سعودی عرب : الباحہ میں پہلی صدی ہجری کی قدیم مسجد دریافت

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 17-09-2026
سعودی عرب : الباحہ میں پہلی صدی ہجری کی قدیم مسجد دریافت
سعودی عرب : الباحہ میں پہلی صدی ہجری کی قدیم مسجد دریافت

 



الباحہ: سعودی عرب کے الباحہ ریجن میں واقع المعملہ کے تاریخی مقام پر آثار قدیمہ کی دریافت اور کھدائی کا چوتھا سیزن مکمل ہوگیا ہے۔ اس دوران ماہرین آثار قدیمہ نے پہلی صدی ہجری سے تعلق رکھنے والی ایک قدیم مسجد کے آثار دریافت کیے ہیں۔ یہ دریافت اس علاقے میں ابتدائی اسلامی دور کی مذہبی اور سماجی زندگی پر روشنی ڈالتی ہے۔سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق المعملہ خطے کے اہم ترین آثار قدیمہ میں شمار ہوتا ہے۔ یہ مقام قدیم زمانے میں سونے چاندی اور تانبے جیسی معدنی دھاتوں کی کان کنی کے ایک اہم مرکز کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہاں معدنی خام مال نکالنے کے ساتھ ساتھ اس کی پروسیسنگ اور دھات کی تیاری کے شواہد بھی موجود ہیں۔

کھدائی کے حالیہ مرحلے میں دریافت ہونے والی مسجد تراشے ہوئے گرینائٹ پتھروں سے تعمیر کی گئی تھی۔ مسجد کی محراب داخلی راستوں اور مینار کی ساخت میں ایسی منفرد خصوصیات سامنے آئی ہیں جو اس دور کے مقامی طرز تعمیر کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتی ہیں۔مسجد کے اردگرد پتھروں سے تعمیر کیے گئے متعدد کمرے بھی دریافت ہوئے ہیں۔ امکان ہے کہ یہ جگہیں سماجی اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتی رہی ہوں گی۔ ان عمارتوں میں گودام حوض اور تعمیراتی ستون سمیت کئی ایسے عناصر ملے ہیں جو اس زمانے میں یہاں آباد لوگوں کے طرز زندگی اور تعمیراتی مہارت کی عکاسی کرتے ہیں۔

آثار قدیمہ کی ٹیم نے کھدائی کے دوران روزمرہ زندگی سے متعلق متعدد اشیا بھی محفوظ کی ہیں۔ ان میں صابونی پتھر سے بنے برتنوں کے ٹکڑے مٹی کے مختلف برتن باریک تراشے ہوئے پتھریلے اوزار چکیاں اور دستے شامل ہیں۔ یہ اشیا اس علاقے میں رہنے والے لوگوں کی معاشرتی اور اقتصادی سرگرمیوں کے بارے میں اہم شواہد فراہم کرتی ہیں۔

المعملہ کی اہمیت صرف اس کی قدیم مسجد تک محدود نہیں ہے۔ اس مقام پر سونے چاندی اور تانبے سمیت مختلف معدنیات کی کان کنی کے واضح شواہد ملے ہیں۔ یہاں ایسے آثار بھی دریافت ہوئے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ معدنی خام مال نکالنے کے بعد اسے اسی علاقے میں پروسیس کیا جاتا تھا اور دھات کی پیداوار کا عمل بھی جاری رہتا تھا۔

معدنی وسائل نے اسلامی ادوار میں المعملہ کو ایک اہم اقتصادی مرکز بنا دیا تھا۔ یہاں دھاتوں کے تاجر کان کن دھات پگھلانے والے کاریگر اور مختلف پیشوں سے وابستہ افراد آتے جاتے رہے ہوں گے۔ اس طرح یہ مقام صرف کان کنی کا مرکز نہیں رہا بلکہ وقت کے ساتھ ایک فعال معاشی بستی کی شکل اختیار کرتا گیا۔گزشتہ کھدائی کے دوران حاصل کیے گئے نامیاتی نمونوں کے تجزیے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ المعملہ میں اسلام سے پہلے بھی کان کنی کی سرگرمیاں جاری تھیں۔ لیبارٹری تحقیقات کے مطابق اس علاقے میں کان کنی کا عمل چھٹی صدی عیسوی کے اواخر سے نویں صدی عیسوی تک اپنے عروج پر رہا۔

ماہرین کی سابقہ کھدائی سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ کان کنی کی ترقی نے مختلف نوعیت کی معدنی بستیوں کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ ابتدا سطحی کانوں سے ہوئی۔ اس کے بعد عارضی آبادیوں اور علاقائی دھات پگھلانے کے مراکز نے جنم لیا اور بالآخر یہ سرگرمیاں ابتدائی اقتصادی شہروں کے قیام تک پہنچیں۔المعملہ کی یہ تاریخ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ معدنی وسائل نے صرف یہاں کی معیشت کو نہیں بدلا بلکہ انسانی آبادی اور سماجی زندگی کے ارتقا میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ حالیہ آثار اور دریافتیں اس قدیم مقام کو سعودی عرب میں ابتدائی مذہبی معاشرتی اور اقتصادی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایک اہم آثار قدیمہ کا مرکز بنا رہی ہیں۔