محبوب الٰہی حضرت نظام الدین اولیاءؒ: محبت و شفقت سے دلوں پر حکمرانی

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 01-10-2026
محبوب الٰہی حضرت نظام الدین اولیاءؒ: محبت و شفقت سے دلوں پر حکمرانی
محبوب الٰہی حضرت نظام الدین اولیاءؒ: محبت و شفقت سے دلوں پر حکمرانی

 



عرس حضرت نظام الدین اولیاء  پر خاص پیشکش

زیبا نسیم / ممبئی

برصغیر میں اولیاء اللہ اور صوفیائے کرام نے اپنے کردار کی بلندی اور محبت و شفقت کے ذریعے اسلام کی روشنی پھیلانے میں جو کردار ادا کیا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ محبوب الٰہی حضرت نظام الدین اولیاءؒ بھی انہی بزرگوں میں شامل ہیں۔ ان کے عقیدت مندوں اور چاہنے والوں میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ہر مذہب اور ہر طبقۂ فکر کے لوگ شامل ہیں۔ دہلی میں واقع خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کے مزار پر آج بھی بڑی تعداد میں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔

نظام الاولیاء کے القابات

حضرت نظام الدین اولیاءؒ سلسلۂ چشتیہ کے معروف صوفی بزرگ گزرے ہیں۔ ان کا اصل نام سید محمد نظام الدین اور والد کا نام سید احمد بخاری تھا۔ انہیں ’نظام الاولیاء‘۔ ’محبوب الٰہی‘۔ ’سلطان المشائخ‘۔ ’سلطان الاولیاء‘ اور ’زری زر بخش‘ کے القابات سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔حضرت نظام الدین اولیاءؒ کا ذکر آتا ہے تو امیر خسرو کا نام بھی لیا جاتا ہے جو ان کے چہیتے مرید اور مشہور خلیفہ تھے۔ امیر خسرو فارسی اور اردو کے مشہور صوفی شاعر اور ماہر موسیقی بھی تھے۔ انہوں نے 8 بادشاہوں کا زمانہ دیکھا اور برصغیر میں اسلامی سلطنت کے ابتدائی ادوار کی سیاسی۔ سماجی اور ثقافتی زندگی میں سرگرم حصہ لیا۔

بدایوں میں ولادت اور ابتدائی زندگی

خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کی ولادت شہر بدایوں میں 27 صفر 636 ہجری بمطابق 1238ء میں ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے دادا سید علی بخاری اور ان کے چچا زاد بھائی حضرت سید عرب اہل و عیال کے ہمراہ بخارا سے ہجرت کرکے بدایوں میں آباد ہوئے تھے۔ یہ دونوں بزرگ اپنے وقت کے بڑے متقی اور پرہیزگار تھے اور معزز ہستیوں میں شمار ہوتے تھے۔حضرت نظام الدین اولیاءؒ بمشکل 5 برس کے ہوئے تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا۔ ان کی والدہ حضرت بی بی زلیخا نے دن رات محنت کی اور کام کاج کرکے اپنے یتیم بچے کی عمدہ پرورش کی۔ ان کی آمدنی قلیل تھی اور انہوں نے بڑی تنگ دستی کے ساتھ وقت گزارا۔اسی زمانے میں نظام الدین اولیاءؒ نے قرآن حفظ کیا۔ بعد ازاں مولانا علاء الدین اصولیؒ کے درس میں شرکت کی اور ابتدائی دینی تعلیم کے بعد فقہ حنفی کی کتابیں پڑھیں۔ مولانا علاء الدین اصولیؒ نے اپنے شاگرد کے سر پر دستار فضیلت باندھی۔ اس موقع پر اپنے وقت کے ایک ولی بھی موجود تھے اور کہا جاتا ہے کہ انہی کی دعا کے ساتھ حضرت نظام الدین اولیاءؒ علم و معرفت کے نئے سفر پر نکلے۔

بابا فریدؒ سے عقیدت اور بیعت

دہلی میں حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے قرب میں ہی حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ کے بھائی حضرت شیخ نجیب الدین متوکلؒ کی رہائش گاہ تھی۔ حضرت نظام الدین اولیاءؒ اکثر حضرت شیخ نجیب الدین متوکلؒ سے ملاقات فرماتے تھے۔ انہی کی زبانی حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ کے مرتبے کے بارے میں سنتے رہے اور دل میں ان کی عقیدت راسخ ہوگئی۔حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے دل میں بابا فریدؒ سے ملاقات کی خواہش بڑھنے لگی۔ اسی غرض سے انہوں نے پاک پتن کا قصد کیا اور دربار عالیہ میں حاضر ہوئے۔ بابا فرید الدین گنج شکرؒ کے دست مبارک پر بیعت کے بعد ان کے روحانی دربار سے فیض حاصل کیا۔ایک مدت تک خدمت گزاری اور طاعت شعاری کے بعد جب مرتبۂ کمال کو پہنچے تو بابا فرید الدین گنج شکرؒ نے انہیں دہلی جانے کا حکم دیا تاکہ رشد و ہدایت کا کام انجام دیں۔

دہلی میں مقبولیت

حضرت نظام الدین اولیاءؒ کو دہلی میں ان کے علم و فضل اور تقویٰ کے سبب بہت عزت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔ عام و خاص سب لوگ ان کی طرف رجوع کرنے لگے۔ تقریباً 94 برس دنیا میں گزارنے کے بعد انہوں نے پردہ فرمایا۔ مؤرخین نے آپ کا سنۂ وفات 3 اپریل 1325ء لکھا ہے۔حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے وصال کے تقریباً 6 ماہ بعد امیر خسرو نے بھی دنیا ترک کردی۔ خسرو نے اپنے مرشد کی شان میں کئی منقبتیں کہیں۔ ان کی قبر بھی حضرت صاحب کے مزار سے کچھ فاصلے پر واقع ہے۔حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی شخصیت سے ہندو۔ مسلم۔ سکھ اور عیسائی ہر کوئی عزت و عظمت اور قدر و منزلت کا تعلق رکھتا ہے۔ آج بھی مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ان کے مزار پر حاضری دیتے ہیں۔

باؤلی اور چراغوں کا واقعہ

روایت ہے کہ حضرت نظام الدین اولیاءؒ مسجد کی تعمیر کروا رہے تھے۔ 4 افراد تعمیری کام میں سارا دن مصروف رہتے تھے۔ بادشاہ وقت کی عمارات کی تعمیر بھی جاری تھی اور تمام راج مزدور بادشاہ کے محلات کی تعمیر میں دن بھر کام کرتے تھے۔یہ 4 افراد رات کو حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی مسجد کی تعمیر چراغوں کی روشنی میں کرتے تھے۔ دن میں ان چاروں کو اونگھ آتی تھی جس پر کام کروانے والا پریشان تھا۔ معلوم کرنے پر پتا چلا کہ وہ رات کو چراغوں کی روشنی میں حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے ہاں کام کرتے ہیں۔اس نے بادشاہ وقت کو بتایا۔ بادشاہ کو حضرت کی کرامات کا علم نہ تھا۔ اس نے چراغ روشن کرنے کے لیے سرسوں کے تیل پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کروایا۔حضرت نظام الدین اولیاءؒ کو جب اس کا علم ہوا تو فرمایا کہ باؤلی میں پانی ہے۔ وہاں سے تھوڑا پانی لے آؤ۔ باؤلی سے پانی لایا گیا۔ حضرت نظام الدین اولیاءؒ نے اس پانی کو چراغوں میں ڈلوایا اور چراغوں کی بتیاں روشن کردیں۔ تمام چراغ روشن ہوگئے۔جب اس بات کا علم حکمران وقت کو ہوا تو وہ خود حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور معافی طلب کی۔ یہی وہ باؤلی ہے جو آج بھی موجود ہے۔ اس کے پانی سے غسل کرنے سے بیماریوں میں شفا ملنے کا عقیدہ بھی لوگوں میں آج تک پایا جاتا ہے۔

بارش کے لیے دعا

ایک مرتبہ دہلی میں کئی دن تک بارش نہ ہوئی۔ لوگ بارش نہ ہونے سے بہت پریشان تھے۔ بہت سے لوگ اکٹھے ہوکر حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ کئی دن ہوگئے ہیں دہلی میں بارش نہیں ہوئی۔ اسی پریشانی کی وجہ سے وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں اور دعا کی درخواست کرتے ہیں۔یہ بات سن کر حضرت نظام الدین اولیاءؒ نے اپنی جیب سے اپنی والدہ ماجدہ کی قمیص کا ایک کپڑا نکالا اور اسے اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیا۔ پھر دعا فرمائی۔’’اے اللہ۔ اس کپڑے کی حرمت کے طفیل جو ایک ضعیفہ کی قمیص کا ہے اور جس پر کسی نامحرم کی نگاہ نہیں پڑی۔ تو بارش برسا دے۔‘‘کہا جاتا ہے کہ حضرت کی دعا قبول ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان پر کالی گھٹائیں چھا گئیں۔ بادل آئے اور مینہ برسا کر چلے گئے۔حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی ذات سے منسوب متعدد کرامات اور واقعات ان پر لکھی گئی کتابوں میں موجود ہیں۔

خلفاء اور وصیت

کہا جاتا ہے کہ حضرت نظام الدین اولیاءؒ نے تقریباً 600 خلفائے چشتیہ مقرر کیے۔ ان میں نصیر الدین محمود۔ چراغ دہلوی۔ امیر خسرو۔ برہان الدین۔ جلال الدین پیر مانک بھاندڑی اور سید محمود کش کے نام شامل ہیں۔ان کے پیر و مرشد میں بابا فرید الدین گنج شکرؒ۔ قطب الدین بختیار کاکیؒ اور خواجہ غریب نواز معین الدین چشتیؒ شامل ہیں۔روایت ہے کہ حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی وصیت پر خواجہ محمد اقبال نے ہزاروں میں غلہ غربا و مساکین میں تقسیم کردیا اور ایک دانہ بھی باقی نہ چھوڑا۔

آج بھی روشن ہے چراغ

حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی زندگی محبت۔ شفقت۔ علم اور خدمت کی ایسی روایت سے عبارت ہے جس نے مختلف طبقات کے لوگوں کو ان سے جوڑا۔ آج بھی ان کے مزار پر مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔اللہ والوں کی یہی شان بیان کی جاتی ہے کہ جہاں انہوں نے قیام کیا وہاں دل و دماغ پر خدا کی اہمیت اور توحید کا چراغ روشن ہونے لگا۔ دہلی میں حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی یاد سے وابستہ یہ چراغ آج بھی روشن ہے اور ان کے عقیدت مندوں کے لیے روحانی وابستگی کا مرکز بنا ہوا ہے۔