مونگیر: کلیان پور کی بڑی درگا مہارانی کے لیے ملائیشیا کے مشہور ٹوئن ٹاورز کی طرز پر ایک عظیم الشان پنڈال تعمیر کرنا بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ ہماری پوری ٹیم اس بلند و بالا ڈھانچے کو پرکشش اور حقیقت سے قریب تر شکل دینے کے لیے دن رات محنت کر رہی ہے۔‘
یہ کہنا ہے جھارکھنڈ کے گریڈیہ ضلع سے تعلق رکھنے والے چیف دستکار صلاح الدین انصاری کا، جو بہار کے ضلع مونگیر کے کلیان پور علاقے میں درگا پوجا کے لیے تیار کیے جا رہے ایک منفرد پنڈال کی تعمیر میں مصروف ہیں۔صلاح الدین انصاری کے مطابق، اتنے بڑے ڈھانچے کی تعمیر آسان کام نہیں ہے۔ اس کے لیے تجربے، محنت اور پوری ٹیم کے درمیان بہتر تال میل کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام کاریگر وقت پر تعمیر مکمل کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں، تاکہ درگا پوجا کے موقع پر آنے والے عقیدت مند اس کی عظمت اور خوب صورتی کا مشاہدہ کر سکیں۔ ان کے بقول، اس وقت پوری ٹیم شدید دباؤ اور ذمہ داری کے تحت کام کر رہی ہے۔ایک مزدور نے بتایا کہ وہ لوگ گزشتہ تین ماہ سے اس پنڈال کو بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔
مزدور کے مطابق، اب تک تقریباً 40 سے 50 مزدور اس کی تعمیر میں مصروف ہیں۔ اس پنڈال کی خاص بات یہ ہے کہ اسے بنانے والے تمام مزدور مسلمان ہیں۔ جب رپورٹر نے پوچھا کہ کیا اس کام میں ایک بھی ہندو مزدور یا کاریگر شامل نہیں ہے، تو مزدور نے جواب دیا کہ نہیں، اس تعمیراتی کام میں کوئی ہندو مزدور شامل نہیں ہے۔
ملائیشیا کے ٹوئن ٹاورز کی طرز پر عظیم الشان پنڈال
بہار کے مونگیر ضلع کے کلیان پور، باریارپور میں دریائے گنگا کے کنارے واقع اس پنڈال کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی غیرمعمولی بلندی، جڑواں ٹاورز جیسی ساخت اور دلکش آرائش ہے۔ اس کے ڈیزائن میں ملائیشیا کے ٹوئن ٹاورز کے علاوہ برطانوی اور دبئی کے بعض تعمیراتی انداز سے بھی تحریک لی گئی ہے۔ رات کے وقت رنگ برنگی روشنیوں کے ذریعے اسے ایک شاندار شہری منظر کی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایک لاکھ بانس، سیکڑوں کاریگر اور دو ماہ سے زیادہ کی محنت
اس عظیم الشان پنڈال کی تعمیر میں تقریباً ایک لاکھ بانس استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس کام میں 200 سے 300 ہنرمند کاریگر مصروف ہیں، جو دو ماہ سے زیادہ عرصے سے اس ڈھانچے کو شکل دینے میں لگے ہوئے ہیں۔ تعمیر اور آرائش پر تقریباً دو سے تین کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔پنڈال کی تیاری میں شامل کاریگروں کے لیے یہ محض ایک تعمیراتی منصوبہ نہیں، بلکہ ان کی فنی مہارت، تجربے اور اجتماعی محنت کا امتحان بھی ہے۔ اتنی بلندی پر بانسوں کے ذریعے مضبوط اور متوازن ڈھانچہ تیار کرنا خاص مہارت کا تقاضا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کاریگر دن رات کام کرکے اسے وقت پر مکمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
گنگا جمنی تہذیب اور ہندو مسلم اتحاد کی خوبصورت تصویر
اس پنڈال کی تیاری میں مسلم کاریگروں کی شرکت ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی روایت اور گنگا جمنی تہذیب کی یاد دلاتی ہے۔ ہندوستان میں صدیوں سے مختلف مذاہب اور برادریوں کے لوگ ایک دوسرے کے تہواروں، ثقافتی سرگرمیوں اور سماجی زندگی میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ کلیان پور میں درگا پوجا کے لیے مسلم دستکاروں کی محنت اسی مشترکہ روایت کی ایک مثال ہے۔
درگا پوجا ہندو برادری کا اہم مذہبی اور ثقافتی تہوار ہے، لیکن اس کی تیاری میں مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والے فنکاروں اور کاریگروں کی شرکت سماجی ہم آہنگی کے جذبے کو بھی نمایاں کرتی ہے۔ صلاح الدین انصاری اور ان کی ٹیم اپنی فنی مہارت کے ذریعے ایسے پنڈال کی تعمیر میں حصہ لے رہی ہے، جسے دیکھنے کے لیے مختلف علاقوں سے لوگ پہنچیں گے۔
اس طرح یہ پنڈال صرف مذہبی تقریب کے لیے تیار کیا جانے والا ایک بڑا ڈھانچہ نہیں، بلکہ محنت، ہنر اور باہمی تعاون کی علامت بھی بن سکتا ہے۔ اس کی تعمیر میں شامل کاریگروں کی محنت یہ پیغام دیتی ہے کہ فن اور ثقافت کی دنیا میں مذہبی شناخت سے بالاتر ہوکر بھی لوگ ایک مشترکہ مقصد کے لیے کام کر سکتے ہیں۔

نامور فنکاروں کی شرکت بھی متوقع
کلیان پور کی درگا پوجا کے پروگراموں میں 18 سے 20 اکتوبر تک نامور فنکاروں کی شرکت بھی متوقع ہے۔ فراہم کردہ پروگرام کے مطابق، 18 اکتوبر کی شام بھوجپوری سنیما کے معروف گلوکار اور اداکار پون سنگھ پرفارم کریں گے۔ 19 اکتوبر کو بھرت شرما ویاس بھجن پیش کریں گے، جبکہ اسی رات گلوکار عرفان خان کی پرفارمنس بھی طے بتائی گئی ہے۔20 اکتوبر کو معروف گلوکارہ کلپنا پٹواری کے ساتھ شبیر کمار اور شیف روبی اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ ان ثقافتی پروگراموں سے درگا پوجا کی رونق میں مزید اضافہ ہونے کی توقع ہے۔
کلیان پور میں تیار کیا جا رہا یہ پنڈال اپنی بلندی، منفرد طرزِ تعمیر، وسیع آرائش اور فنکاروں کی شرکت کے باعث اس سال درگا پوجا کی نمایاں کشش بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ساتھ ہی، اس کی تعمیر میں مسلم کاریگروں کی محنت ہندوستان کی اس مشترکہ تہذیبی روایت کو بھی اجاگر کرتی ہے، جس میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے تہواروں اور ثقافتی زندگی کو اپنے ہنر اور محنت سے خوب صورت بناتے ہیں۔