کشمیر : نمدا سازی کا ہنر، فاروق احمد خان اور نسیمہ فاروق کی کوششوں سے آج بھی زندہ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 01-11-2026
کشمیر : نمدا سازی کا ہنر، فاروق احمد خان اور نسیمہ فاروق کی کوششوں سے آج بھی زندہ
کشمیر : نمدا سازی کا ہنر، فاروق احمد خان اور نسیمہ فاروق کی کوششوں سے آج بھی زندہ

 



سری نگر

نمدا کشمیر کی قدیم اور روایتی دست کاری کا ایک اہم حصہ ہے۔ بھیڑ کی اون سے تیار ہونے والے اس گرم اور نرم قالین نما بچھونے کو بنانے کا ہنر نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے۔ وقت کے ساتھ جہاں اس فن سے وابستہ کاریگروں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے-

مگر سری نگر کے صفا کدل علاقے میں رہنے والے فاروق احمد خان اور ان کی اہلیہ نسیمہ فاروق گزشتہ کئی دہائیوں سے اسے زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں

فاروق احمد خان اپنی نمدا سازی کے سفر کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس ہنر کو سیکھنے میں مجھے دو سال لگ گئے۔ گھر کی ذمہ داریوں کے باعث دن میں وقت نہیں ملتا تھا، اس لیے شام کو ایک دو گھنٹے مشق کیا کرتا تھا۔ تقریباً 50 برس سے اس فن سے وابستہ فاروق نے اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر نہ صرف خاندانی ہنر کو سنبھالا ہے بلکہ اس میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے نئے رنگ بھی بھرے ہیں۔ ان کی اہلیہ نسیمہ فاروق نے بھی کام کو قریب سے دیکھتے ہوئے یہ ہنر سیکھا اور آج نمدا سازی میں اپنے شوہر کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر کام کر رہی ہیں۔

کشمیر کی روایتی دست کاری محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ یہاں کی تہذیب اور ثقافتی ورثے کا اہم حصہ ہے۔ اسی ورثے کی ایک خوبصورت مثال نمدا ہے جو بھیڑ کی اون سے تیار کیا جانے والا ایک روایتی قالین ہے۔ وقت کے ساتھ جہاں اس ہنر سے وابستہ کاریگروں کی تعداد کم ہوتی گئی ۔ فاروق احمد خان اور ان کی اہلیہ نسیمہ فاروق نے گزشتہ کئی دہائیوں سے اس فن کو زندہ رکھنے کی کوشش جاری رکھی ہے۔ ان کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ اگر محنت کے ساتھ اپنے ہنر سے محبت بھی ہو تو بدلتے وقت اور مشکلات کے باوجود روایتی فنون کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔نمدا کشمیر کی قدیم دست کاریوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ فن نسل در نسل منتقل ہوتا رہا ہے اور صدیوں سے کشمیری زندگی اور ثقافت کا حصہ رہا ہے۔ فاروق احمد خان کے مطابق ان کے خاندان اور علاقے کے کئی بزرگوں نے اس ہنر کو آگے بڑھایا ہے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس کام سے وابستہ کاریگروں کی تعداد گھٹتی چلی گئی۔ ایسے حالات میں فاروق اور نسیمہ نے نہ صرف اس کام کو جاری رکھا بلکہ اس میں نئے تجربات کرکے اپنی الگ شناخت بھی قائم کی۔

پچاس سال سے نمدا سازی سے وابستہ ہیں فاروق احمد خان

فاروق احمد خان بتاتے ہیں کہ وہ تقریباً 50 برس سے نمدا سازی کے کام سے وابستہ ہیں۔ شادی کے بعد ان کی اہلیہ نسیمہ فاروق نے بھی اس کام کو سیکھنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ وہ اس فن میں ان کی معاون بن گئیں۔ پہلے ان کے ساتھ کئی کاریگر کام کرتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ان کی تعداد کم ہوتی گئی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ خاندان کے صرف تین افراد مل کر یہ کام انجام دے رہے ہیں اور باہر سے کوئی کاریگر کام کرنے کے لیے نہیں آتا۔فاروق احمد خان نے روایتی نمدا سازی کے ساتھ ساتھ اس فن میں نئے تجربات بھی کیے۔ اسی دوران ان کی توجہ ایک نئی طرز کی دست کاری کی طرف گئی جسے انہوں نے سیکھنے کا فیصلہ کیا۔ ابتدا میں انہیں اس کام میں کامیابی نہیں ملی لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ گھر کی ذمہ داریوں اور روزگار کی مجبوریوں کے باعث وہ دن بھر اس کام کو سیکھنے کے لیے وقت نہیں نکال سکتے تھے۔ چنانچہ وہ شام کے وقت روزانہ ایک سے دو گھنٹے اس کی مشق کرتے تھے۔ مسلسل دو سال کی محنت کے بعد وہ اس ہنر میں مہارت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔وہ بتاتے ہیں کہ اس کام میں بعض مراحل ایسے ہوتے ہیں جنہیں اکیلے انجام دینا ممکن نہیں ہوتا۔ خاص طور پر ابتدائی مرحلے میں دوسرے شخص کی مدد درکار ہوتی ہے تاکہ کام کو درست طریقے سے ترتیب دیا جا سکے۔ یہی وجہ تھی کہ نسیمہ فاروق بھی اس کام میں ان کے ساتھ شامل ہو گئیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نسیمہ نے اپنے شوہر کو کام کرتے ہوئے دیکھ کر بہت سی باریکیاں سیکھیں اور بعض معاملات میں وہ ان سے بھی آگے نکل گئیں۔

شوہر اور بیوی کی مشترکہ محنت

فاروق احمد خان اپنی کامیابی میں اہلیہ کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نسیمہ نے ہر مرحلے پر ان کا ساتھ دیا ہے۔ نمدا سازی ایسا کام ہے جس میں دونوں کی مشترکہ محنت اور باہمی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ نسیمہ نے اس فن میں اپنی صلاحیتوں کو اس قدر نکھارا کہ وہ نہ صرف کام میں ان کی مدد کرتی ہیں بلکہ کئی مرتبہ ایسے مشورے بھی دیتی ہیں جن سے تیار ہونے والی مصنوعات کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔فاروق احمد خان کے مطابق بعض اوقات نسیمہ انہیں کسی نقش یا ڈیزائن میں تبدیلی کا مشورہ دیتی ہیں اور اس طرح تیار ہونے والی چیز پہلے سے زیادہ خوبصورت نظر آنے لگتی ہے۔ وہ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کئی بار ان کے ذہن میں بھی وہ خیال نہیں آتا جو نسیمہ اپنے تجربے اور باریک بینی کی بنیاد پر پیش کر دیتی ہیں۔نسیمہ فاروق نے بھی اس کام میں اپنی الگ شناخت قائم کی ہے۔ خاص طور پر پیوند کاری کے ذریعے تیار کیے جانے والے نمدا اور آرائشی اشیا کی تیاری میں انہوں نے مہارت حاصل کی ہے۔ فاروق احمد خان کے مطابق ان کے گھر میں تیار ہونے والے مخصوص طرز کے پیوند کاری والے نمدا منفرد ہیں اور اس کام میں نسیمہ کی محنت اور دلچسپی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔

محنت کو ملے اعزازات

فاروق احمد خان کی کئی دہائیوں پر محیط محنت کو مختلف اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے۔ ان کے مطابق انہیں 2013ء اور 2015ء کے علاوہ 2017ء میں بھی اعزاز حاصل ہوا۔ ان کامیابیوں میں ان کی اہلیہ نسیمہ فاروق کی محنت اور تعاون کا اہم حصہ رہا ہے۔ دونوں نے ایسے وقت میں اس فن کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جب روایتی دست کاری کے شعبے میں کاریگروں کی تعداد مسلسل کم ہو رہی تھی۔فاروق احمد خان اب بھی قومی سطح پر مزید اعزاز حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے اپنی تیاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے لیے یہ کام صرف آمدنی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسا فن ہے جسے وہ اپنی زندگی کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ ان کی محنت کو مزید پہچان ملے اور کشمیری نمدا سازی کو وسیع سطح پر متعارف کرایا جائے۔

بدلتے وقت میں روایتی ہنر کو محفوظ رکھنے کی کوشش

روایتی دست کاری کو زندہ رکھنا آسان نہیں ہے۔ اس کے لیے وقت اور محنت کے ساتھ ساتھ مسلسل مشق اور نئی نسل کی دلچسپی بھی ضروری ہے۔ فاروق احمد خان اور نسیمہ فاروق کی کہانی اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ جب ایک خاندان اپنے روایتی ہنر سے وابستگی برقرار رکھتا ہے تو وہ صرف ایک پیشے کو جاری نہیں رکھتا بلکہ اپنے علاقے کی تہذیبی شناخت کو بھی محفوظ بناتا ہے۔آج جب جدید مصنوعات اور بدلتے رجحانات کے باعث روایتی دست کاریوں کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے تو اس جوڑے کی کوششیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کی زندگی میں محنت اور باہمی تعاون کے ساتھ اپنے کام سے محبت کا جذبہ نمایاں ہے۔ تقریباً چھ دہائیوں سے نمدا سازی کے فن سے وابستہ یہ خاندان اس بات کی مثال ہے کہ روایتی ہنر کو زندہ رکھنے کے لیے صرف مہارت کافی نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ صبر اور مستقل مزاجی بھی ضروری ہے۔فاروق احمد خان اور نسیمہ فاروق کی یہ داستان کشمیر کے اس ثقافتی ورثے کی کہانی ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے۔ ان کی کوششیں نہ صرف نمدا سازی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں بلکہ یہ پیغام بھی دیتی ہیں کہ کسی فن کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے محض ماضی کی یادگار سمجھنے کے بجائے اپنی زندگی اور روزگار کا حصہ بنایا جائے۔