ظہیر الدین بابر/ کولکتا
مغربی بنگال کی تہذیب کی ایک خوبصورت خصوصیت یہ ہے کہ یہاں تہوار مختلف مذاہب کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں۔ عید ہو، درگا پوجا یا کرسمس، بنگال کے مختلف علاقوں میں لوگ مذہبی اختلافات سے بالاتر ہوکر تہواروں میں شریک ہوتے ہیں۔ اسی روایت کی ایک منفرد مثال مرشدآباد کے رگھوناتھ گنج علاقے میں گزشتہ 600 برس سے جاری ’کوڈا کھاکھی درگا پوجا‘ ہے، جہاں روایت کے مطابق دیوی درگا کو سب سے پہلے بھوگ ایک مسلمان خاندان کی جانب سے پیش کیا جاتا ہے۔
مسلم اکثریتی علاقے میں 600 سال پرانی روایت
یہ منفرد درگا پوجا مرشدآباد کے رگھوناتھ گنج کے لکشمی جناردن پور علاقے کے بہورا گاؤں میں منعقد ہوتی ہے۔ اس پوجا کی خاص بات یہ ہے کہ یہ مسلم اکثریتی علاقے میں ہوتی ہے اور اس کے لیے پوجا کا پہلا بھوگ بھی ایک مسلمان گھرانے سے آتا ہے۔مقامی روایت کے مطابق ہر سال بودھن سے ایک روز قبل علاقے کے کسی مسلمان خاندان کے فرد کو خواب میں دیوی درگا کی جانب سے ہدایت ملتی ہے کہ اس سال کون سی چیز کب اور کس طرح پیش کی جائے۔ مقامی لوگ گزشتہ کئی صدیوں سے اس روایت کو اسی طرح نبھاتے آرہے ہیں۔روایت کے مطابق دیوی کو سب سے پہلے مسلمان خاندان کی جانب سے تیار کیا گیا بھوگ پیش کیا جاتا ہے، اس کے بعد دوسرے خاندان بھی اپنا بھوگ پیش کرتے ہیں۔
’کوڈا کھاکھی‘ نام کیسے پڑا؟
اس پوجا کے نام کے پیچھے بھی ایک دلچسپ روایت بیان کی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ صدیوں قبل علاقے میں ایک شدید سیلاب آیا تھا، جس کے نتیجے میں کھیت پانی میں ڈوب گئے اور فصلیں تباہ ہوگئیں۔اسی دوران ایک مسلمان خاندان کے فرد کو خواب میں دیوی درگا کی جانب سے ہدایت ملی کہ انہیں کوڈا چاول، سہانجنا، کٹھل اور گنگا کی تازہ ہلسا مچھلی پیش کی جائے۔اس زمانے میں ’کاؤن‘ چاول کو ’کوڈا‘ کہا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے یہ پوجا ’کوڈا کھاکھی درگا‘ کے نام سے مشہور ہوئی، یعنی ’کوڈا چاول کھانے والی درگا‘۔ مقامی لوگ دیوی کو ’ماں کوڈا کھاکھی‘ بھی کہتے ہیں۔

بنرجی خاندان نے شروع کی پوجا
مقامی روایت کے مطابق اس پوجا کا آغاز بنرجی خاندان نے کیا تھا، جو ساگردیگھی کے منی گرام میں رہتا تھا۔ بعد میں سرت چندر بنرجی بہورا آئے۔ وہ جیوت کمال علاقے میں زمیندار تھے۔کہا جاتا ہے کہ اس زمانے میں ڈاکو ایک جنگل میں ماں درگا کی پوجا کیا کرتے تھے۔ ایک دن سرت چندر بنرجی نے کام سے واپسی کے دوران جنگل میں ہونے والی یہ پوجا دیکھی۔ اگلے روز دیوی درگا نے مبینہ طور پر انہیں خواب میں درشن دیے اور اپنے گھر میں پوجا کرنے کی ہدایت کی۔اس کے بعد انہوں نے اپنے گھر میں دیوی کی مورتی قائم کرکے پوجا شروع کردی۔
مسلمان بیوہ اور ’نرس‘ کی روایت
اس روایت کا سب سے اہم حصہ ایک غریب مسلمان بیوہ سے جڑا ہوا ہے، جسے مقامی طور پر ’لوکر ماں‘ کہا جاتا تھا۔ وہ بہورا گاؤں میں رہتی تھیں۔کہا جاتا ہے کہ زمیندار خاندان نے ان سے دیوی کے لیے بھوگ پیش کرنے کی درخواست کی، لیکن غربت کی وجہ سے وہ خود اپنا پیٹ پالنے کے قابل نہیں تھیں، چہ جائیکہ دیوی کے لیے کھانا تیار کرتیں۔
مقامی روایت کے مطابق اسی رات دیوی درگا ان کے خواب میں آئیں۔ اس کے بعد وہ جنگل گئیں، وہاں سے کوڈا چاول جمع کیے اور ان سے ’نرس‘ یعنی چاول کے گول لڈو نما پکوان تیار کرکے دیوی کو پیش کیے۔آج بھی اس پوجا میں کوڈا چاول کے نرس کو خصوصی بھوگ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
مسلمان خواتین بھی پوجا کی روایت میں شریک
’کوڈا کھاکھی درگا پوجا‘ کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہاں روایتی درگا پوجا کی طرح آرتی اور پشپانجلی نہیں کی جاتی۔ تاہم تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد اس پوجا میں شرکت کرسکتے ہیں۔روایت کے مطابق مسلمان خواتین درگا کی مورتی کے ہاتھوں میں ’شاکھا‘ اور ’پولا‘ پہناتی ہیں۔ یہ سفید اور سرخ چوڑیاں بنگالی ہندو شادی شدہ خواتین کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں۔پوجا کے دوران بکرے کی قربانی بھی ایک مذہبی رسم کے طور پر ادا کی جاتی ہے۔
ہندو مسلم ہم آہنگی کی صدیوں پرانی مثال
’کوڈا کھاکھی درگا پوجا‘ صرف ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ بنگال کی مشترکہ تہذیب اور سماجی ہم آہنگی کی ایک قدیم مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ 600 برس سے جاری یہ روایت دکھاتی ہے کہ مذہبی رسومات مختلف ہونے کے باوجود مقامی ثقافت اور تہذیبی رشتے لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑ سکتے ہیں۔ مرشدآباد کی یہ پوجا آج بھی اسی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہے، جہاں ایک مسلمان خاندان کے بھوگ سے درگا پوجا کا آغاز ہوتا ہے اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ مل کر اس تہوار کا حصہ بنتے ہیں۔