درگا پوجا : بال بناتے ہیں مسلمان کاریگر، مغربی بنگال میں ہندو مسلم ہم آہنگی کی منفرد مثال

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 20-10-2026
درگا پوجا : بال بناتے ہیں مسلمان کاریگر، مغربی بنگال میں ہندو مسلم ہم آہنگی کی منفرد مثال
درگا پوجا : بال بناتے ہیں مسلمان کاریگر، مغربی بنگال میں ہندو مسلم ہم آہنگی کی منفرد مثال

 



 گروویندر سنگھ

مغربی بنگال کا سب سے بڑا تہوار درگا پوجا کئی ہفتوں کی تیاریوں کے بعد بڑے پیمانے پر منایا جا رہا ہے۔ یہ تہوار دیوی درگا کی شکل بدلنے والے اسُروں کے خلاف فتح کی یاد میں منایا جاتا ہے اور اسے برائی پر اچھائی کی فتح کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ کورونا وبا کے بعد پابندیوں میں نرمی کے بعد بڑے پیمانے پر ہونے والی تقریبات نے اس بار تہوار کی رونق مزید بڑھا دی ہے۔اکتوبر اور نومبر کے دوران عموماً دس روز تک جاری رہنے والی درگا پوجا ہندوستان بھر کی ہندو برادری، خصوصاً مغربی بنگال کے لیے انتہائی اہم تہوار ہے۔ دسمبر 2021 میں یونیسکو نے بھی درگا پوجا کو انسانیت کے غیر محسوس ثقافتی ورثے کی نمائندہ فہرست میں شامل کیا تھا۔لیکن اس عظیم تہوار کی تیاریوں میں صرف ہندو کاریگر ہی شامل نہیں ہوتے۔ مغربی بنگال کے ہاوڑہ ضلع کے پربتی پور گاؤں میں سیکڑوں مسلمان کاریگر کئی دہائیوں سے درگا کی مورتیوں کے لیے مصنوعی بال تیار کرتے آ رہے ہیں۔

ہزاروں درگا مورتیوں کے لیے مسلمان بناتے ہیں بال

درگا پوجا کے موقع پر ملک کے مختلف حصوں میں قائم پنڈالوں کو سجانے کے لیے بڑی تعداد میں مٹی کی دیوہیکل مورتیوں کو تیار کیا جاتا ہے۔ ان مورتیوں کو سجانے میں مختلف کاریگروں کا کردار ہوتا ہے۔32 سالہ شیخ شاہ الدین ان کاریگروں میں شامل ہیں، جو تہوار سے قبل مسلسل کئی دن مصنوعی بالوں کی لٹیں تیار کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تہوار سے قبل کام کا دباؤ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ وہ روزانہ تین گھنٹے سے زیادہ سو بھی نہیں پاتے۔شاہ الدین کا تعلق مسلمان برادری سے ہے، لیکن وہ کئی برسوں سے دیوی درگا کی مورتیوں کے لیے مصنوعی بال تیار کر رہے ہیں۔ وہ اکیلے نہیں ہیں۔ ہاوڑہ ضلع کے پربتی پور گاؤں میں 900 سے زیادہ مسلمان کاریگر گزشتہ تقریباً چھ دہائیوں سے درگا کی مورتیوں کے لیے بال تیار کرنے کے کام سے وابستہ ہیں۔گاؤں میں تیار کیے جانے والے مصنوعی بال ریاست کے مختلف علاقوں میں تقریباً 40 ہزار درگا مورتیوں کی زینت بنتے ہیں۔

شاہ الدین کہتے ہیں،
’’ہم جو مصنوعی بال بناتے ہیں، ان سے پوری ریاست اور اس سے باہر بھی دیوی کی مورتیوں کو سجایا جاتا ہے۔ ہم مسلمان ہیں، ہمارے عقائد اور روایات مختلف ہیں، لیکن اس کے باوجود ہم ہندو دیوی کے تہوار کے لیے کام کرتے ہیں۔ ہمیں کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ اس میں کوئی غلط بات ہے۔‘‘وہ مزید کہتے ہیں کہ درگا پوجا کا موسم ان کے لیے سال کا سب سے مصروف وقت ہوتا ہے، اس لیے تیار شدہ سامان جلد از جلد مختلف مقامات پر بھیجنا پڑتا ہے۔

یہ روایت کیسے شروع ہوئی؟

پربتی پور میں مسلمانوں کے درگا مورتیوں کے لیے مصنوعی بال بنانے کی روایت تقریباً چھ دہائیاں پرانی ہے۔ 65 سالہ بزرگ کاریگر نور حسین اس روایت کی ابتدا کے بارے میں بتاتے ہیں کہ یہ کام گاؤں کے ایک مسلمان باشندے اخلاص چچا نے شروع کیا تھا۔نور حسین کے مطابق اخلاص چچا نے یہ ہنر باہر سے سیکھا تھا اور تقریباً 60 برس قبل اسے اپنے گاؤں میں شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔اس وقت دیوی کی مورتیوں کے لیے مصنوعی بال کسی دوسرے مہنگے مواد سے تیار کیے جاتے تھے، جس کے باعث مورتیوں کی قیمت بھی بڑھ جاتی تھی۔ اخلاص چچا نے اس مہنگے مواد کی جگہ رنگے ہوئے جوٹ کے گٹھوں سے بال تیار کرنا شروع کیے۔

اس کے بعد درگا پوجا کے منتظمین بڑی تعداد میں ان کے پاس آرڈر دینے کے لیے آنے لگے۔نور حسین کے مطابق گاؤں کے غریب اور ناخواندہ نوجوان بھی اس کام میں شامل ہوتے گئے اور وقت کے ساتھ کاریگروں کی تعداد بڑھتی گئی۔ اخلاص چچا نے دوسرے لوگوں کو بھی اپنی یونٹ شروع کرنے کی ترغیب دی، جس کے نتیجے میں یہ کاروبار پورے گاؤں میں پھیل گیا۔

جوٹ سے تیار ہوتے ہیں مصنوعی بال

کاریگروں کے مطابق مصنوعی بال بنانے کے لیے جوٹ کے گٹھوں کو سیاہ رنگ میں رنگا جاتا ہے اور کئی دن تک دھوپ میں خشک کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد انہیں کم از کم 14 مختلف مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ آخر میں تیار شدہ بال پیک کرکے درگا پوجا کے منتظمین کو بھیج دیے جاتے ہیں۔

خام مال کی بڑھتی قیمتیں کاریگروں کے لیے چیلنج

وبا کے بعد درگا پوجا اس بار بڑے پیمانے پر منعقد کی جا رہی ہے، لیکن کاریگروں کے مسائل مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے ہیں۔

40 سالہ انورال حسین کہتے ہیں،
’’گزشتہ دو سال ہمارے لیے انتہائی مشکل تھے کیونکہ کام تقریباً ختم ہو گیا تھا۔ گھر کے بنیادی اخراجات پورے کرنا بھی دشوار ہو گیا تھا۔ وبا میں کمی آنے کے بعد ہمیں دوبارہ کام شروع کرنے کا موقع ملا ہے۔ اس سال اچھے آرڈر ملے ہیں اور کام پوری رفتار سے جاری ہے۔‘‘تاہم ان کے مطابق خام مال کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ مورتی بنانے والے کاریگر مصنوعی بالوں کی قیمت بڑھانے کو تیار نہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس بجٹ محدود ہے۔انورال حسین کہتے ہیں کہ ان کے پاس یہ کام جاری رکھنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں، کیونکہ یہی ان کے روزگار کا بنیادی ذریعہ ہے۔

سخت محنت، کم آمدنی اور صحت کے مسائل

کاریگروں کا کہنا ہے کہ مصنوعی بال بنانے کے لیے انہیں انتہائی مشکل حالات میں کام کرنا پڑتا ہے۔26 سالہ شاہ الدین ملک کے مطابق بالوں کو رنگنے کے لیے بڑے برتنوں میں انہیں بھٹی کے سامنے کھڑا رہنا پڑتا ہے۔ شدید گرمی کی وجہ سے سانس کے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور بہت سے کاریگر مسلسل کھانسی اور دیگر بیماریوں کا شکار رہتے ہیں۔رنگنے کے بعد جوٹ کے گٹھوں کو تیز دھوپ میں خشک کرنے کے لیے بھی کئی گھنٹے کھڑے رہنا پڑتا ہے۔شاہ الدین ملک کہتے ہیں کہ کئی گھنٹے روزانہ سخت محنت کرنے کے باوجود ان کی آمدنی عموماً 10 سے 12 ہزار روپے کے درمیان رہتی ہے۔

مورتی بنانے والے کاریگر بھی مشکلات سے دوچار

صرف مصنوعی بال بنانے والے کاریگر ہی مشکلات کا شکار نہیں بلکہ درگا کی مورتیاں تیار کرنے والے فنکار بھی بڑھتی ہوئی لاگت سے پریشان ہیں۔75 سالہ بزرگ مورتی ساز بادل داس کے مطابق مورتی بنانے میں استعمال ہونے والی مٹی، بھوسے اور بانس سمیت دیگر خام مال کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ مورتی فروخت کرنے کے بعد بمشکل کچھ منافع بچتا ہے۔ پوجا کمیٹیوں کے منتظمین بھی زیادہ قیمت دینے پر آمادہ نہیں کیونکہ ان کے مطابق چندے سے حاصل ہونے والی رقم محدود ہے۔بادل داس کہتے ہیں، ’’صورتحال اچھی نہیں ہے اور اس سال منافع بھی بہت کم ہے۔‘‘

’’یہ تہوار ہندو مسلم اتحاد کی مثال ہے‘‘

مشکلات اور کم منافع کے باوجود کاریگروں کا کہنا ہے کہ درگا پوجا ہندوستان کے مضبوط سماجی تانے بانے کی ایک مثال ہے۔ ان کے مطابق مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ نسلوں سے ایک دوسرے کی خوشیوں، غموں اور روزمرہ زندگی میں شریک رہے ہیں۔کاریگروں کا کہنا ہے کہ بعض مفاد رکھنے والے عناصر سماج میں مذہبی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن پربتی پور جیسے مقامات کی روایت اس کے برعکس ایک مختلف ہندوستان کی تصویر پیش کرتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ درگا کے سامنے دعا کرتے ہیں کہ کوئی بھی شخص ان دونوں برادریوں کے درمیان اس اتحاد کو کبھی نہ توڑ سکے، جو زمانۂ قدیم سے ایک ساتھ رہتی، ہنستی اور دکھ سکھ بانٹتی آئی ہیں۔پربتی پور کے مسلمان کاریگروں کی یہ روایت اس بات کی ایک عملی مثال ہے کہ مذہبی عقائد الگ ہونے کے باوجود محنت، روزگار، ثقافت اور تہوار لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑ سکتے ہیں۔