گوالیار: مدھیہ پردیش کے شہر گوالیار میں واقع مہاراج باڑہ کے گورکھی احاطے میں واقع دیو گھر میں ایک بار پھر سندھیا شاہی خاندان کی تقریباً 300 سال قدیم مذہبی روایت کا منظر دیکھنے کو ملا، جہاں مرکزی وزیر اور سندھیا شاہی خاندان کے سربراہ جیوتی رادتیہ سندھیا نے صوفی بزرگ بابا منصور شاہ کے عرس کے موقع پر روایتی طور پر حاضری دی اور خصوصی پوجا ارچنا کرکے ان کے تئیں اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بابا منصور شاہ کے حضور عقیدت کے پھول نذر کیے اور ریاست کے عوام کی خوش حالی، امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے دعائیں مانگیں۔
سندھیا خاندان میں صوفی بزرگ بابا منصور شاہ کی عقیدت اور ان کی یاد میں خصوصی پوجا کی یہ روایت تقریباً تین صدیوں سے جاری ہے۔ اس روایت کی بنیاد ایک ایسے تاریخی واقعے سے جڑی ہوئی ہے، جسے سندھیا خاندان میں آج بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ اس واقعے کا تعلق مرہٹہ سلطنت کے عظیم جنگجو اور سندھیا خاندان کے بانی مہادجی سندھیا سے ہے، جن کے بارے میں مشہور ہے کہ پانی پت کی تیسری جنگ کے بعد بابا منصور شاہ کی دعاؤں اور برکت سے ان کی زندگی محفوظ رہی۔
WATCH | Gwalior, Madhya Pradesh: Union Minister Jyotiraditya Scindia visited the shrine of Sufi saint Mansoor Shah Auliya at Maharaj Bada in Gwalior. He says, "We offered prayers to Mansoor Shah. May his blessings always remain upon our region and upon us; this is our prayer." pic.twitter.com/0Bpyrxf6Bw
— TIMES NOW (@TimesNow) September 29, 2026
پانی پت کی جنگ، مہادجی سندھیا کی شدید زخمی حالت اور بابا منصور شاہ کی پیش گوئی
تاریخی روایات اور مقامی عقائد کے مطابق، 1761 میں پانی پت کی تیسری جنگ کے دوران مہادجی سندھیا شدید زخمی ہوگئے تھے۔ اس جنگ میں مرہٹہ فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا اور مہادجی سندھیا بھی زخمی ہونے کے بعد زندگی اور موت کی کشمکش سے دوچار تھے۔ اس دوران گوالیار میں موجود ان کے اہل خانہ کو ان کی خیریت کے حوالے سے شدید تشویش لاحق تھی۔ خاندان کے افراد کو ان کی واپسی اور سلامتی کے بارے میں کوئی یقینی اطلاع نہیں مل رہی تھی۔
روایت کے مطابق، مہادجی سندھیا کی والدہ اور اہلیہ اس مشکل وقت میں مشہور صوفی بزرگ بابا منصور شاہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ان سے مہادجی سندھیا کی سلامتی کے لیے دعا کی درخواست کی۔ بابا منصور شاہ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے یقین دلایا کہ مہادجی محفوظ ہیں اور جلد ہی صحیح سلامت واپس لوٹ آئیں گے۔
کہا جاتا ہے کہ بعد ازاں جب مہادجی سندھیا جنگ کے بعد زندہ اور محفوظ واپس لوٹے تو ان کے اہل خانہ نے اسے بابا منصور شاہ کی دعا اور روحانی برکت کا نتیجہ قرار دیا۔ اس واقعے نے سندھیا خاندان کے دلوں میں صوفی بزرگ کے لیے عقیدت کو مزید مستحکم کردیا اور ان سے وابستہ ایک ایسی روایت کی بنیاد پڑی جو آج تک جاری ہے۔
.webp)
بابا منصور شاہ کی عطا کردہ ’آدھی روٹی‘ اور پانچ نسلوں تک شاہی اقتدار کی بشارت
سندھیا خاندان سے وابستہ اس تاریخی روایت کا ایک اور اہم پہلو بابا منصور شاہ کی جانب سے مہادجی سندھیا کو آدھی روٹی کا ایک ٹکڑا عطا کیا جانا ہے۔ خاندانی روایت کے مطابق، بابا منصور شاہ نے مہادجی سندھیا کو یہ روٹی دیتے ہوئے ان کے خاندان کے لیے برکت اور خوش حالی کی دعا کی تھی۔ اس موقع پر انہوں نے پیش گوئی کی تھی کہ سندھیا خاندان کی آئندہ پانچ نسلیں شاہانہ شان و شوکت اور خوش حالی کے ساتھ حکومت کریں گی۔
اس آدھی روٹی کو سندھیا خاندان میں محض ایک تاریخی یادگار نہیں، بلکہ بابا منصور شاہ کی روحانی نسبت اور ان کی دعاؤں کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ خاندان کے افراد کے لیے یہ ایک مقدس تبرک کی حیثیت رکھتی ہے، جس سے ان کی تین صدیوں پرانی عقیدت وابستہ ہے۔
گورکھی کے دیو گھر میں آج بھی محفوظ ہیں آدھی روٹی کے آثار
سندھیا خاندان کے قریبی ساتھی بال کھانڈے کے مطابق، بابا منصور شاہ کی عطا کردہ آدھی روٹی آج بھی خاندان کے لیے ایک نہایت قیمتی اور مقدس تبرک ہے۔ اس کے باقی ماندہ آثار گوالیار کے گورکھی احاطے میں واقع دیو گھر میں محفوظ رکھے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بابا منصور شاہ کی یاد سے وابستہ دیگر اشیا بھی یہاں پوری عقیدت اور حفاظت کے ساتھ رکھی گئی ہیں۔
بال کھانڈے کے مطابق، ان مقدس تبرکات کی ہر سال مقررہ روایت کے مطابق باقاعدہ پوجا کی جاتی ہے۔ اس طرح بابا منصور شاہ سے وابستہ عقیدت اور ان کی یاد کو سندھیا خاندان نے نسل در نسل برقرار رکھا ہے۔
گورکھی کا دیو گھر اس اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ یہاں محفوظ تبرکات سندھیا خاندان کی مذہبی اور تاریخی روایت کے ساتھ ساتھ صوفی بزرگ بابا منصور شاہ سے اس کے دیرینہ تعلق کی یاد دلاتے ہیں۔ ہر سال عرس کے موقع پر یہاں ہونے والی خصوصی پوجا اس روایت کے تسلسل کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
.jpeg)
جیوتی رادتیہ سندھیا نے سوشل میڈیا پر عقیدت کا اظہار کیا
بابا منصور شاہ کے عرس کے موقع پر گورکھی کے دیو گھر میں پوجا ارچنا کے بعد مرکزی وزیر جیوتی رادتیہ سندھیا نے سوشل میڈیا پر بھی اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ آج انہوں نے گوالیار کے مہاراج باڑہ میں واقع گورکھی مندر میں بابا منصور شاہ کے عرس کے موقع پر پوجا ارچنا کرکے ان کا آشیرواد حاصل کیا۔
انہوں نے بابا منصور شاہ کو سندھیا خاندان کا رہنما اور قابلِ احترام بزرگ قرار دیتے ہوئے ان کے حضور عقیدت پیش کی۔ اپنے پیغام میں جیوتی رادتیہ سندھیا نے ملک کے تمام باشندوں کے لیے امن، خوش حالی، ترقی اور ہمہ جہت فروغ کی دعا بھی کی۔
انہوں نے ایک دوسرے پیغام میں روایت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ روایتیں اپنی جڑوں کو مضبوط کرتی ہیں اور نئی توانائی اور آشیرواد کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ان کے اس پیغام میں خاندانی روایات سے وابستگی اور بزرگوں کے تئیں احترام کا اظہار نمایاں تھا۔
تین صدیوں سے جاری روایت، صوفیانہ عقیدت اور خاندانی ورثے کی علامت
بابا منصور شاہ کے عرس کے موقع پر جیوتی رادتیہ سندھیا کی گورکھی دیو گھر میں حاضری اور خصوصی پوجا ارچنا سندھیا خاندان کی قدیم روایت کے تسلسل کی ایک اہم کڑی ہے۔ تقریباً تین سو سال سے جاری اس روایت کے پس منظر میں مہادجی سندھیا سے وابستہ تاریخی واقعہ، بابا منصور شاہ کی دعاؤں سے متعلق خاندانی عقیدہ اور ان کی عطا کردہ آدھی روٹی کے تبرک کی کہانی شامل ہے۔
یہ روایت اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ سندھیا خاندان نے صوفی بزرگ بابا منصور شاہ سے اپنی روحانی وابستگی کو محض ایک تاریخی واقعے تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے نسل در نسل منتقل کیا ہے۔ آج بھی ان کے عرس کے موقع پر ہونے والی پوجا ارچنا اسی دیرینہ عقیدت اور خاندانی ورثے کی یاد تازہ کرتی ہے۔
.jpeg)
گوالیار کے گورکھی احاطے میں منعقد ہونے والی یہ سالانہ مذہبی تقریب نہ صرف سندھیا خاندان کی روایات کا حصہ ہے، بلکہ اس شہر کی تاریخی اور ثقافتی شناخت سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ بابا منصور شاہ کے تئیں عقیدت، ان سے وابستہ تاریخی روایات اور ان کے تبرکات کی حفاظت اس روایت کو ایک منفرد اہمیت عطا کرتی ہے۔