منصور الدین فریدی
ممبئی کی مشہور گنیش مورتی کا آغاز ایک مسلمان زمیندار کی دی ہوئی زمین سے ہوا تھا۔ دہائیوں بعد یہی گنپتی وسرجن کا جلوس ہندوستانی مسجد کے سامنے رکنے لگا جہاں مسلمان اس کا استقبال کرتے ہیں۔ممبئی کی سب سے مشہور گنیش مورتی لال باغچا راجا کی تاریخ میں ایک ایسا باب بھی پوشیدہ ہے جو شہر کی مشترکہ تہذیب اور باہمی احترام کی ایک منفرد تصویر پیش کرتا ہے۔
آج جس لال باغچا راجا کے درشن کے لیے لاکھوں عقیدت مند ممبئی کے لال باغ کا رخ کرتے ہیں اس روایت کی ابتدائی بنیاد ایک ایسی زمین پر رکھی گئی تھی جو ایک مسلمان مقامی زمیندار نے بازار کے قیام کے لیے فراہم کی تھی۔ اسی جگہ پر آگے چل کر گنیش کی عوامی مورتی قائم ہوئی اور ایک ایسی روایت نے جنم لیا جو آج ممبئی کی مذہبی اور ثقافتی شناخت کا نمایاں حصہ بن چکی ہے۔لال باغچا راجا کی تاریخ کا یہ سفر صرف ایک گنیش منڈل کے قیام کی کہانی نہیں ہے۔ اس میں مقامی ماہی گیروں اور تاجروں کی ضروریات ہیں۔ ایک بازار کے لیے زمین حاصل کرنے کی جدوجہد ہے۔ گنیش سے مانگی گئی منت ہے۔ اور پھر کئی دہائیوں بعد اسی گنپتی کا ایک مسجد کے سامنے رکنا اور وہاں مسلمانوں کی جانب سے استقبال کیا جانا بھی اس داستان کا حصہ بن جاتا ہے۔
بازار کی زمین سے شروع ہوئی کہانی
یہ قصہ 1930 کی دہائی کے اوائل کا ہے۔ لال باغ کے علاقے میں پیرو چال کا مقامی بازار بند ہوگیا تھا جس کے باعث وہاں کام کرنے والے کولی ماہی گیروں اور تاجروں کے سامنے روزگار اور کاروبار کے لیے جگہ کا مسئلہ پیدا ہوگیا۔مقامی ماہی گیروں اور تاجروں نے فیصلہ کیا کہ اگر انہیں بازار کے لیے مستقل جگہ مل گئی تو وہ وہاں گنیش کی مورتی قائم کریں گے اور ہر سال گنیش اتسو منائیں گے۔ ان کی یہ منت بعد میں لال باغچا راجا کی روایت کی بنیاد بنی۔بازار کے لیے زمین کا انتظام ہوا اور مقامی لوگوں کو کاروبار کے لیے ایک مستقل جگہ میسر آگئی۔ اسی جگہ پر 12 ستمبر 1934 کو پہلی عوامی گنیش مورتی قائم کی گئی۔
کون تھا وہ مسلمان جس نے زمین دی؟
اس پوری داستان میں ایک اہم نام راجا ولی طیب علی کا ہے۔ وہ ممبئی کے ایک ممتاز مقامی مسلمان زمیندار تھے۔ مقامی رہنماؤں اور رہائشیوں کے ساتھ مل کر انہوں نے بازار کے لیے زمین فراہم کرنے میں تعاون کیا۔راجا ولی طیب علی کی جانب سے فراہم کی گئی زمین نے مقامی ماہی گیروں اور تاجروں کو اپنا بازار دوبارہ قائم کرنے کا موقع دیا۔ بازار کے قیام کے بعد مقامی برادری نے اپنی منت پوری کرتے ہوئے وہاں گنیش کی مورتی قائم کی۔یوں ایک مسلمان زمیندار کی جانب سے بازار کے لیے فراہم کی گئی زمین پر قائم ہونے والی گنیش مورتی نے آگے چل کر ممبئی کی معروف مذہبی روایت کی شکل اختیار کرلی۔
Some darshans don’t need words - just fold your hands and feel Bappa’s presence.
— Akanksha Parmar (@iAkankshaP) September 15, 2026
Blissful darshan of Shri Lalbaugcha Raja, Mumbai.
Jai Shri Ganesh pic.twitter.com/0RqcrvxmDf
سال 1934 میں پہلی مورتی کی تنصیب
12 ستمبر 1934 کو اس مقام پر پہلی عوامی گنیش مورتی قائم کی گئی۔ یہ آج کے لال باغچا راجا کی ابتدائی شکل تھی۔
اس پہلی مورتی کو مقامی کولی ماہی گیر برادری کی شناخت سے جوڑتے ہوئے روایتی ماہی گیر لباس پہنایا گیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی گنیش اتسو مقامی ماہی گیروں اور تاجروں کی اجتماعی زندگی اور ان کی شناخت سے گہرا تعلق رکھتا تھا۔بعد کے برسوں میں یہی گنیش منڈل اپنی مقبولیت میں مسلسل اضافہ کرتا گیا اور لال باغچا راجا ممبئی کے معروف ترین گنیش اتسو مراکز میں شامل ہوگیا۔
سال1935 سے کامبلی خاندان کا تعلق
لال باغچا راجا کی تاریخ میں کامبلی خاندان کا نام بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ 1935 سے مدھوسودن ڈی کامبلی کو لال باغچا راجا کی مورتی تراشنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔اس کے بعد ان کے بیٹے وینکٹیش کامبلی اور پھر ان کے پوتے رتناکر مدھوسودن کامبلی نے اس روایت کو آگے بڑھایا۔ کئی دہائیوں تک کامبلی خاندان کی نسلیں لال باغچا راجا کی مورتی سازی سے وابستہ رہیں۔یوں 1934 میں مقامی کولی ماہی گیروں اور تاجروں کی جانب سے قائم کی گئی پہلی مورتی کے بعد 1935 سے کامبلی خاندان کی مورتی سازی کی روایت شروع ہوئی جو وقت کے ساتھ لال باغچا راجا کی مخصوص شناخت کا حصہ بن گئی۔
’نوساچا گنپتی‘ کیوں کہا جاتا ہے؟
وقت کے ساتھ لال باغچا راجا کی شہرت ممبئی سے نکل کر ملک کے مختلف حصوں تک پھیلتی گئی۔ گنیش اتسو کے دوران لاکھوں عقیدت مند لال باغ پہنچ کر مورتی کے درشن کرتے ہیں۔عقیدت مندوں میں یہ عقیدہ بھی پایا جاتا ہے کہ لال باغچا راجا اپنے بھکتوں کی مرادیں پوری کرتے ہیں۔ اسی نسبت سے اسے ’نوساچا گنپتی‘ یعنی مرادیں پوری کرنے والے گنپتی کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔درشن کے لیے آنے والے عقیدت مندوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ کئی افراد کو مورتی کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے طویل قطاروں میں گھنٹوں بلکہ بعض اوقات کئی گھنٹوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔
Lalbaugcha Raja: Halt at Hindustani Masjid, a Unique Tradition of Hindu-Muslim Unity
— mansooruddin faridi (@mfaridiindia) September 17, 2026
لال باغچا راجا کا جلوس ہندوستانی مسجد کے قریب رک جاتا ہے۔ یہ ایسی روایت ہے جسے ممبئی میں ہندو مسلم اتحادکی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔#Mumbai #LalbaugchaRaja #HindustaniMasjid #hindumuslim pic.twitter.com/dbbS6Em4zS
مسجد کے سامنے گنپتی کا استقبال
لال باغچا راجا کی تاریخ کا ایک اور دلچسپ باب 1980 کی دہائی کے بعد سامنے آیا جب اس کے وسرجن جلوس کا ایک پڑاؤ بائیکلہ میں واقع ہندوستانی مسجد کے سامنے شروع ہوا۔مقامی مسلم رہنماؤں نے گنیش منڈل کے جلوس کے لیے تعاون پیش کیا۔ طویل وسرجن راستے کے دوران جلوس کی روانی اور انتظامات میں مسلمانوں کی جانب سے مدد کی گئی۔ وقت کے ساتھ یہ تعاون ایک مستقل روایت میں تبدیل ہوگیا۔
آجا وسرجن کے دوران جب لال باغچا راجا کی مورتی ہندوستانی مسجد کے سامنے پہنچتی ہے تو جلوس کچھ دیر کے لیے یہاں رک جاتا ہے۔ اس کے بعد اس روایت کا سب سے نمایاں پہلو سامنے آتا ہے۔ مسجد کے باہر مقامی مسلمان گنپتی کے جلوس کا استقبال کرتے ہیں۔ پھول پیش کیے جاتے ہیں اور ہار پہنائے جاتے ہیں۔ دونوں برادریوں کے درمیان مٹھائیوں کا تبادلہ بھی ہوتا ہے۔ایک طرف مسجد ہے اور دوسری جانب گنیش کی مورتی کے ساتھ عقیدت مندوں کا بڑا جلوس۔ ڈھول کی تھاپ اور گنپتی باپا کے نعروں کے درمیان مسجد کے سامنے یہ مختصر پڑاؤ ممبئی کی مشترکہ شہری زندگی کی ایک منفرد تصویر پیش کرتا ہے۔یہ روایت اس بات کی مثال بھی بنتی ہے کہ مذہبی شناختوں کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر باہمی احترام اور تعاون کی روایات کس طرح جنم لیتی ہیں اور وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی جاتی ہیں۔

آج لال باغچا راجا ممبئی کے گنیش اتسو کا ایک بڑا مرکز ہے۔ ہر سال ممبئی کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں سے لوگ یہاں پہنچتے ہیں۔اس کی تاریخ کو دیکھا جائے تو اس کے پیچھے ایک بازار کے قیام کی ضرورت ہے۔ مقامی ماہی گیروں اور تاجروں کی جدوجہد ہے۔ایک مسلمان زمیندار کی جانب سے زمین فراہم کرنے کا واقعہ ہے۔ پھر ہندوستانی مسجد کے سامنے اس کے استقبال کی روایت بھی ہے۔اسی لیے لال باغچا راجا کی کہانی صرف ایک مذہبی تہوار کی داستان نہیں بلکہ ممبئی کے بدلتے ہوئے سماجی اور ثقافتی منظرنامے کی بھی ایک جھلک پیش کرتی ہے۔