ظہیر الدین بابر | کولکتا
دیوالی کو عموماً ہندوؤں کا مذہبی تہوار تصور کیا جاتا ہے، لیکن برصغیر کی مشترکہ تہذیبی روایت کا حصہ ہونے کے باعث ہندوستانی مسلمان بھی صدیوں سے اس کی خوشیوں میں شریک ہوتے آئے ہیں۔ مغل بادشاہوں کے شاہی درباروں میں جشنِ چراغاں منانے کی روایت ہو یا آج مختلف شہروں کی درگاہوں پر دیے روشن کرنے کا اہتمام، یہ سب ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب، مذہبی رواداری اور مشترکہ ثقافتی ورثے کی خوبصورت عکاسی کرتے ہیں۔
گوری بھویان
دیوالی کا نام آتے ہی روشنیوں اور چراغوں سے سجے گھروں اور بازاروں کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے۔ ہندوستان کے بڑے شہروں میں رہنے والے بہت سے لوگوں کے لیے یہ تہوار ہر سال تاریخ کے ان واقعات کو یاد کرنے کا موقع بھی ہوتا ہے جن میں بھگوان رام کی ایودھیا واپسی کا ذکر ملتا ہے۔لیکن بہت سے لوگوں کے لیے دیوالی محض ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ باہمی میل جول اور مشترکہ خوشیوں کی علامت بھی ہے۔ یہ ایسا موقع ہے جو ہمیں اپنی اس تہذیبی روایت کی یاد دلاتا ہے جسے محفوظ رکھنا آج پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔ وبا کے دور نے بھی ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے اور اجتماعی خوشیوں کی اہمیت کا احساس مزید گہرا کر دیا تھا۔ گھروں میں محدود رہنے کے دوران لوگوں کو یہ سوچنے کا موقع ملا کہ ایسے تہوار ہماری زندگیوں میں کتنی اہمیت رکھتے ہیں۔
ہندوستان کی تاریخ مذہبی رواداری اور مشترکہ تہذیب کی متعدد مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس ورثے کو یاد رکھیں اور اسے کمزور کرنے والی سوچ کا مقابلہ کریں۔ آج جب مذہبی بنیادوں پر تقسیم اور نفرت کے واقعات تشویش کا باعث بن رہے ہیں تو ماضی کی ان مثالوں پر غور کرنا اہم ہو جاتا ہے جن میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں نے ایک دوسرے کے عقائد اور تہواروں کو احترام کی نگاہ سے دیکھا۔اسی تناظر میں دیوالی کی تقریبات میں ہندوستانی مسلمانوں کی شرکت کی تاریخ بھی قابلِ توجہ ہے۔ہندو مسلم تعلقات کی تاریخ میں اختلافات اور کشیدگی کے کئی ادوار ضرور آئے ہیں۔ بعض مؤرخین ان اختلافات کے موجودہ سیاسی پس منظر کو برطانوی دور کی تقسیم پیدا کرنے والی پالیسیوں سے بھی جوڑتے ہیں۔ تاہم ہندو مسلم میل جول اور باہمی احترام کی روایت برطانوی دور سے بہت پہلے کی ہے۔ اس کی جڑیں ہندوستان کے قدیم شاہی ادوار اور سلطنتوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔

مغل دربار میں دیوالی اور جشنِ چراغاں
عام طور پر محمد بن تغلق کو ایک متنازع حکمران کے طور پر یاد کیا جاتا ہے لیکن ان کے عہد میں بھی ہندو تہواروں کو شاہی دربار میں منانے کی روایت کے شواہد ملتے ہیں۔ وہ 1324 سے 1351 تک دہلی کے تخت پر فائز رہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی ہندو بیویوں نے شاہی دربار میں ہندو تہواروں کی تقریبات کا اہتمام کیا تھا۔بعد کے ادوار میں یہ روایت مزید مستحکم ہوئی۔ مغل بادشاہ اکبر کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ دیوالی کو بڑے اہتمام سے مناتے تھے۔ لال قلعے کا رنگ محل شاہی سطح پر دیوالی کی تقریبات کا ایک اہم مرکز تھا۔ اس زمانے میں دیوالی کو جشنِ چراغاں بھی کہا جاتا تھا۔
اکبر اپنے ہندو رعایا کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے تھے اور اسی جذبے کے تحت دیوالی کی تقریبات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ ان کا یہ طرزِ عمل اس بات کی مثال تھا کہ ایک حکمران اپنی رعایا کے مختلف مذاہب اور تہذیبی روایات کا احترام کس طرح کر سکتا ہے۔یہ بھی روایت ہے کہ اکبر نے دیوالی کے موقع پر مٹھائیاں تقسیم کرنے کا رواج شروع کیا تھا۔ شاہی محل میں آنے والے مہمانوں کے استقبال کے لیے مٹھائیوں سے سجی تھالیاں پیش کی جاتی تھیں۔ ان میں گھیور اور پیٹھا کے علاوہ کھیر اور پیڑا جلیبی فرنی اور شاہی ٹکڑا جیسی مٹھائیاں شامل ہوتی تھیں۔دیوالی کے موقع پر شاہی دربار میں رامائن بھی پڑھی جاتی تھی اور بھگوان رام کی ایودھیا واپسی کے واقعے کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا جاتا تھا۔ ابوالفضل نے اپنی معروف تصنیف آئین اکبری میں اکبر کے عہد کی ان روایات کا ذکر کیا ہے۔ مضمون کے مطابق ان تقریبات نے مغل سلطنت میں مختلف مذہبی برادریوں کے درمیان قربت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
بہادر شاہ ظفر کے دور تک جاری رہی روایت
مغل دربار میں دیوالی منانے کی روایت اکبر کے بعد آنے والی نسلوں میں بھی جاری رہی اور آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے زمانے تک برقرار رہی۔ہادر شاہ ظفر دیوالی کے موقع پر لال قلعے میں خصوصی ڈرامائی تقریبات کا اہتمام کرتے تھے۔ ان تقریبات میں دیوالی کے موضوع پر ڈرامے پیش کیے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ لکشمی پوجا کا اہتمام بھی کیا جاتا تھا جس میں عام لوگوں کو شرکت کی اجازت ہوتی تھی۔یہ روایت اس تاریخی حقیقت کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ ہندوستان میں مختلف مذہبی تہوار ہمیشہ ایک دوسرے سے الگ تھلگ نہیں رہے بلکہ کئی ادوار میں انہیں مشترکہ ثقافتی زندگی کا حصہ سمجھا جاتا رہا ہے۔
آج بھی درگاہوں میں روشن ہوتے ہیں دیے
موجودہ دور میں بھی ہندوستانی مسلمان دیوالی کی تقریبات میں مختلف انداز سے شریک ہوتے ہیں۔ ممبئی کی حاجی علی درگاہ پر دیوالی کے موقع پر روشنیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ دہلی کی حضرت نظام الدین درگاہ بھی اس موقع پر چراغوں اور آرائشی روشنیوں سے سجائی جاتی ہے۔پونے میں شنیوار واڑہ کے قریب واقع بابا حضرت مقبول حسین مدنی کی درگاہ کی دیوالی سے جڑی ایک دلچسپ روایت ہے۔ تقریباً 20 سال قبل علاقے میں رہنے والے ایک ہندو خاندان نے درگاہ میں ایک شمع روشن کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔ درگاہ انتظامیہ نے اس درخواست کو قبول کر لیا۔رفتہ رفتہ دوسرے لوگوں نے بھی اس روایت میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ آج ہر سال شنیوار واڑہ کے مقامی باشندے چندہ جمع کرتے ہیں اور اسی رقم سے دیے اور آرائشی سامان خرید کر درگاہ کو روشن کرتے ہیں۔ یہ درگاہ تیرہویں صدی میں تعمیر کی گئی تھی۔

راجستھان میں صوفی بزرگ اور ہندو سنت کی دوستی کی یاد
راجستھان کے جھنجھنو میں واقع کمرالدین شاہ کی درگاہ بھی دیوالی کی مشترکہ تقریبات کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ تقریباً 250 سال پہلے صوفی بزرگ کمرالدین شاہ اور ہندو سنت چنچل ناتھ جی ایک ایسی غار میں ملاقات کیا کرتے تھے جو درگاہ اور چنچل ناتھ جی کے آشرم کو آپس میں ملاتی تھی۔ان دونوں بزرگوں کی دوستی اور باہمی احترام کی یاد میں آج بھی ہندو اور مسلمان مل کر درگاہ میں دیے روشن کرتے ہیں اور آتش بازی کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس طرح علاقے کے لوگ ایک قدیم روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں جو مذہبی ہم آہنگی اور انسانی رشتوں کی خوبصورت مثال ہے۔خوشی اور جشن کو کسی ایک مذہب یا برادری تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کا حسن بھی اسی میں ہے کہ یہاں مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ دیوالی سے جڑی مسلمانوں کی یہ روایات یاد دلاتی ہیں کہ روشنی اور محبت کی کوئی مذہبی سرحد نہیں ہوتی۔ یہی وہ تہذیبی ورثہ ہے جسے محفوظ رکھنا آج پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔