ٹیکسی ڈرائیور سے ایشین گیمز تک ۔ ماں کو سلمان خان پر فخر

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 25-09-2026
ٹیکسی ڈرائیور سے ایشین گیمز تک ۔ ماں کو سلمان خان پر فخر
ٹیکسی ڈرائیور سے ایشین گیمز تک ۔ ماں کو سلمان خان پر فخر

 



امروہہ: ایشین گیمز میں روئنگ کے مقابلے میں کانسے کا تمغہ جیتنے والے سلمان خان کا سفر مشکلات سے جدوجہد اور کامیابی تک پہنچنے کی ایک مثال ہے۔ خاندان کی کفالت کے لیے ٹیکسی چلانے سے لے کر فوج میں شمولیت اور پھر ایشین گیمز کے پوڈیم تک پہنچنے والے سلمان خان نے اپنی محنت سے ایک نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔سلمان خان اور ستنام سنگھ کی جوڑی نے جمعرات کو مردوں کے ڈبل اسکلز فائنل میں کانسے کا تمغہ جیتا۔ دونوں نے 6:13.25 کا وقت درج کیا۔ وہ طلائی تمغہ جیتنے والی چین کی یی شودی اور نی ییدے کی جوڑی سے 3.48 سیکنڈ پیچھے رہے جبکہ چاندی کا تمغہ جیتنے والی میخروج بیک ماماتکولوف اور پاویل سورین کی جوڑی سے 2.76 سیکنڈ پیچھے رہے۔

اے این آئی سے گفتگو میں سلمان خان کی والدہ زیب النسا نے بیٹے کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نے پورے ملک کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سلمان کے مقابلے میں حصہ لینے کے بعد سے ہی گھر کے لوگ اس کی کامیابی کے لیے دعائیں کر رہے تھے۔ مقابلے کے دن بھی گھر کے تمام افراد صبح تقریباً 4 بجے اٹھ گئے تھے اور 5 بجے انہیں سلمان کے تمغہ جیتنے کی خبر ملی۔ انہوں نے کہا کہ گھر کے ساتھ پورا گاؤں اور پڑوسی بھی اس کامیابی پر بے حد خوش ہیں۔سلمان کی والدہ نے بتایا کہ خاندان نے انتہائی مشکل حالات کا سامنا کیا ہے۔ ابتدا میں وہ لوگ ہریانہ میں رہتے تھے۔ والد کے انتقال کے بعد خاندان کو وہاں سے واپس آنا پڑا۔ اس وقت سلمان کی عمر تقریباً 17 یا 18 سال تھی جبکہ اس کے چھوٹے بہن بھائی بہت کم عمر تھے۔

انہوں نے بتایا کہ خاندان میں 6 بچے ہیں جن میں 4 بیٹے اور 2 بیٹیاں ہیں۔ والد کے انتقال کے وقت سب سے چھوٹا بچہ صرف ایک سال کا تھا۔ ایسے حالات میں سلمان نے خاندان کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لے لی اور روزگار کے لیے ٹیکسی چلانا شروع کردی۔سلمان کی والدہ کے مطابق رشتہ داروں اور پڑوسیوں نے اسے مشورہ دیا کہ اس کا جسم مضبوط ہے اس لیے اسے فوج میں بھرتی ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔ سلمان نے پہلی مرتبہ فوج میں بھرتی کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ اس کے بعد وہ مایوس ہوگیا اور دوبارہ کوشش نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے کہا کہ وہ اولہ کیب چلاتا رہے گا۔

تاہم بعد میں سلمان نے دوبارہ کوشش کی اور اس مرتبہ کامیاب ہوگیا۔ فوج میں شمولیت کے بعد اس کی جسمانی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے اسے کھیلوں کے لیے منتخب کیا گیا۔ ابتدا میں سلمان کھیلوں میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا تھا لیکن فوجی حکام نے اس کی فٹنس کو دیکھتے ہوئے اسے کھیل جاری رکھنے کا موقع دیا۔اس کے بعد سلمان نے مختلف مقابلوں میں متعدد تمغے جیتے۔ اس کی والدہ کے مطابق گھر میں آج بھی اس کے جیتے ہوئے کئی تمغے محفوظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سلمان نے اس مقام تک پہنچنے کے لیے کئی برس سخت محنت کی اور آخرکار اس کی دعائیں رنگ لائیں۔سلمان خان کی کہانی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خاندانی ذمہ داریوں سے جکڑے ایک نوجوان نے ٹیکسی چلا کر اپنے گھر کا سہارا بننے سے لے کر فوج میں کھیلوں کے میدان تک اور پھر ایشین گیمز کے پوڈیم تک کا سفر کیسے طے کیا۔