اورنگ زیب کا دیا خطاب۔ 316 سال پرانی درگا پوجا کی کہانی

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 13-10-2026
اورنگ زیب کا دیا خطاب۔ 316 سال پرانی درگا پوجا کی کہانی
اورنگ زیب کا دیا خطاب۔ 316 سال پرانی درگا پوجا کی کہانی

 



ظہیر الدین بابر / کولکتا

مغربی بنگال کے ہگلی کے سری پور میں مترا مستوفی خاندان آج بھی 1707 سے جاری درگا پوجا کو اسی قدیم چنڈی منڈپ میں زندہ رکھے ہوئے ہے جہاں لکڑی کی نقش کاری تاریخ کے کئی ادوار کی گواہی دیتی ہے۔مغربی بنگال کے ہگلی ضلع کے سری پور میں جب درگا پوجا کے دن آتے ہیں تو ایک قدیم گھر کی رونق اچانک بدل جاتی ہے۔ لکڑی سے بنے صدیوں پرانے چنڈی منڈپ میں عبادت کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں۔ ڈھاک کی آواز فضا میں گونجتی ہے۔ دیوی کی مورتی سجائی جاتی ہے اور خاندان کی ایک ایسی روایت پھر سے زندہ ہوجاتی ہے جو تین صدیوں سے زیادہ عرصے سے نسل در نسل منتقل ہوتی آرہی ہے۔

یہ مترا مستوفی خاندان کی درگا پوجا ہے جو 1707 سے جاری ہے۔ یعنی اس روایت کو اب 316 برس گزر چکے ہیں۔ لیکن اس پوجا کی اہمیت صرف اس کی قدامت میں نہیں بلکہ اس خاندان کی تاریخ میں بھی پوشیدہ ہے۔ ایک ایسی تاریخ جو مغلیہ دربار تک جاتی ہے اور جس کے ایک اہم موڑ پر مغل بادشاہ اورنگ زیب کا نام آتا ہے۔خاندان کی روایت کے مطابق اس کے ایک بزرگ رامیشور مترا کو مرشد قلی خان نے دہلی کے شاہی دربار میں مامور کیا تھا۔ وہ شاہستہ خان کے دور میں ایک ماہر محاسب اور خزانچی کے طور پر کام کرتے تھے۔ شاہی حساب کتاب سے متعلق ایک اہم مسئلہ انہوں نے حل کیا تو ان کی صلاحیت سے اورنگ زیب متاثر ہوئے۔

کہا جاتا ہے کہ اسی موقع پر بادشاہ نے رامیشور کو مستوفی یا مستفی کا خطاب عطا کیا۔ انہیں شاہی مہر کے طور پر سونے کا ایک نشان بھی دیا گیا۔ یہی خطاب آگے چل کر خاندان کی شناخت کا حصہ بن گیا اور آج بھی خاندان کو مترا مستوفی کے نام سے جانا جاتا ہے۔رامیشور مترا نے کئی عمارتیں تعمیر کرائیں۔ ان میں لکڑی کا ایک چنڈی منڈپ اور جورا بنگلہ مندر بھی شامل تھا۔ ان کے سات بیٹے تھے۔ بڑے بیٹے رگھونندن مترا مستوفی بعد میں ہگلی کے سری پور آکر آباد ہوئے۔ یہاں انہوں نے اپنی خوش حالی کے بل پر ایک قلعہ نما گھر تعمیر کیا اور اسی جگہ خاندان کی درگا پوجا کی بنیاد رکھی۔

رگھونندن نے اپنے آبائی علاقے اولا بیر نگر کے طرز پر ایک چنڈی منڈپ اور اس کے ساتھ ناٹ مندر تعمیر کرایا۔ 1707 میں اسی مقام پر درگا پوجا شروع ہوئی۔ وقت گزرتا گیا۔ نسلیں بدلتی گئیں۔ گھر کی دیواروں پر وقت کی گرد جمتی رہی مگر پوجا کی روایت نہیں بدلی۔آج بھی اسی چنڈی منڈپ میں درگا پوجا ہوتی ہے۔اس عمارت کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی لکڑی کی کاریگری ہے۔ دیواروں اور ستونوں پر کی گئی باریک نقش کاری اسے عام پوجا منڈپ سے مختلف بناتی ہے۔ مغربی بنگال میں لکڑی کے ایسے قدیم چنڈی منڈپ اب بہت کم رہ گئے ہیں جہاں آج بھی باقاعدگی سے درگا پوجا کی جاتی ہو۔

ایک پوجا جس میں روایتیں وقت سے زیادہ مضبوط ہیں

مترا مستوفی خاندان کی درگا پوجا میں کئی ایسی رسومات ہیں جو اسے دوسری پوجاؤں سے منفرد بناتی ہیں۔یہاں بودھن کی رسم کرشن نوامی سے شروع ہوتی ہے۔ اسی موقع پر جانور کی قربانی بھی دی جاتی ہے۔ دیوی کو شولا اور لکڑی سے تیار کیے گئے زیورات اور دیگر آرائشی اشیا سے سجایا جاتا ہے۔سپتمی کے روز چنڈی منڈپ میں نوب پترکا کی رسم ادا کی جاتی ہے۔ اس پوجا میں دیوی کو پکا ہوا کھانا پیش کرنے کی روایت نہیں ہے۔ اس کے بجائے گھی تیل دودھ شکر اور مختلف مصالحے نذر کیے جاتے ہیں۔ اروی کی جڑ کیلے کا پھول کیلے کا تنا پئی ساگ اور آلو جیسی کچی سبزیاں بھی پیش کی جاتی ہیں۔پھلوں کے ساتھ بغیر پکے چاول بھی بھوگ کا حصہ ہوتے ہیں۔ اس میں کاجو کشمش پستہ اخروٹ چیری کھجور اور آم سے تیار کی جانے والی مٹھائی شامل ہوتی ہے۔ ناریل کے لڈو چندر پُلی گڑ کی مٹھائیاں اور تل سے بنی مٹھائیاں بھی پیش کی جاتی ہیں۔شام کے وقت لُچی کے ساتھ چِڑے اور مُرکی پیش کی جاتی ہے۔ لُچی بھی سپتمی سے ہی بھوگ کا حصہ بنتی ہے۔اس پوجا میں ایک اور منفرد روایت سنکلپ کی ہے۔ خاندان کے بزرگ رگھونندن مترا مستوفی کے سات بیٹوں کی نسبت سے سات چاندی کے سکوں کے ذریعے سنکلپ کیا جاتا ہے۔

وہ آگ جو تین دن تک بجھنے نہیں دی جاتی

چنڈی منڈپ کے سامنے ایک مخصوص جگہ پر ہون کنڈ بنایا گیا ہے۔ سپتمی سے نوامی تک اس میں مسلسل آگ جلتی رہتی ہے۔یہ آگ نوامی کے روز دکشنانت کی رسم مکمل ہونے کے بعد ایک برہمن ہی بجھاتا ہے۔اس روایت کا اثر صرف خاندان تک محدود نہیں رہتا۔ گاؤں کی بیوائیں سپتمی سے دکشنانت تک چاول نہیں کھاتیں۔ وہ بھی اس مقدس عمل کے اختتام کا انتظار کرتی ہیں۔جب نوامی کی رسم مکمل ہوجاتی ہے تو خاندان کا سب سے بزرگ فرد ڈھاک بجانے والے کے ساتھ پورے گاؤں کا چکر لگاتا ہے۔ یہ دراصل گاؤں والوں کو یہ اطلاع دینے کی قدیم روایت ہے کہ رسم مکمل ہوگئی ہے۔ اس کے بعد بیوائیں اپنے برتن دھوتی ہیں اور چاول پکا کر کھاتی ہیں۔یوں خاندان کی درگا پوجا ایک مذہبی رسم سے بڑھ کر پورے گاؤں کی اجتماعی روایت بن جاتی ہے۔

دیوی کا شاہی غسل اور آئینے میں عکس

اشٹمی کے روز مہاسنان کی رسم ادا کی جاتی ہے جسے دیوی کا شاہی غسل بھی کہا جاتا ہے۔اس کے لیے مٹی کے برتنوں میں میدہ گھی تل کا تیل دودھ دہی گنے کی شکر اور شہد رکھا جاتا ہے۔ ہر چیز ایک کلو 250 گرام مقدار میں لی جاتی ہے۔ ان تمام اشیا کو گنگا کے مقدس پانی میں ملایا جاتا ہے۔لیکن اس آمیزے سے دیوی کی مورتی کو براہ راست غسل نہیں دیا جاتا۔ اس کے بجائے چاندی کے فریم میں لگے آئینے میں نظر آنے والے دیوی کے عکس پر یہ آمیزہ انڈیلا جاتا ہے۔ یہی علامتی غسل مہاسنان کی رسم مکمل کرتا ہے۔اس پوجا میں ایک اور بات بھی عام روایت سے مختلف ہے۔ چنڈی منڈپ میں بودھن سے لے کر پوجا کے اختتام تک شنکھ نہیں بجایا جاتا۔ یہاں صرف ڈھاک کی آواز سنائی دیتی ہے۔البتہ دوپہر کے وقت رادھا گووند مندر سے ایک برہمن شنکھ بجاتا ہے۔

108 نہیں صرف 51 دیے

سندھی پوجا کے بعد مترا مستوفی خاندان کے یہاں صرف 51 مٹی کے دیے روشن کیے جاتے ہیں۔یہ تعداد بھی اس خاندان کی منفرد روایت کا حصہ ہے۔خاندان کے بزرگ رکن تاپس مستوفی کے مطابق باقی 57 دیوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاتا۔ ان میں سے 14 دیے بھوت چتردشی کے روز رادھا گووند مندر میں روشن کیے جاتے ہیں۔ کالی پوجا کے روز 28 دیے دیوی کالی کے سامنے جلائے جاتے ہیں جبکہ باقی 15 دیے اسی روز رادھا گووند مندر کے سامنے روشن کیے جاتے ہیں۔اس طرح 108 دیوں کی روایت مختلف مقامات اور مختلف مواقع پر مکمل ہوتی ہے۔

قربانی کی قدیم روایت

اس پوجا میں مجموعی طور پر چھ جانوروں کی قربانی دی جاتی ہے۔ بودھن کے موقع پر ایک بکرے کی قربانی ہوتی ہے۔ سپتمی کو ایک اور بکرا قربان کیا جاتا ہے جبکہ اشٹمی اور نوامی کے روز دو دو جانوروں کی قربانی دی جاتی ہے۔نوامی کی دونوں قربانیاں یکے بعد دیگرے ہوتی ہیں۔ ان میں ایک درگا کے نام پر اور دوسری چامُنڈا کے نام پر ہوتی ہے۔قربانی کا گوشت دیوی کو پیش نہیں کیا جاتا بلکہ خاندان کے افراد اسے کھاتے ہیں۔چامُنڈا کی قربانی کے فوراً بعد ٹھنڈی پوجا کی رسم ادا کی جاتی ہے۔ اس موقع پر ناریل تربوز اور ترش پھل جیسی ٹھنڈی تاثیر رکھنے والی اشیا پیش کی جاتی ہیں۔اس کے بعد ہون کنڈ میں یگیہ شروع ہوتا ہے۔اس یگیہ میں بیل کے پتوں کی بھی ایک خاص اہمیت ہے۔ خاندان کی روایت کے مطابق مجموعی طور پر 3028 بیل کے پتے ہون کی آگ میں نذر کیے جاتے ہیں۔ سپتمی کے روز 1500 اور اشٹمی کے روز بھی 1500 پتے آگ میں ڈالے جاتے ہیں جبکہ باقی 28 پتے نوامی کے روز نذر کیے جاتے ہیں۔

 

جب دیوی کو بیٹی سمجھ کر رخصت کیا جاتا ہے

درگا پوجا کے آخری دن دشمی پر سندور کھیلنے کی رسم ادا ہوتی ہے۔ اس کے بعد کنک انجلی کی ایک ایسی روایت سامنے آتی ہے جو اس پوجا کے جذباتی پہلو کو نمایاں کرتی ہے۔ہندو معاشرے میں کنک انجلی عام طور پر شادی کے موقع پر دلہن سے وابستہ رسم ہے۔ میکے سے رخصت ہوتے وقت دلہن اپنی ماں کو اناج پیش کرتی ہے۔ یہ والدین کے احسانات کا قرض چکانے کی علامت سمجھی جاتی ہے۔مترا مستوفی خاندان کی پوجا میں دیوی کو بیٹی کا درجہ حاصل ہے۔ اسی تصور کے تحت خاندان کا سربراہ خشک دھان سکے اور سندور کی ڈبیا اپنی اہلیہ کے حوالے کرتا ہے۔ یہ ایسے ہوتا ہے جیسے بیٹی اپنے میکے سے رخصت ہوتے ہوئے ماں کے ہاتھ میں کچھ رکھ رہی ہو۔خاتون یہ اشیا قبول کرتی ہے اور پھر پیچھے مڑ جاتی ہے۔

اس لمحے میں درگا پوجا صرف ایک مذہبی تہوار نہیں رہتی بلکہ بیٹی کی رخصتی کے ایک جذباتی منظر میں تبدیل ہوجاتی ہے۔دشمی کے بعد دیوی کی مورتی کو ایک گاڑی پر رکھ کر دریائے ہگلی میں وسرجن کے لیے لے جایا جاتا ہے۔لیکن خاندان کی روایت یہاں بھی ختم نہیں ہوتی۔واپسی کے راستے میں خاندان کے سب سے بزرگ افراد قریبی راجبونشی پاڑہ میں واقع مانسا تلا جاتے ہیں اور وہاں علامتی رقم پیش کرتے ہیں۔

مستوفی خاندان کے  کمود مترا اور شیامل مترا

اس روایت کے پیچھے بھی ایک پرانی داستان ہے۔

کہا جاتا ہے کہ رادھا گووند کی اصل مورتی اسی علاقے کے ماہی گیروں کو ملی تھی۔ بعد میں جب انہوں نے یہ مورتی زمیندار خاندان کے حوالے کی تو ان کی ایک شرط تھی کہ اس تعلق اور روایت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے۔صدیاں گزر گئیں۔ خاندان کی سماجی حیثیت بدل گئی۔ مغلیہ سلطنت تاریخ کا حصہ بن گئی۔ زمینداری نظام بھی ختم ہوگیا۔ لیکن سری پور کے اس گھر میں آج بھی وہی چنڈی منڈپ موجود ہے۔ وہی قدیم رسومات ادا ہوتی ہیں۔ ڈھاک کی وہی آواز گونجتی ہے اور دیوی کی رخصتی کے ساتھ وہی پرانی کہانی اگلی نسل کے حوالے کردی جاتی ہے۔شاید اسی لیے مترا مستوفی خاندان کی 316 سالہ درگا پوجا صرف ایک مذہبی روایت نہیں ہے۔ یہ بنگال کی اس تہذیبی تاریخ کا بھی ایک زندہ ورق ہے جس میں مغلیہ دور کی یادیں خاندان کی روایتوں سے ملتی ہیں اور صدیوں پرانے رسوم و رواج آج بھی ایک گھر کی دیواروں اور لکڑی کے نقش و نگار کے درمیان سانس لیتے دکھائی دیتے ہیں۔