منصور الدین فریدی/ نئی دہلی
سناتن دھرم کی نمایاں خصوصیات میں عقیدے کی آزادی، رواداری، کرم، دھرم اور خود شناسی شامل ہیں۔ ہندو فلسفے میں انسان کو خدا کی حقیقت سمجھنے سے پہلے اپنی ذات کو پہچاننے کی دعوت دی جاتی ہے۔
پاکستان کے معروف بک ٹیوبر، ٹرینر، مصنف اور کوچ شاہ رخ ندیم نے ہندو مذہب اور سناتن دھرم کے فلسفے پر اہم مذہبی کتابوں کا ذکر کرتے ہوئے ایک ویڈیو میں ان خیالات کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے ہندو مذہب کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے , میں سمجھتا ہوں کہ اس کے فلسفے میں انہیں سب سے زیادہ متاثر کرنے والی بات اس کی رواداری اور فکری وسعت ہے۔ پاکستان کے معروف بک ٹیوبر، مصنف، ٹرینر اور کوچ شاہ رخ ندیم مطالعے کے فروغ اور نوجوانوں میں علمی و فکری شعور بیدار کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ بک بڈی اکیڈمی (Book Buddy Academy) پاکستان میں مطالعے، سیکھنے، تجسس اور فکری نشوونما کے کلچر کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے ,وہ بک بڈی اکیڈمی کے بانی ہیں، جس کا مقصد پاکستان میں مطالعے، سیکھنے، تجسس اور فکری نشوونما کے رجحان کو فروغ دینا ہے۔ شاہ رخ ندیم کے مطابق کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے صرف ڈگریاں کافی نہیں، بلکہ مطالعے کا شوق، تنقیدی سوچ اور سوال کرنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت بک بڈی اکیڈمی نے لبرٹی بکس کے ساتھ شراکت داری کی ہے، تاکہ ملک میں کتابوں اور مطالعے کی ثقافت کو مزید فروغ دیا جاسکے۔

انسٹاگرام میں اپنی گفتگو کے آغاز میں شاہ رخ ندیم کہتے ہیں _ دوستو! میں ایک مسلمان ہوں، لیکن میں نے ہندو مذہب کا بہت گہرائی سے مطالعہ کیا ہے۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ ایک ہندو کون ہوتا ہے تو میرا جواب یہ ہوگا۔‘‘
سب سے پہلے میں آپ کو ہندو مذہب کے بارے میں ایک ایسی بات بتاتا ہوں جو اسے دوسرے مذاہب سے منفرد بناتی ہے۔
پہلی خصوصیت: عقیدے کی آزادی
ہندو مذہب کی ایک نمایاں خصوصیت عقیدے کے معاملے میں فکری آزادی اور وسعتِ نظر ہے۔ اس کے تحت انسان ملحد (Atheist) ہو، لاادری (Agnostic) ہو، ایک خدا پر یقین رکھتا ہو یا متعدد خداؤں کو مانتا ہو، وہ خود کو ہندو کہہ سکتا ہے۔ ہندو فلسفے میں عقیدے کی سخت پابندی کے بجائے مختلف نظریات اور روحانی راستوں کو اپنانے کی گنجائش موجود ہے۔ یہ اپنے پیروکاروں کو اپنی مرضی کے مطابق روحانی سفر اختیار کرنے اور اپنی فکری و مذہبی جستجو جاری رکھنے کی آزادی دیتا ہے۔
ایک ہندو کے لیے یہ اہم نہیں کہ آپ حضرت محمد ﷺ کو مانتے ہیں یا حضرت عیسیٰ مسیح کو، کیونکہ اس کے نزدیک سب کی منزل ایک ہی ہے اور وہ منزل ہے حتمی حقیقت (Ultimate Reality)، یعنی خدا تک پہنچنا۔
دوسری خصوصیت: رواداری
رواداری اور امن پسندی ہندو مذہب کی اہم خصوصیات میں شامل ہیں۔
تیسری خصوصیت: دھرم اور کرم کی اہمیت
ایک ہندو کے لیے دھرم اور کرم سب سے اہم چیزیں ہیں۔ دھرم سے مراد اس کے فرائض اور ذمہ داریاں ہیں، جب کہ کرم سے مراد اس کے اعمال اور کام ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایک سچا ہندو کبھی یہ سوال نہیں کرتا کہ مجھے کیا ملے گا، بلکہ وہ یہ سوال کرتا ہے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔
چوتھی خصوصیت: مختلف نظریات اور راستوں کی گنجائش
ایک ہندو کے لیے ضروری نہیں کہ ہر سوال کا صرف ایک ہی جواب ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو مذہب میں بحث و مباحثے، خدا کے مختلف تصورات اور اسے تلاش کرنے کے متعدد راستوں کی گنجائش موجود ہے۔
پانچویں خصوصیت: خود شناسی اور اپنی حقیقت کی تلاش
ایک ہندو کی پانچویں اور شاید سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے آپ سے یہ سوال کرتا رہتا ہے کہ میں کون ہوں؟
کیونکہ اس کا تصورِ ذات اس کی آتما (روح) سے جڑا ہوا ہے۔ ہندو فلسفے کے مطابق آتما دراصل حتمی حقیقت، یعنی برہمن (Brahman) ہی کا حصہ ہے۔
دوستو! کیا آپ اس بات کا مطلب جانتے ہیں؟
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہندو دراصل خدا کی حتمی حقیقت کا ہی حصہ ہے۔ انگریزی میں اسے کہتے ہیں: He is part of the Ultimate Reality.
سنسکرت میں اسی تصور کو ’’تت توَم اَسی‘‘ (تت توَم اَسی) کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے: ’’وہ تم ہی ہو۔‘‘
کیا ہے ہندو ازم
شاہ رخ ندیم اپنی دوسری ویڈیو میں ہندو دھرم کے بارے میں کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں, دنیا کا سب سے پرانا ریلیجن، مذہب یا دھرم ہے ہندوزم، جسے سناتن دھرم بھی کہتے ہیں۔ سناتن دھرم کی خاص بات یہ ہے کہ اس ریلیجن کا نہ کوئی ایک فاؤنڈر ہے اور نہ کوئی ایک کتاب۔ انفیکٹ، ہندوزم ایک ایسی کمال کی فیلوسفی ہے جو کہتی ہے کہ خدا کو سمجھنے سے پہلے سب سے پہلے اپنے آپ کو سمجھو۔
تمہاری اصل پہچان تمہاری آتما ہے، جو نہ پیدا ہوتی ہے اور نہ مرتی ہے۔ اس میں کرما کا کانسپٹ ہے، جو یہ کہتا ہے کہ تمہارا ہر عمل، ہر ایکشن کوئی نہ کوئی نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ پھر آتا ہے دھرم، جس کا مطلب ہے تمہارا فرض یا تمہارا راستہ۔
ہر انسان کا اپنا ایک کردار ہے اس دنیا میں اور اس کو پہچاننا ہی اصل امتحان ہے۔ اس کے بعد ہے سمسارہ، پیدائش اور موت کا وہ سلسلہ جہاں روح بار بار سفر کرتی ہے، جب تک وہ کچھ سیکھ نہ لے۔ اور آخری منزل ہے موکش۔
اس پورے چکر سے آزادی، جب انسان اپنی حقیقت سمجھ لیتا ہے اور سارے بندھن ٹوٹ جاتے ہیں۔ ایک مسلم ہونے کے ناتے مجھے ہندوزم میں جو سب سے خوبصورت بات لگتی ہے، وہ ہے اس کی ٹولرنس اور فلیکسیبلیٹی۔
سناتن دھرم یہ کہتا ہے کہ تمہارا راستہ کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ تم ایک ایتھیسٹ ہو سکتے ہو، تم ایک مسلم ہو سکتے ہو، لیکن اس کے باوجود بھی تم ہندو فیلوسفی پہ چل سکتے ہو۔تمہارا راستہ کچھ بھی ہو سکتا ہے، تم کسی بھی مذہب کو فالو کر سکتے ہو، لیکن بالآخر پہنچنا الٹیمیٹ ریئلٹی تک ہی ہے۔
بت پرستی کیا ہے
ایک اور ویڈیو میں شاہ رخ ندیم کہتے ہیں کہ دوستو، ایک پاکستانی مسلم ہونے کے ناتے بچپن سے ہندو ازم اور ہندوؤں کو لے کر جو میری سوچ تھی، وہ یا تو بالی ووڈ موویز پر بیس تھی یا پھر ہمارے پاپولر کلچر پر۔ جس میں صرف یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہندو بتوں کی پوجا کرتے ہیں، خود اپنے ہاتھوں سے بت بناتے ہیں اور پھر اس کے آگے ماتھا ٹیکتے ہیں۔
پھر ہمارے ملک میں محمود غزنوی جیسے لوگوں کو بھی ہیرو مانا جاتا ہے، جس نے سومناتھ کے مندر کے بتوں کو توڑا تھا۔ لیکن جب میں بڑا ہوا تو پھر میں نے ہندو ازم کو گہرائی میں پڑھا اور میں نے یہ پتہ لگانے کی کوشش کی کہ جب ایک ہندو بھگوان کی مورتی کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو اس کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ کیا ایک ہندو واقعی میں پتھر کی پوجا کرتا ہے؟
اس کا جواب اتنا سمپل نہیں ہے۔
دیکھیں، ہندو روایات میں جس چیز کو ہم عام طور پر آئیڈل کہتے ہیں یا بت کہتے ہیں، اسے اکثر مورتی کہا جاتا ہے۔ مورتی کسی بھی دیوتا کی پہچان ہوتی ہے۔ یعنی سوال یہ نہیں کہ کیا یہ پتھر خودا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس مورتی کے ذریعے ایک ہندو اپنی توجہ کس طرف لے جانا چاہ رہا ہے۔
ذرا سوچیے، ہم لوگ اپنی زندگی میں سمبلز کیوں یوز کرتے ہیں؟ آپ لوگوں کے گھروں میں بھی آپ کے ماں باپ کی، آپ کے رشتہ داروں کی تصویریں لگی ہوں گی۔ تصویر آپ کی ماں نہیں ہے، لیکن تصویر دیکھ کر آپ کو اپنی ماں یاد آ سکتی ہے۔
اسی طرح ہندو سوچ میں مورتی کو سمجھنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنی توجہ ایک نظر آنے والی صورت کے ذریعے ایک غیب، یعنی کہ چھپی ہوئی اور عظیم حقیقت کی طرف لے جائے۔ہندو مذہب میں مورتی صرف دیکھنے کی چیز نہیں، بلکہ یاد کرنے اور توجہ جمع کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
اور کچھ ہندو درشنوں میں الٹی میٹ ریئلٹی کو ایک ایسی حقیقت کے طور پر سمجھا جاتا ہے، جو ان تمام صورتوں سے بھی پرے ہے۔ اس الٹی میٹ ریئلٹی کو ادویت ویدانت کے فلسفے میں کہا جاتا ہے برہمن، یعنی کہ الٹی میٹ ریئلٹی۔
لیکن ابھی بھی سوال اٹھتا ہے کہ مورتی کے سامنے آخر پوجا کیوں؟ کیونکہ ہندو پوجا میں مورتی کے ساتھ ایک تعلق بنایا جاتا ہے۔ پھول، روشنی، خوشبو، کھانا، منتر، یہ سب صرف چیزیں نہیں، عبادت کو محسوس کرنے کے ذریعے بن جاتے ہیں۔یہاں پر ایک فلسفیانہ سوال آتا ہے کہ اگر خدا ہر جگہ موجود ہے تو پھر اس کو مورتی بنا کر ایک جگہ پر رکھنے کا کیا مقصد ہے؟
ہندو سوچ میں اس کا جواب کچھ یہ ہے کہ انسان کے ذہن کو اپنی توجہ، یعنی کہ کانسنٹریشن جمع کرنے کے لیے ایک مرکز چاہیے ہوتا ہے، ایک سینٹر چاہیے ہوتا ہے۔ ایک مورتی کے سامنے بیٹھ کر آپ اپنی توجہ کو ایک جگہ جمع کر سکتے ہیں۔
اس نظریے سے مورتی خدا کو پتھر میں قید کرنے کی کوشش نہیں، انسان کی کانسنٹریشن کو ایک مرکز، ایک سینٹر دینے کا ذریعہ ہے۔لہٰذا اگلی دفعہ جب آپ کسی ہندو کو کسی مورتی کے سامنے پوجا کرتے دیکھیں تو یہ مت کہیں کہ یہ پتھر کو خدا سمجھ بیٹھا ہے، بلکہ یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ یہ مورتی اس کے لیے کس چیز کی علامت ہے۔جس طرح ایک مسلمان کعبہ کو خدا کا گھر سمجھتا ہے، اس کے اردگرد طواف کرتا ہے، اسے دیکھ کر اسے خدا کی قربت فیل ہوتی ہے، اسی طرح کسی ہندو کے لیے کسی دیوتا کی مورتی اسے الٹی میٹ ریئلٹی سے قریب کرتی ہے۔