے اہل خانہ نے شرکت کی۔ آخر میں ڈاکٹر اینی کناتھ نے کلمات تشکر ادا کیے اور تقریب اختتام پذیر ہوئی۔