: نئی دہلی سڑک پر بادشاہ کا قافلہ آ رہا تھا۔ محافظوں نے راستہ خالی کرانے کے لیے سامنے سے آنے والے لوگوں کو روک دیا۔ ان کے کندھوں پر درگا کی مورتی تھی۔ سپاہیوں نے انہیں راستے سے ہٹنے کو کہا لیکن باسودیب مکھرجی نے صاف انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ماں درگا کی مورتی لے کر جا رہے ہیں اور اسے راستے سے ہٹا کر بادشاہ کے لیے جگہ نہیں بنائیں گے۔
بات بادشاہ تک پہنچی۔ بادشاہ نے خود آگے آ کر معاملہ معلوم کیا۔ جب اسے پتہ چلا کہ سامنے درگا کی مورتی لے کر عقیدت مند جا رہے ہیں تو اس نے خود راستہ چھوڑ دیا۔ یوں بادشاہ کا قافلہ ایک طرف ہو گیا اور درگا کی مورتی اپنے راستے پر آگے بڑھ گئی۔
یہ واقعہ تقریباً 1693 کا بتایا جاتا ہے۔ دہلی کے تخت پر اس وقت اورنگزیب کی حکومت تھی اور بردوان کے سوئی گاؤں میں ایک ایسی درگا پوجا کی بنیاد پڑی جو 3 صدیوں سے زیادہ عرصے بعد بھی سلامت ہے۔ مکھرجی خاندان کی یہ قدیم درگا پوجا اب اپنے 334ویں سال میں داخل ہو چکی ہے۔
ایک خواب اور ایک عقیدت مند
اس پوجا کی کہانی ایک خواب سے شروع ہوتی ہے۔ مکھرجی خاندان کے بزرگ باسودیب مکھرجی اصل میں بردوان کے فرید پور کے رہنے والے تھے۔ تعلیم حاصل کرنے کے لیے وہ سوئی گاؤں آئے تھے۔ بعد میں انہوں نے اسی گاؤں کی ایک لڑکی سے شادی کی اور یہیں آباد ہو گئے۔ایک رات باسودیب مکھرجی نے خواب دیکھا۔ خواب میں ماں درگا نے انہیں بتایا کہ فرید پور میں ان کی مورتی بے یار و مددگار پڑی ہوئی ہے۔باسودیب مکھرجی نے خواب کو ماں درگا کا پیغام سمجھا۔ وہ اپنے 3 بیٹوں اور خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ فرید پور میں واقع اپنے آبائی گھر پہنچے۔ وہاں سے درگا کی خاندانی مورتی کا ڈھانچہ اپنے کندھوں پر اٹھایا اور سوئی گاؤں کی طرف روانہ ہو گئے۔
خاندانی تاریخ کی روایت
راستے میں ہی وہ واقعہ پیش آیا جس کا ذکر آج بھی اس خاندان کی روایت میں کیا جاتا ہے۔جس کے بعد سوئی گاؤں پہنچنے کے بعد درگا کی مورتی کے لکڑی کے ڈھانچے پر مٹی چڑھائی گئی۔ اسے رنگ کیا گیا اور مورتی کو مٹی کی شکل دی گئی۔ اسی کے ساتھ سوئی گاؤں میں مکھرجی خاندان کی درگا پوجا کا آغاز ہوا۔اس پوجا کو شاندار انداز میں جاری رکھنے کے لیے مکھرجی خاندان کو زمین۔ تالاب اور دیگر جائیدادیں بھی عطیہ کی گئیں۔ وقت گزرتا گیا۔ نسلیں بدلتی گئیں لیکن پوجا کی روایت برقرار رہی۔آج یہ پوجا اپنے 334ویں سال میں داخل ہو چکی ہے۔ خاندان کی پرانی مذہبی کتابوں اور روایتی طریقوں کے مطابق آج بھی رسومات ادا کی جاتی ہیں۔
خاندانی پوجا میں عوام
یہ خاندانی پوجا ضرور ہے لیکن اس میں پورا گاؤں شریک ہوتا ہے۔ سوئی گاؤں کے علاوہ آس پاس کے علاقوں سے بھی لوگ یہاں پہنچتے ہیں۔ پوجا دیکھتے ہیں۔ آرتی میں شریک ہوتے ہیں اور بھوگ پرساد کھاتے ہیں۔ صدیوں سے لوگوں کو پتوں کی پلیٹ میں کھانا کھلانے کی روایت بھی جاری ہے۔پوجا کے دوران قربانی کی قدیم روایت بھی برقرار ہے۔ مہاسپتمی اور مہا اشٹمی کے دن بکرے کی قربانی دی جاتی ہے۔ گنے کی قربانی بھی ہوتی ہے۔ مہانومی کے دن بھینس۔ مینڈھے اور بکرے کی قربانی کی روایت بھی موجود ہے۔پوجا کے 3 دن تک خاندان کے گھر میں ایک مہادیپ مسلسل روشن رہتا ہے۔ اسے گائے کے گھی سے جلایا جاتا ہے اور اس کی لو کو بجھنے نہیں دیا جاتا۔ خاندان کا ایک فرد ہر روز اس کی نگرانی کی ذمہ داری سنبھالتا ہے۔
مہاششٹھی کے دن کلپارمبھ کے ساتھ پوجا شروع ہوتی ہے۔ اس کے بعد سولہ طریقوں سے پوجا کی جاتی ہے۔ مقامی مہادیو مندر کے ودھیشور بابا کے تانت پوکھر سے نوب پترکا کو غسل کرا کر لایا جاتا ہے۔ اسے پالکی میں بٹھا کر پوجا کے مقام تک پہنچایا جاتا ہے۔مہا اشٹمی کی سندھی پوجا اس پورے سلسلے کا اہم مرحلہ ہوتی ہے۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں۔ 6 بوری آتپ چاول کے مہاراس سمیت مختلف نذر و نیاز پیش کیے جاتے ہیں۔
334 سال بعد بھی مکھرجی خاندان کی درگا پوجا سوئی گاؤں کی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ ۔یہی وجہ ہے کہ سوئی گاؤں کی یہ درگا پوجا صرف ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ کئی نسلوں سے چلی آ رہی ایک زندہ تاریخی روایت بن چکی ہے۔