درگا پوجا میں نورالدین احمد کا فن، پنڈال میں اتری رامائن کی کِشکِندھا نگری

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 19-10-2026
درگا پوجا میں نورالدین احمد کا فن، پنڈال میں اتری رامائن کی کِشکِندھا نگری
درگا پوجا میں نورالدین احمد کا فن، پنڈال میں اتری رامائن کی کِشکِندھا نگری

 



 گوہاٹی: عارف الاسلام اور اپرنا داس

آسام کے مشہور مجسمہ ساز نورالدین احمد نے اپنی غیر معمولی فنکارانہ صلاحیتوں کے ذریعے رامائن کی افسانوی سلطنت کِشکِندھا نگری کو گوہاٹی کے بشنوپور بیملہ نگر سرباجنین درگا پوجا پنڈال میں ایک دلکش شکل دے دی ہے۔ سن فلاور کلب کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی درگا پوجا میں اس بار کِشکِندھا کو مرکزی موضوع بنایا گیا ہے۔ احمد کے فن کا جادو دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ پنڈال کا رخ کر رہے ہیں۔

آسام کے معروف فنکار نورالدین احمد مسلسل چوتھے سال درگا پوجا کے لیے پنڈال کی آرائش اور ڈیزائننگ کے منصوبوں سے وابستہ ہیں۔ ان کے فن پاروں کو عوام کی جانب سے خوب پذیرائی اور محبت حاصل ہو رہی ہے۔ اس سال کِشکِندھا نگری کی تخلیق کو ان کے بہترین فن پاروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

رامائن کی کِشکِندھا نگری کی جھلک

کِشکِندھا رامائن کے عہد سے منسوب ایک سلطنت تھی۔ رزمیہ داستان کے مطابق یہ بندر راجا بالی اور اس کے بھائی سگریو کا دارالحکومت تھا۔ بالی ایک جنگ میں مارا گیا، جس کے بعد سگریو اور اس کے معتمد ہنومان نے بھگوان رام کا ساتھ دیا اور سیتا کی بازیابی کے لیے لنکا پر حملے میں مدد کی۔

بشنوپور بیملہ نگر سرباجنین درگا پوجا کمیٹی نے اس سال اسی تاریخی و اساطیری موضوع کو منتخب کیا ہے۔ نورالدین احمد کے فن نے کِشکِندھا کے تصور کو ایک منفرد اور دلکش منظر میں بدل دیا ہے، جو تہوار میں آنے والوں کے لیے خوشی کے ساتھ ایک ثقافتی تجربہ بھی فراہم کرتا ہے۔

کمیٹی کے سکریٹری وکی رائے نے کہا، ’’نورالدین دا تقریباً سات سے آٹھ برس سے ہماری پوجا سے وابستہ ہیں۔ وہ اس کام کو ایسے کرتے ہیں جیسے یہ ان کا اپنا پروگرام ہو۔ تیاریاں شروع ہونے سے، تقریباً دو ماہ پہلے ہی وہ ہمارے ساتھ جڑ جاتے ہیں۔ ان کے فن کا تعارف کرانے کی ضرورت نہیں۔ وہ ہر بار ہمیں حیران کر دیتے ہیں۔‘‘

بالی، سگریو اور ہنومان کی داستان

نورالدین احمد نے آواز دی وائس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس سال ان کا موضوع کِشکِندھا ہے۔ اس میں بالی اور سگریو کی جنگ اور رامائن میں بندر فوج کے کردار کو نمایاں کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’ہم دکھانا چاہتے ہیں کہ بندر بھی انسانوں کی مدد کر سکتے ہیں۔ پنڈال کے اندر شاہی درباروں کو دوبارہ تخلیق کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہاں غاریں بھی بنائی گئی ہیں اور یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ان میں لوگوں کو کس طرح قید رکھا جاتا تھا۔‘‘

احمد کے مطابق وہ ہر سال ایسا موضوع منتخب کرتے ہیں جس سے نئی نسل کو تہذیب اور ثقافت کے بارے میں کچھ سیکھنے کا موقع ملے۔ اس سال کا موضوع خاصا مشکل ہے، اسی لیے ان کی ٹیم تقریباً دو ماہ سے اس پر کام کر رہی ہے۔

اس بار پنڈال میں کئی منفرد فن پارے اور جدید تکنیکی اثرات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ داخلی دروازے پر بندر فوج کے دو دیوہیکل محافظ کھڑے دکھائی دیں گے، جب کہ بھگوان ہنومان کو پوجا کے احاطے کے اوپر پرواز کرتے ہوئے پیش کیا جائے گا۔

احمد نے بتایا، ’’پورے منظر کو ایک غار کے اندر تخلیق کیا گیا ہے، جس میں سرنگیں بھی ہیں۔ وہاں آنے والے لوگ بالی اور سگریو کی داستان کو منظر بہ منظر دیکھ سکیں گے۔ باہر سے انہیں کِشکِندھا کی سلطنت کا نظارہ ہوگا۔‘‘

40 مقامی فنکاروں کی ٹیم

نورالدین احمد نے کِشکِندھا نگری کی تعمیر کے لیے 40 مقامی فنکاروں کی ٹیم کی قیادت کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ تقریباً 22 برس سے آسام کے کاریگروں کے ساتھ درگا پوجا کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ان کے مطابق بڑے پنڈالوں کی تیاری کے لیے اکثر بیرونی فنکاروں کو بلایا جاتا ہے، لیکن وہ آسام میں بڑے منصوبوں کو مقامی آسامی کاریگروں کی مدد سے مکمل کرتے ہیں۔

احمد نے کہا، ’’بہت سے لوگ ایسا کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس کی ذمہ داری اٹھانے کی ہمت نہیں کر پاتے۔‘‘پنڈال کی تعمیر میں پلاسٹر آف پیرس، فائبر، مٹی اور پلائی ووڈ کا استعمال کیا گیا ہے۔ احمد کے مطابق یہ ایک نیا اور مشکل موضوع ہے۔ پنڈال کے اندر غار میں شاہی محل بنایا گیا ہے، جب کہ باہر درختوں اور ہریالی سے مزین خوب صورت ماحول پیش کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ لوگوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کرنا چاہتے ہیں۔

35 سے 40 لاکھ روپے کا بجٹ

اس سال درگا پوجا کا مجموعی بجٹ تقریباً 35 سے 40 لاکھ روپے ہے، جس کا بڑا حصہ پنڈال کی تیاری پر خرچ کیا جا رہا ہے۔

کمیٹی کے سکریٹری وکی رائے نے بتایا کہ ان کے پنڈال میں روزانہ تقریباً 70 ہزار سے 80 ہزار افراد آتے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی آمدورفت کو منظم کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ تاہم کمیٹی مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر مکمل عمل کرتے ہوئے پوجا کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔

دوسرے منصوبوں پر بھی کام جاری

درگا پوجا کے پنڈال کے علاوہ نورالدین احمد کئی دوسرے منصوبوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت نوگرہ مندر میں کام جاری ہے، جب کہ بتدرووا تھان میں بھی کچھ کام باقی ہے۔نورالدین احمد کی یہ تخلیق اس بات کی مثال ہے کہ فن اور ثقافت مذہبی حدود سے آگے بڑھ کر لوگوں کو ایک دوسرے کی روایات اور داستانوں سے جوڑ سکتے ہیں۔ ایک مسلم فنکار کی جانب سے رامائن کی کِشکِندھا نگری کو فنکارانہ انداز میں پیش کرنا آسام کی مشترکہ ثقافتی روایت اور مقامی فن کاروں کی صلاحیتوں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔